🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
427. كان عبد الله بن مسعود صاحب سر رسول الله
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رازدار تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5446
كما حدَّثَناه أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا الحَسن بن الجَهْم، حدَّثنا الحُسين بن الفَرَج، حدَّثنا محمد بن عمر، قال: وعبد الله بن مسعود بن غافِل بن حَبيب بن شَمْخ بن فار بن مخزوم بن صاهِلة بن كاهِل بن الحارث بن تميم بن سعد بن هُذيل بن مُدرِكة، وكان يُكنى بابنه عبد الرحمن: أبا عبد الرحمن، وكان أبوه مسعودُ ابن غافِل حالَفَ عبد الحارث بن زُهرة في الجاهلية، وأسلم عبدُ الله بن مسعود قبل دخول رسول الله ﷺ دار الأرقم، وشهد عبدُ الله بن مسعود عند جميع أهل السير بدرًا وأحُدًا والخندق والمشاهِدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ، وهاجَرَ الهِجرتَين، وكان صاحب سرِّ رسول الله ﷺ ووِسَادِه (1) وسِواكِه، ونَعْلِه وطَهُوره، وكان رجلًا نحيفًا قصيرًا شديدَ الأُدْمة، ومات بالمدينة سنة اثنتين وثلاثين، فَدُفِن بالبَقيع، وكان يومَ توفي - فيما قيل - ابنَ بضعٍ وستين سنةً.
جیسا کہ ہمیں ابو عبد اللہ الاصبہانی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں الحسن بن الجہم نے بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں الحسین بن الفرج نے بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں محمد بن عمر (الواقدی) نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے۔ عبداللہ بن مسعود بن غافل بن حبیب بن شمخ بن فار بن مخزوم بن صاہلہ بن کاہل بن حارث بن تیم بن سعد بن ہزیل بن مدرکہ۔ ان کی کنیت ان کے بیٹے (عبدالرحمن کی نسبت) سے ابوعبدالرحمن تھی۔ ان کے والد مسعود بن غافل زمانہ جاہلیت میں عبدالحارث بن زہرہ کے حلیف تھے۔ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے دارارقم میں داخل ہونے سے پہلے اسلام لے آئے تھے۔ تمام اہل سیر کے نزدیک آپ نے جنگ بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی۔ اور دو ہجرتیں بھی کیں۔ اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رازداں تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک شریف ان کے پاس ہوتی تھی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ سرگوشی فرماتے تھے، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کفش بردار تھے، آپ کے لئے پانی وضو اپنے پاس رکھتے تھے، آپ چھوٹے قد کے کمزور گندمی رنگ کے آدمی تھے۔ آپ کا انتقال 32 ہجری کو ہوا، ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ وفات کے وقت ان کی عمر (بعض کے قول کے مطابق) ساٹھ سال سے کچھ اوپر تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5446]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5446 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) جاء في نسخنا الخطية بدلًا من وِساده كلمة سواده - بكسر السين - معطوفة على السِّرّ، مع أن السِّواد هو السَّرُّ نفسُه، فيلزم منه التكرار هنا، والصواب ما أثبتنا، وهو كذلك في رواية ابن سعد في "الطبقات" 3/ 141 عن محمد بن عمر الواقدي. والله تعالى أعلم. والوِساد: الفِراش.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں لفظ "وسادہ" (تکیہ/بستر) کی جگہ "سِوادہ" (سین کے کسرہ کے ساتھ) لکھا ہے جو کہ "السِر" (راز) پر معطوف ہے، حالانکہ "سِواد" کا مطلب بھی "سِر" (راز) ہی ہوتا ہے، تو اس سے تکرار لازم آئے گا۔ درست وہی ہے جو ہم نے متن میں ثابت کیا ہے (یعنی وسادہ)۔ ابن سعد کی "الطبقات" (3/ 141) میں محمد بن عمر الواقدی کی روایت میں بھی ایسا ہی ہے۔ واللہ اعلم۔ (عربی لغت میں) "الوساد" کا مطلب بستر/تکیہ ہے۔