🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
432. كان عبد الله يخطب كل خميس على رجليه
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کو کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5464
وأخبرنا أبو عبد الله الصفَّار، حدَّثنا أحمد بن يونس الضَّبّي، حدَّثنا أبو داود، حدَّثنا شعبة، عن سلمة بن كُهيل، عن حَبّة العُرَني، قال: قرأتُ في كتاب عمر إلى أهل الكوفة: أما بعدُ، فأنتم رأسُ العربِ وجُمْجُمتُها، وأنتم سَهْمي الذي أَرمي به، إن جاء شيءٌ من هاهنا وهاهنا، وقد بعثتُ إليكم عبدَ الله واخترتُه لكم، وآثرتُكم به على نَفْسي (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5379 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حبہ عرنی کہتے ہیں۔ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے یمن اور کوفہ کی جانب لکھے گئے مکتوب میں یہ لکھا دیکھا ہے امابعد! تم لوگ عرب کے لئے سر اور کھوپڑی کی حیثیت رکھتے ہو، تم میرے لئے ایک کمان کی حیثیت رکھتے ہو، اگر ادھر ادھر سے کوئی دشمن آئے تو میں اسی کمان کے ذریعے درست نشانہ لگا سکتا ہوں۔ میں نے تمہاری جانب عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ کو عامل بنا کر بھیجا ہے، میں نے ہی ان کو تمہارے لئے چنا ہے اور ان کو اپنے اوپر ترجیح دی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5464]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5464 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات غير حَبّة العُرَني، فضعيف. أبو داود: هو سليمان بن داود الطيالسي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے تمام رجال "ثقہ" ہیں سوائے "حبہ العرنی" کے، جو کہ ضعیف ہے۔ (ابوداؤد سے مراد سلیمان بن داؤد الطیالسی ہیں)۔
وأخرجه ابن سعد 8/ 130، وابن أبي شيبة 12/ 186، وابن أبي خيثمة في السفر الثالث من "تاريخه" (3518)، ومحمد بن خلف المعروف بوكيع في "أخبار القضاة" 2/ 188 من طرق عن شعبة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (8/ 130)، ابن ابی شیبہ (12/ 186)، ابن ابی خیثمہ "تاریخ" (3518) اور محمد بن خلف المعروف وکیع نے "اخبار القضاۃ" (2/ 188) میں شعبہ کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (5767) من طريق أبي إسحاق السَّبيعي عن حارثة بن مُضرِّب قال: كتب إلينا عمر بن الخطاب: إني قد بعثت إليكم عمار بن ياسر أميرًا، وابنَ مسعود معلِّمًا ووزيرًا، وهما من النُّجَباء من أصحاب محمد ﷺ من أهل بدرٍ … وقد آثرتكم بعبد الله على نفسي. وإسناده صحيح.
🧾 تفصیلِ روایت: مصنف کے ہاں آگے نمبر (5767) پر ابواسحاق السبیعی، عن حارثہ بن مضرب کے طریق سے آئے گا کہ حضرت عمر بن خطاب نے ہمیں لکھا: "میں نے تمہاری طرف عمار بن یاسر کو امیر اور ابن مسعود کو معلم اور وزیر بنا کر بھیجا ہے۔ یہ دونوں محمد ﷺ کے اصحاب میں سے نجیب (برگزیدہ) اور اہل بدر میں سے ہیں... اور میں نے عبداللہ (بن مسعود) کے معاملے میں تمہیں اپنی ذات پر ترجیح دی ہے (ایثار کیا ہے)۔" ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔