المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
437. استماع النبى قراءة القرآن من ابن مسعود رضى الله عنه
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے قرآن سننا
حدیث نمبر: 5480
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب العبدي، أخبرنا جعفر بن عون، أخبرنا المسعودي، عن جعفر بن عمرو ابن حُرَيث، عن أبيه، قال: قال النبي ﷺ لعبد الله بن مسعود:"اقرأ" قال: أقرأُ وعليك أُنزِلَ؟! قال:"إني أُحِبُّ أن أسمعه من غيري" قال: فافتتح سورة النساء، حتى بلَغَ: ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [النساء: 41] ، فاستَعْبَر رسولُ الله ﷺ، وكَفَّ عبدُ الله. فقال له رسول الله ﷺ:"تَكلَّمْ" فَحَمِدَ الله في أول كلامِه، وأثنَى على الله، وصلَّى على النبي ﷺ، وشَهِد شهادةَ الحَقِّ، وقال: رضينا بالله ربًّا، وبالإسلام دِينًا، ورضيتُ لكم ما رضي الله ورسولُه، فقال رسول الله ﷺ:"رضِيتُ لكم ما رضي لكم ابن أمِّ عَبْدٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5394 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5394 - صحيح
جعفر بن عمرو بن حریث اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: قرآن کی قراءت کرو، (سیدنا عبداللہ نے) کہا: قرآن تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے تو میں قراءت کیسے کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دوسرے سے قرآن سننا چاہتا ہوں۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع کی جب وہ اس آیت پر پہنچے۔ فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلیٰ ھَؤُلَاءِ شَھِیْدًا (النساء: 41) ”تو کیسی ہو گی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں گے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آبدیدہ ہو گئے، اس مقام پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو تلاوت سے روک دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کہا: اب بات کرو، تو انہوں نے اپنی گفتگو سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھا اور حق کی گواہی دی، اور پھر کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر راضی ہیں۔ اور میں تمہارے لئے اس چیز پر راضی ہوں جس چیز پر اللہ اور اس کا رسول راضی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے اس چیز پر راضی ہوں جس چیز پر ام معبد کے بیٹے راضی ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5480]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5480 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، المسعُودي - وهو عبد الرحمن بن عبد الله بن عُتبة - وإن كان تغيّر حفظُه، فسماعُ جعفر بن عون منه قديمٌ.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: مسعودی (عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عتبہ) اگرچہ آخر عمر میں حافظہ کے تغیر کا شکار ہو گئے تھے، لیکن جعفر بن عون کا ان سے سماع قدیم (تغیر سے پہلے کا) ہے۔
وأخرجه البيهقي في "المدخل إلى السنن الكبرى" (99)، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 33/ 120 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / تخریج: اسے بیہقی نے "المدخل الی السنن الکبری" (99) میں، اور ان کے واسطے سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 33/ 120 میں ابو عبد اللہ الحاکم سے، اسی سند کے ساتھ نکالا ہے۔
وأخرج مسلم (800) (248) من طريق معن بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن جعفر بن عمرو بن حريث، عن أبيه، عن ابن مسعود قال: قال النبي ﷺ: "شهيدًا عليهم ما دمتُ فيهم، أو ما كنتُ فيهم".
📖 حوالہ / تخریج: اور امام مسلم (800) (248) نے معن بن عبد الرحمن کے طریق سے، وہ جعفر بن عمرو بن حریث سے، وہ اپنے والد سے اور وہ ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "میں ان پر گواہ رہوں گا جب تک ان میں رہوں گا" (یا "ما کنت فیہم" کے الفاظ ہیں)۔
ويشهدُ للشطر الأول منه ما أخرجه أحمد (6/ 3606) و 7 / (4118)، والبخاري (4583) و (5049) و (5055)، ومسلم (800) (247)، وأبو داود (3668)، والترمذي (3025)، والنسائي (8021) و (8024) و (8025)، و (11039)، وابن حبان (735) من طريق عبيدة السَّلْماني، عن ابن مسعود نفسه.
🧩 متابعات و شواہد: حدیث کے پہلے حصے کے لیے شاہد وہ روایت ہے جسے احمد (6/ 3606، 7/ 4118)، بخاری (4583، 5049، 5055)، مسلم (800)، ابو داود (3668)، ترمذی (3025)، نسائی (8021 وغیرہ) اور ابن حبان (735) نے عبیدہ سلمانی کے طریق سے خود ابن مسعود سے نکالا ہے۔
ولقوله ﷺ في آخر الحديث هنا: "رضيتُ لكم ما رضي لكم ابن أمّ عبدٍ" شاهدٌ من حديث ابن مسعود نفسه تقدَّم عند المصنف برقم (5456)، وإسناده صحيح كذلك.
🧩 متابعات و شواہد: اور نبی ﷺ کے آخری فرمان: "میں نے تمہارے لیے وہ پسند کیا جو ابن ام عبد (عبد اللہ بن مسعود) نے تمہارے لیے پسند کیا" کا شاہد خود ابن مسعود کی حدیث میں مصنف کے ہاں نمبر (5456) پر گزر چکا ہے، اور اس کی سند بھی صحیح ہے۔
وآخر من مرسل القاسم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود تقدَّم برقم (5473) و (5474).
🧩 متابعات و شواہد: اور ایک اور شاہد قاسم بن عبد الرحمن کی "مرسل" روایت سے نمبر (5473) اور (5474) پر گزر چکا ہے۔