المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
459. لا يدخل قلب امرئ الإيمان حتى يحبكم لله ولرسوله
کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوتا جب تک وہ تم سے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر محبت نہ کرے
حدیث نمبر: 5522
حدَّثَناه أبو عمرو عثمان أحمد بن السَّمّاك الزاهد ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن يزيد بن أبي زياد، عن عبد الله بن الحارث، عن العباس بن عبد المطّلب، قال: قلتُ: يا رسول الله، إنَّ قريشًا إذا لقي بعضُها بعضًا لَقُوها ببِشْرٍ حَسَن، وإذا لَقُونا لَقُونا بوجوهٍ لا نَعرفُها، قال: فغَضِبَ رسولُ الله ﷺ غضبًا شديدًا، وقال:"والذي نفسُ محمدٍ بيده، لا يَدخُلُ قلب رجلٍ الإيمانُ حتى يُحبَّكم الله ولرسوله" (1) . قد ذكرتُ في مناقب الحسن والحسين ﵄ طرفًا في"فضائل أهل بيتِ رسول الله ﷺ"، وبيَّنتُ عِلل هذا الحديث بذكر المُطّلب بن ربيعة، ومن أسقَطَه من الإسناد، فأَغنى ذلك عن إعادته في هذا المَوضِع.
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو بہت گرم جوشی کے ساتھ ملتے ہیں لیکن جب وہ ہم سے ملتے ہیں تو بہت بے رخی سے ملتے ہیں۔ اس بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غضبناک ہوئے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے کسی انسان کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ الله اور اس کے رسول کی رضا کی خاطر تم سے محبت نہ کرے گا۔ ٭٭ میں نے اس حدیث کا کچھ حصہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے فضائل میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے فضائل کے ابواب میں بیان کر دیا ہے اور مطلب بن ربیعہ کا ذکر کرتے ہوئے اس کی علت بھی بیان کر دی تھی، اور جس نے اس اسناد میں ان کو ساقط کر دیا اس کو اس موقع پر اس حدیث کے اعادہ کی حاجت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5522]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5522 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه. يحيى بن سعيد: هو القطان.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ "حسن لغیرہ" ہے، اور یہ سند پچھلی سند کی طرح ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن سعید: یہ قطان ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1772) عن يزيد بن هارون، عن إسماعيل بن أبي خالد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد [3/ (1772)] نے یزید بن ہارون عن اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔