🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
472. خالقوا الناس بأخلاقهم وخالفوهم فى أعمالهم
لوگوں سے ان کے اخلاق کے مطابق پیش آؤ اور ان کے اعمال میں ان کی مخالفت کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5553
أخبرنا أبو النَّضْر محمد بن يوسف الفَقِيه وأبو إسحاق إبراهيم بن محمد القارئ الزاهد، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو تَوْبة الربيعُ بنُ نافع، حدثنا يزيدُ بن ربيعة، عن أبي الأشعث الصَّنْعانِي، عن أبي عُثمان النَّهْدي، عن أبي ذرٍّ قال: قال لي رسولُ الله ﷺ:"يا أبا ذَرٍّ، كيف (3) أنتَ إذا كنتَ في حُثالةٍ" وشبَّكَ بين أصابعه، قلت: يا رسولَ الله، فما تأمُرُني؟ قال:"اصبِرْ، اصبِرْ، اصبِرْ، خالِقُوا الناسَ بأخلاقِهم، وخالِفُوهم في أعمالِهم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5464 - ابن يزيد لم يخرجوا له
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! وہ وقت کیسا ہو گا جب تم گھٹیا لوگوں میں پھنسے ہو گے۔ یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے حالات میں آپ میرے لئے کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کرنا، صبر کرنا، صبر کرنا۔ لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق کے ساتھ پیش آنا اور ان کے اعمال میں ان کی مخالفت کرنا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5553]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5553 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) لفظة "كيف" سقطت من نسخنا الخطية، واستدركناها من "تلخيص المستدرك" للذهبي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (3) لفظ "کیف" ہمارے قلمی نسخوں سے گر گیا تھا، جسے ہم نے ذہبی کی "تلخیص المستدرک" سے استدراک (حاصل) کیا ہے۔
(1) إسناده ضعيف من أجل يزيد بن ربيعة - وهو الرَّحْبي الصَّنْعاني - فهو ضعيف منكر الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ سند یزید بن ربیعہ (رحبی صنعانی) کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ وہ ضعیف اور "منکر الحدیث" ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "الزهد" (192) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "الزہد" (192) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (470) عن أحمد بن خُليد الكِنْدي الحلبي، عن أبي توبة الربيع بن نافع، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الأوسط" (470) میں احمد بن خلید کندی حلبی عن ابو توبہ ربیع بن نافع کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البزار (4165) عن إبراهيم بن سعيد الجوهري، والعُقيلي في "الضعفاء" (1932) عن محمد بن أحمد بن الوليد الأنطاكي، كلاهما عن أبي توبة، به. غير أنهما جعلاه من مسند ثوبان، بدل أبي ذرٍّ. وقال العقيلي: هذا يروى بغير هذا الإسناد وخلاف هذا اللفظ من طريقٍ صالح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار (4165) نے ابراہیم بن سعید جوہری سے، اور عقیلی نے "الضعفاء" (1932) میں محمد بن احمد بن ولید انطاکی سے؛ دونوں نے ابو توبہ سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: البتہ ان دونوں نے اسے ابو ذر کے بجائے ثوبان رضی اللہ عنہ کی مسند (حدیث) بنایا ہے۔ عقیلی نے کہا: یہ حدیث اس سند کے علاوہ اور ان الفاظ کے خلاف، ایک "صالح" (بہتر) طریق سے مروی ہے۔
قلنا: يشير إلى حديث عبد الله بن عمرو بن العاص الذي تقدم برقم (2704) بلفظ: "كيف بكم وبزمان - أو يُوشك أن يأتي زمانٌ - يُغربَل الناسُ غربلةٌ، ويبقى حُثالةٌ من الناس قد مَرِجَتْ عهودُهم وأماناتهم، واختلفوا فكانوا هكذا" وشبَّك بين أصابعه، قالوا: فكيف بنا يا رسول الله؟ قال: "تأخذون ما تعرفون، وتَدَعُون ما تنكرون، وتُقبِلون على أمر خاصَّتكم، وتَدَعون أمر عامَّتكم".
📝 نوٹ / توضیح: ہم کہتے ہیں: وہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کی حدیث کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو نمبر (2704) پر گزر چکی ہے ان الفاظ کے ساتھ: "تمہارا کیا حال ہوگا ایک ایسے زمانے میں - یا قریب ہے کہ وہ زمانہ آئے - جب لوگوں کو چھان دیا جائے گا (اچھے لوگ اٹھا لیے جائیں گے) اور لوگوں کا کوڑا کرکٹ (برے لوگ) باقی رہ جائے گا، جن کے عہد و پیمان اور امانتیں خلط ملط ہو جائیں گی، اور وہ اختلاف کریں گے تو ایسے ہو جائیں گے" اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو آپس میں پیوست کیا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ہمارا کیا حال ہوگا (ہم کیا کریں)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جو (نیکی) تم پہچانتے ہو اسے لے لو، اور جو (برائی) تم نہیں جانتے اسے چھوڑ دو، اور اپنے خاص لوگوں (اہل حق) کے معاملے پر توجہ دو اور عام لوگوں کے معاملے کو چھوڑ دو۔"