المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
443. حديث إسلام العباس قبل يوم بدر
غزوۂ بدر سے پہلے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کی حدیث
حدیث نمبر: 5493
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُمر أحمد بن الجبار بن عُمر العُطارِدِيّ، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني الحُسين ابن عُبد الله بن عُبيد الله بن عباس، عن عِكرمة، عن ابن عباس، حدثني أبو رافع كنا آل العباس قد دخَلْنا الإسلام، وكنا نَستَخْفي إسلامنا، وكنت غلامًا للعباس أنحِتُ الأقداحَ، فلما سارتْ قُريش إلى رسول الله ﷺ يوم بدرٍ جَعَلْنا نتوقَّع الأخبار، فقدِم علينا الحَيْسُمان (2) الخُزاعيُّ بالخبر، فوَجَدْنا في أنفُسِنا قوةً، وسَرَّنا ما جاءنا من الخَبَر من ظُهُور رسول الله ﷺ، فوالله إني لَجالسٌ في صُفَة زَمْزَمَ أَنحِتُ الأقداحَ، وعندي أمُّ الفَضْل جالسةٌ، وقد سَرَّنا ما جاءنا من الخبر من ظُهُور رسولِ الله، وبَلَغَنا عن رسول الله ﷺ، إذ أقبلَ الخَبيثُ أبو لَهَب يجُرُّ رجليه قد أكْبَتَه الله وأخزاهُ لما جاءه من الخبر، حتى جلس على طُنُب الحُجرة، وقال الناسُ: هذا أبو سفيان بن الحارث قد قَدِمَ واجتمع عليه الناسُ، فقال له أبو لَهَب: هلُمَّ إليَّ يا ابن أخي، فجاء حتى جلس بين يديه، فقال: أخبرني عن الناس، قال: نعم، والله ما هو إلّا إن لَقِينا القومَ فَمَنَحْناهم أكتافنا يَضعُون السلاح منا حيث شاؤوا، والله مع ذلك ما لُمتُ الناسَ لقينا رجالًا بيضًا على خَيل بُلْقٍ، والله ما تُبقى شيئًا، قال فرفعتُ طُنُبَ الحُجْرة، فقلت: تلك والله الملائكةُ، قال: فرفع أبو لَهَبٍ يده فضرب وجهي ضربةً مُنكَرةٌ، وثاوَرْته، وكنتُ رجلًا ضعيفًا، فاحتمَلَني فضرب بي الأرضَ، وبَرَك على صدري وضَرَبني، وتقومُ أمُّ الفضل إلى عَمُودٍ من عَمَد الحُجرة (1) ، فأخذته وهي تقولُ: استضعَفْتَه أن غابَ عنه سيِّدهُ؟! وتضرِبُه بالعمود على رأسه فتَفْلِقُه (2) شَجّةً مُنكرةٌ، وقام يَجُرٌ رِجليه ذليلًا، ورماه الله بالعَدَسة، فوالله ما مَكَث إلَّا سبعًا حتى مات، فلقد تركه ابناهُ في بيته ثلاثًا ما يَدفِنانه حتى أَنْتَنَ، وكانت قريشٌ تتقي هذه العدسة كما تتّقي الطاعون، حتى قال لهما رجلٌ من قريش: وَيحَكُما ألا تستحيانِ، إِنَّ أباكُما قد أَنْتَن في بيته لا تَدفِنانه، فقالا: إننا نخشى عدوى هذه القُرْحة، فقال: انطلقا فأنا أُعينُكُما عليه، فوالله ما غَسْلُوه إلَّا قَذفًا بالماء عليه من بعيد ما يَدْنُون منه، ثم احْتَمَلُوه إلى أعلى مكة، فأسنَدُوه إلى جدارٍ، ثم رَصَفُوا عليه الحجارة (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5406 - حسين بن عبد الله بن عبيد الله واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5406 - حسين بن عبد الله بن عبيد الله واه
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، ہمارے دلوں میں اسلام داخل ہو چکا تھا لیکن ہم لوگ اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے تھے۔ میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا غلام تھا میں تیر چھیلا کرتا تھا، پھر جب قریش جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب روانہ ہوئے، ہم وہاں کی خبروں کے منتظر رہا کرتے تھے۔ سیدنا ضمان خزاعی رضی اللہ عنہ جنگ بدر کی ایک خوش کن خبر لے کر ہمارے پاس آئے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ کی خبر سن کر بہت خوش ہوئے، خدا کی قسم! میں مکہ میں تھا اور تیر چھیل رہا تھا اور ام الفضل میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح کی خبر سن کر خوش ہو رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہمیں اطلاعات مل رہی تھیں۔ ادھر ابولہب خبیث اپنے پاؤں گھسیٹتا ہوا آ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو فتح مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر دے کر ذلیل و رسوا کر دیا ہوا تھا۔ وہ آ کر خیمے کی اس جانب بیٹھ گیا جدھر خیمے کی رسیاں باندھی جاتی ہیں۔ لوگوں نے آواز لگائی ” یہ ابوسفیان آ گیا آ گیا “ لوگ اس کے اردگرد جمع ہو گئے، ابولہب نے اس سے کہا: اے میرے بھتیجے میرے پاس آؤ، وہ آ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ ابولہب نے جنگ کے حالات اور شکست کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: شکست کی وجہ کچھ بھی نہیں ہے۔ خدا کی قسم! جب ان سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو ہم نے اپنے کاندھے ان کے سپرد کر دیئے تاکہ وہ جہاں چاہیں اپنا اسلحہ رکھیں اور اللہ کی قسم! اس سلسلے میں فوجیوں کو کوئی ملامت نہیں کی، اس نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ ہم نے ابلق گھوڑوں پر سفید رنگ کے لوگوں کو دیکھا ہے ان کے آگے کوئی شے نہیں ٹھہر سکتی ہے۔ (ابورافع) فرماتے ہیں: میں نے خیمے کا پردہ اٹھایا اور کہا: خدا کی قسم! وہ فرشتے تھے۔ ابولہب نے مجھے زور دار تھپڑ سے مارا، اور بدلے میں، میں نے بھی اس کو تھپڑ رسید کر دیا، وہ مجھ سے لڑ پڑا اور مجھے زمین پر گرا کر میرے سینے پر سوار ہو گیا، ام الفضل اٹھیں اور خیمے کی ایک لکڑی کھینچ کر اس کے سر پر دے ماری جس کی وجہ سے اس کے سر میں بہت بڑا زخم ہو گیا۔ ام الفضل نے کہا: اے اللہ کے دشمن! تم نے اس کے آقا کو غیر موجود پا کر اس کو کمزور سمجھ لیا تھا، تو ابولہب ذلیل ہو کر وہاں سے اٹھا، خدا کی قسم! اس کے بعد وہ صرف 7 دن زندہ رہا۔ الله تعالیٰ نے اس کے جسم میں پھنسیاں پیدا کر دیں، اور ان پھنسیوں کی وجہ سے وہ مر گیا، اس کے دونوں بیٹوں نے اس کو دو تین دن تک اسی طرح چھوڑے رکھا اور دفن نہیں کیا جس کی وجہ سے اس کے جسم سے بدبو پھوٹنے لگی۔ ایک قریشی آدمی نے ان کو کہا: تمہیں حیاء نہیں آتی، تمہارے باپ کی لاش گھر میں پڑی سڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ہم اس پیپ والے پھوڑوں سے ڈر رہے ہیں۔ قریش ان پھنسیوں سے اتنا گھبراتے تھے جتنا طاعون سے۔ بالآخر ایک شخص نے کہا: تم اس کو دفن کرنے لے چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں خدا کی قسم! انہوں نے اپنے باپ کو غسل نہیں دیا بلکہ دور سے ہی اس پر پانی ڈال دیا، پھر اس کو اٹھا کر لے گئے مکہ کے بالائی علاقوں میں ایک دیوار کے ساتھ لٹا کر اس کے اوپر پتھر وغیرہ پھینک دیئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5493]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5493 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرّف في (ز) و (ب) إلى: الضمان، وجاء مكانها في (ص) و (م) بياض، والصواب ما أثبتناه كما في رواية البيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 145 عن أبي عبد الله الحاكم، بسنده هذا. وكذلك جاء في "معرفة الصحابة" لابن مَنْدَه 2/ 855 عن أحمد بن محمد بن زياد ومحمد بن يعقوب عن أحمد بن عبد الجبار العُطاردي.
📝 تصحیحِ متن: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "الضمان" بن گیا، اور (ص) و (م) میں اس کی جگہ خالی (بیاض) ہے۔ درست وہی ہے جو ہم نے ثابت کیا ہے جیسا کہ بیہقی کی "دلائل النبوۃ" 3/ 145 میں ابو عبد اللہ الحاکم سے مروی ہے۔ اور اسی طرح ابن مندہ کی "معرفۃ الصحابہ" 2/ 855 میں احمد بن عبد الجبار عطاردی کے واسطے سے آیا ہے۔
(1) في (ز) و (ب) الخيمة، والمثبت من (ص) و (م) هو الموافق لرواية البيهقي في "الدلائل" عن الحاكم، وهو كذلك في سائر الروايات عن ابن إسحاق، كما في الرواية المتقدمة برقم (5490).
📝 تصحیحِ متن: نسخہ (ز) اور (ب) میں لفظ "الخیمہ" ہے، جبکہ (ص) اور (م) سے جو ثابت کیا گیا ہے وہ بیہقی کی "الدلائل" (عن الحاکم) کے موافق ہے، اور ابن اسحاق سے دیگر تمام روایات میں بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ نمبر (5490) پر گزر چکا۔
(2) في (ز) و (ب) وتدخله، وفي (ص) و (م) فتدخله، والمثبت من "دلائل النبوة".
📝 تصحیحِ متن: نسخہ (ز) اور (ب) میں "وتدخلہ" ہے، (ص) اور (م) میں "فتدخلہ" ہے، اور جو ثابت کیا گیا ہے وہ "دلائل النبوۃ" سے لیا گیا ہے۔
(3) إسناده ضعيف كما تقدَّم بيانه برقم (5490) حيث تقدم الخبر هناك من طريق جرير بن حازم عن محمد بن إسحاق.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے جیسا کہ نمبر (5490) پر بیان ہو چکا، جہاں یہ خبر جریر بن حازم عن محمد بن اسحاق کے طریق سے گزری ہے۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 145 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / تخریج: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" 3/ 145 میں ابو عبد اللہ الحاکم سے، اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن مَنْدَه في "معرفة الصحابة" 2/ 855 عن محمد بن يعقوب، به.
📖 حوالہ / تخریج: اسے ابن مندہ نے "معرفۃ الصحابہ" 2/ 855 میں محمد بن یعقوب سے (اسی سند کے ساتھ) روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن منده أيضًا، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 4/ 253 عن أحمد بن محمد بن زياد، عن أحمد بن عبد الجبار، به.
📖 حوالہ / تخریج: اسے ابن مندہ نے بھی، اور ان کے واسطے سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 4/ 253 میں احمد بن محمد بن زیاد سے، وہ احمد بن عبد الجبار سے روایت کرتے ہیں۔
وقوله: رَصَفُوا عليه الحجارة، أي: جعلُوا عليه الحجارة بعضها فوق بعضٍ.
📝 لغوی تشریح: "رَصَفُوا علیہ الحجارۃ" کا مطلب ہے: انہوں نے اس پر پتھروں کو تہہ در تہہ (ایک دوسرے کے اوپر) رکھ دیا۔