🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
427. كان عبد الله بن مسعود صاحب سر رسول الله
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رازدار تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5444
أخبرني جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، حدَّثنا أحمد بن محمد بن الحجاج بن رشْدين المَهْري بمصر، قال: أمْلَى عليَّ موسى بن عون بن عبد الله بن عَون بن عبد الله بن عُتبة بن مسعود بن كاهِل بن حبيب بن نائر بن مخزوم، عن آبائه نسبة عبد الله بن مسعود بن كاهِل بن حَبيب بن نائر (1) بن مَخزُوم بن صاهِلة بن كاهِل بن الحارث بن تَميم بن سعد بن هُذيل بن مُدِركة بن الياسِ بن مُضَر بن نِزار.
احمد بن محمد حجاج بن رشد بن المہری کہتے ہیں کہ موسیٰ بن عون بن عبداللہ بن عون نے (ان کا نسب مجھے یوں) املاء کروایا عبداللہ بن مسعود بن کاہل بن حبیب بن تامر بن مخزوم بن صاہلہ بن کاہل بن حارث بن تمیم بن سعد بن ہزیل بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5444]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5444 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذلك جاء في نسخنا الخطية، وفي المطبوع: تامر، كالذي في مطبوع "الكبير" للطبراني 9/ (8401) عن أحمد بن محمد بن رشدين به، والمشهور في هذا الاسم عند أهل النسب: فار، بفاء ثم ألف بعدها راء، كما ضُبط في "الإكمال" 7/ 41، و "تبصير المنتبه" لابن حجر 3/ 1064، وذكر ابن ماكولا أنَّ ابن الكلبي زاد في آخر الاسم حرف الياء آخر الحروف، فقال: فاري. وفي "جامع الأصول" لابن الأثير في قسم التراجم 12/ 583 قال: قار، بالقاف، وقيل بالفاء.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام اسی طرح آیا ہے، جبکہ مطبوعہ نسخوں میں "تامر" ہے (جیسا کہ طبرانی کی الکبیر 9/ 8401 کے مطبوعہ نسخے میں احمد بن محمد بن رشدین کی روایت میں ہے)۔ لیکن ماہرینِ انساب کے نزدیک اس نام میں مشہور "فار" (ف، الف اور پھر ر) ہے، جیسا کہ "الاکمال" (7/ 41) اور ابن حجر کی "تبصیر المنتبہ" (3/ 1064) میں ضبط کیا گیا ہے۔ ابن ماکولا نے ذکر کیا ہے کہ ابن الکلبی نے اس کے آخر میں "ی" کا اضافہ کر کے "فاری" کہا ہے۔ ابن الاثیر نے "جامع الاصول" (تراجم: 12/ 583) میں اسے "قار" (قاف کے ساتھ) لکھا ہے اور فرمایا کہ "فاء" کے ساتھ بھی کہا گیا ہے۔