🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
455. الجمال فى الرجال اللسان
مردوں میں خوب صورتی زبان (اچھی گفتگو) میں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5511
أخبرنيه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا عَبْدانُ الأَهْوازي، حدثنا الحَسَن (3) بن الحارث الأهوازي، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا سليمان بن المُغيرة، عن حُميد بن هلال، عن أبي بُردة، عن أبي موسى: أنَّ العلاء بن الحَضرميّ بعثَ إلى رسول الله ﷺ بمالٍ من البَحرَين، فذكر الحديث بنحوه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
ایک دوسری سند کے ہمراہ بھی سیدنا ابوموسیٰ کا بیان ہے کہ علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے بحرین سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مال بھیجا، اس کے بعد مذکورہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5511]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5511 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: الحُسين، مُصغَّرًا، وإنما هو الحسن مكبَّرًا كما تقدَّمت تسميته على الصواب عند الحديث (277)، وبذلك سُمِّي في عدة أحاديث عند الدارقطني في "سننه" (4803)، والبيهقي في "السنن الكبرى" 8/ 67، وفي "دلائل النبوة" 6/ 129، وفي "شعب الإيمان" (1955).
🔍 فنی نکتہ / علّت: (3) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "حسین" (مصغّر) ہو گیا ہے، جبکہ درست "حسن" (مکبّر) ہے جیسا کہ حدیث نمبر (277) کے تحت اس کا صحیح نام گزر چکا ہے۔ اور یہی نام دارقطنی کی "سنن" (4803)، بیہقی کی "سنن کبریٰ" (8/ 67)، "دلائل النبوۃ" (6/ 129) اور "شعب الایمان" (1955) کی متعدد احادیث میں آیا ہے۔
(1) حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كما تقدَّم بيانه عند الطريق السابقة.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث حسن ہے، جبکہ یہ (موجودہ) سند ضعیف ہے جیسا کہ پچھلی سند کے ضمن میں بیان ہو چکا ہے۔