🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
437. استماع النبى قراءة القرآن من ابن مسعود رضى الله عنه
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے قرآن سننا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5479
أخبرني أبو علي الحافظ، أخبرنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن بشّار، حدثنا مُؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا سفيان، عن المِقدام بن شُريح، عن أبيه، عن سعد بن أبي وقّاص، في هذه الآية: ﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ﴾ [الأنعام: 52] ، قال: نزلت في خَمس من قُريش، أنا وابنُ مسعود فيهم، فقالت قُريش للنبي ﷺ: لو طردت هؤلاء عنك جالسناك، تُذني هؤلاء دُونَنا؟ فنزلت: ﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ﴾ إلى قوله: ﴿بِالشَّاكِرِينَ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5393 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ درج ذیل آیت کے بارے میں کہتے ہیں: {وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ} [الأنعام: 52] اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے۔ (امام احمد رضا) یہ آیت پانچ قریشی صحابیوں کے بارے میں نازل ہوئی، میں اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں۔ قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اگر تم ان کو اپنے آپ سے دور کر دو تو ہم آپ کے پاس بیٹھیں گے۔ آپ ان کو قریب رکھتے ہیں، ہمیں نہیں رکھتے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ، وَكَذَلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِيَقُولُوا أَهَؤُلَاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ (الأنعام: 52، 53) اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے تم پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں پھر انہیں تم دور کرو تو یہ کام انصاف سے بعید ہے، اور یونہی ہم نے ان میں ایک کو دوسرے کے لئے فتنہ بنایا کہ مالدار کافر محتاج مسلمانوں کو دیکھ کر کہیں کیا یہ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہم میں سے کیا الله خوب نہیں جانتا حق ماننے والوں کو ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5479]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5479 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل مؤمل بن إسماعيل، فقد توبع. سفيان هو ابن سعيد الثوري، وشُريح: هو ابن هانئ.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ یہ سند متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے کیونکہ اس میں "مؤمل بن اسماعیل" ہیں، تاہم ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: سفیان سے مراد ابن سعید الثوری اور شریح سے مراد ابن ہانی ہیں۔
وأخرجه مسلم (2413)، والنسائي (8207) و (11098) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، والنسائي (8163) من طريق يحيى بن سعيد القطان، كلاهما عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / تخریج: اسے مسلم (2413) اور نسائی (8207، 11098) نے عبد الرحمن بن مہدی کے طریق سے؛ اور نسائی (8163) نے یحییٰ بن سعید القطان کے طریق سے نکالا ہے۔ یہ دونوں سفیان ثوری سے، اسی اسناد کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📝 نوٹ / تبصرہ: لہٰذا حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔
وأخرجه مسلم (2413)، والنسائي (8180) و (8209)، وابن حبان (6573) من طريق إسرائيل، وابن ماجه (4128) من طريق قيس بن الربيع، كلاهما عن المقدام بن شُريح، به. وسماهم قيس بن الربيع، فقال: فيَّ وفي ابن مسعود وصهيب وعمار والمقداد وبلال وأما إسرائيل فقال: كنت أنا وابن مسعود ورجل من هُذيل وبلال ورجلان لست أسميهما.
📖 حوالہ / تخریج: اسے مسلم (2413)، نسائی (8180، 8209) اور ابن حبان (6573) نے اسرائیل کے طریق سے؛ اور ابن ماجہ (4128) نے قیس بن ربیع کے طریق سے نکالا ہے۔ یہ دونوں مقدام بن شریح سے روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ: قیس بن ربیع نے ان (صحابہ) کے نام بتائے ہیں: "میرے بارے میں، ابن مسعود، صہیب، عمار، مقداد اور بلال کے بارے میں۔" جبکہ اسرائیل نے کہا: "میں تھا، ابن مسعود، ہذیل کا ایک آدمی، بلال اور دو آدمی جن کا نام میں نہیں لے رہا۔"