المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
394. ذكر الأسود بن خلف بن عبد يغوث رضى الله عنه
سیدنا اسود بن خلف بن عبد یغوث رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 5366
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا إبراهيم بن إسحاق، حدَّثنا مصعب بن عبد الله الزُّبَيري، قال: اسمُ الحَضْرمي والدِ العلاء عبدُ الله بن عباد بن أكبَرَ (2) بن رَبيعة بن مالك بن عُوَيف (3) بن مالك بن الخَزْرج، وكان حليفَ حَرْب بن أُميّة، وإنما قيل له: الحضرميُّ، لأنه أتى من حَضْرمَوت، وكان رسولُ الله ﷺ استعملَه على البَحرَين، ثم إنَّ عمر استعملَه على البَحرَين، فتوفي بها، فاستعمل مكانَه أبا هُريرة الدَّوسي، قال: وإنما توفي العلاء بن الحَضْرمي بالبَحرَين سنة إحدى وعشرين (1) . ذكرُ الأسوَد بن خَلَف بن عبد يَغُوثَ ﵁ -
صعب بن عبداللہ زبیری فرماتے ہیں: سیدنا علاء رضی اللہ عنہ کے والد حضرمی کا نام ”عبدالله بن عتاب بن جبیر بن ربیعہ بن مالک بن عویف بن مالک بن خزرج“ ہے۔ یہ حرب بن امیہ کے حلیف تھے۔ ان کو حضرمی کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا تعلق حضرموت (علاقے کے) ساتھ ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بحرین کا گورنر بنایا تھا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ان کو بحرین کا گورنر ہی رکھا، یہیں پر ان کا انتقال ہوا، ان کے انتقال کے بعد سیدنا ابوہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ کو بحرین کا گورنر بنایا۔ سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے 21 ہجری کو بحرین میں وفات پائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5366]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5366 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وقع في نسخنا الخطية هنا: عتاب بن جبير، وهو تحريفٌ صوَّبناه من الرواية الآتية برقم (6822) حيث كرر المصنف هناك ذكر العلاء بن الحضرمي، وأعاد النقل عن مصعب الزبيري في تسمية الحضرمي والد العلاء، وفاقًا لقول أبي عُبيد معمر بن المثنى في تسمية هذين الجدين كما أسنده عنه الطبراني في "الكبير" 18/ (164) وكذلك سماهما ابن هشام في "السيرة" 1/ 229، وخليفةُ بنُ خياط في "الطبقات" ص 12 و 18، لكن مع تقديم اسم ربيعة على أكبر، وزيادة ذكر مالك بين عبّاد وربيعة.
📝 نوٹ / توضیح: (2) ہمارے قلمی نسخوں میں یہاں "عتاب بن جبیر" لکھا گیا تھا جو کہ تحریف ہے۔ ہم نے اس کی تصحیح اگلی روایت نمبر (6822) سے کی ہے، جہاں مصنف نے علاء بن الحضرمی کا ذکر دوبارہ کیا اور ان کے والد الحضرمی کا نام مصعب الزبیری سے نقل کیا، جو ابو عبید معمر بن المثنیٰ کے قول کے موافق ہے (جیسا کہ طبرانی نے 18/ 164 میں مسنداً بیان کیا)۔ اسی طرح ابن ہشام نے "السیرۃ" (1/ 229) اور خلیفہ بن خیاط نے "الطبقات" (ص 12, 18) میں ان دونوں کے نام ذکر کیے ہیں، لیکن وہاں "ربیعہ" کو "اکبر" پر مقدم کیا گیا ہے اور عباد اور ربیعہ کے درمیان "مالک" کا اضافہ ہے۔
وانظر تعليق المعلِّمي اليماني على "الإكمال" لابن ماكولا 6/ 48 حيث بسط الخلاف في عباد.
📖 حوالہ / مصدر: مزید دیکھیں: معلمی یمانی کا "الاکمال" (ابن ماکولا) پر حاشیہ (6/ 48)، جہاں انہوں نے "عباد" کے بارے میں اختلاف کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
(3) كذلك وقع عند المصنف تسمية هذا الرجل عُويفًا، تصغير عوف، وكذلك سماه بعض أهل النسب كخليفة بن خياط، وسماه آخرون عُريفًا، بالراء بدل الواو، وذكر السمعاني وابن الأثير وابن حجر أنَّ العُريفي مصغرًا نسبةٌ إليه.
📝 نوٹ / توضیح: (3) مصنف کے ہاں اس آدمی کا نام "عُوَیف" (عوف کی تصغیر) آیا ہے، اسی طرح بعض ماہرینِ انساب جیسے خلیفہ بن خیاط نے نام دیا ہے۔ جبکہ دوسروں نے اسے "عُرَیف" (راء کے ساتھ) کہا ہے۔ سمعانی، ابن اثیر اور ابن حجر نے ذکر کیا ہے کہ "العُرَیفی" (تصغیر کے ساتھ) اسی کی طرف نسبت ہے۔
(1) انظر "نسب قريش" لمصعب الزبيري ص 366.
📖 حوالہ / مصدر: (1) دیکھیں: مصعب الزبیری کی "نسب قریش" (ص 366)۔
وانظر كذلك "الطبقات" لابن سعد 5/ 276 - 277 و 279 و "المؤتلف والمختلف" للدارقطني 4/ 1801 - 1802.
📖 حوالہ / مصدر: نیز دیکھیں: "الطبقات" از ابن سعد (5/ 276-277, 279) اور "المؤتلف والمختلف" از دارقطنی (4/ 1801-1802)۔
واستعمال النبي ﷺ للعلاء بن الحضرمي على البحرين ثابت في "صحيح البخاري" (3158) و "صحيح مسلم" (2961) من حديث المسور بن مخرمة.
📖 حوالہ / مصدر: نبی ﷺ کا علاء بن الحضرمی کو بحرین پر عامل (گورنر) بنانا "صحیح بخاری" (3158) اور "صحیح مسلم" (2961) میں مِسوَر بن مخرمہ کی حدیث سے ثابت ہے۔