المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
476. ذكر مناقب حبيب بن مسلمة الفهري رضى الله عنه
سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5559
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا علي بن عبد الله المَديني، حَدَّثَنَا يحيى بن سُلَيم الطائفي، حَدَّثَنَا عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن مُجاهِد، عن إبراهيمَ بن الأشْتَر، عن أبيه، عن أمِّ ذرٍّ، قالت: لما حَضَرت أبا ذرٍّ الوفاةُ بَكيتُ، فقال لي: ما يُبكيكِ؟ فقلت: وما لي لا أبكي وأنت تموتُ بفَلاةٍ من الأرض، وليس عِندي ثوبٌ يَسَعُك كَفَنًا لي، ولا لكَ، ولا يَدَينِ لي بتغييبِك، قال: فأبشِري ولا تبكي، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يموتُ بين امرأَينِ مُسلِمَين ولدان أو ثلاثةٌ فيحتَسِبانِ فيَرَيانِ النارَ أبدًا". وإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول لنَفَرٍ أنا فيهم:"لَيمُوتَنَّ رجل منكم بفَلاةٍ من الأرض تَشْهَدُه عِصابةٌ من المؤمنين"، وليس من أولئك النفرِ أحدٌ إلا وقد مات في قريةٍ وجماعةٍ، فأنا ذلك الرجلُ، واللهِ ما كَذَبتُ ولا كُذِبتُ، فأَبصِري الطريقَ، فقلت: أنَّى وقد ذهب الحاجُ وتَقطَّعَتِ الطَّرِيقُ؟ فقال: اذهبي فتبصَّري قالت: فكنتُ أَشتدُّ إلى الكَثِيب، ثم أرجِعُ فأُمرِّضُه، فبينما أنا وهو كذلك إذا أنا برجالٍ على رِحالِهم، كأنهم الرَّخَمُ تَخِدُ (1) بهم رواحِلُهم - قال عليٌّ: قلت ليحيى بن سُلَيم: تَخِدُ أَو تَخُبُّ؟ قال: بالدال - قالت: فألَحْتُ بثَوبي، فأسرَعُوا إِليَّ حتَّى وَقَفُوا عَلَيَّ، فقالوا: ومَن هو؟ قلتُ: أبو ذرٍّ، قالوا: صاحبُ رسولِ الله ﷺ؟! قلتُ: نعم، ففَدَّوهُ بآبائهم وأمّهاتهم، وأسرَعُوا إليه حتَّى دخَلُوا عليه، فقال لهم: أبشِروا، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول لنَفَرٍ أنا فيهم:"ليموتَنَّ رجلٌ منكم بِفَلاةٍ من الأرض تَشْهَدُه عِصابةٌ من المؤمنين"، ما مِن أولئك النفَرِ رجلٌ إِلَّا وقد هَلَك في قريةٍ وجماعةٍ، والله ما كَذَبتُ ولا كُذِبتُ، أنتم تَسمَعون أنه لو كان عندي ثوبٌ يَسَعُني كَفَنًا أو لامرأتي لم أُكفَّن إلَّا في ثوبٍ لي أو لها، إني أَنشُدُكُم الله، ثم إني أَنشُدُكم الله، أن لا (2) يُكفِّنَني رجلٌ منكم كان أميرًا أو عَريفًا أو بَريدًا أو نَقيبًا، وليس من أولئك النفَر إلّا وقد قارَفَ (3) ما قال، إلَّا فتًى من الأنصار، فقال: أنا أُكفِّنُك يا عمِّ، أكفِّنُك في ردائي هذا، أو في ثَوبَين في عَيْبتي من غَزْل أُمّي، قال: أنتَ فكَفِّنّي، فَكَفَّنَه الأنصاريُّ في النَّفَر الذين حَضَرُوه، وقامُوا عليه ودَفَنُوه في نَفَرٍ كلُّهم يَمانٍ (4) . ذكرُ مناقب حَبِيب بن مَسلَمة الفِهْري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5470 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5470 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ام ذر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رو پڑی، انہوں نے مجھ سے رونے کی وجہ دریافت کی، میں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں، تم ایک جنگ بیابان میں فوت ہو رہے ہو، ان حالات میں آپ کے اور میرے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں ہے جس سے میں تمہیں کفن دے سکوں، اور تمہاری میت کے لئے کفن تو ضروری ہے۔ انہوں نے کہا: تم خوش ہو جاؤ، اور رونا دھونا بند کرو، کیوںکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جن مسلمان ماں باپ کے دو یا تین بچے فوت ہو جائیں وہ کبھی دوزخ میں نہیں جائیں گے۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں کے بارے میں (ان لوگوں میں، میں بھی موجود تھا) یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے ایک آدمی جنگل بیابان میں فوت ہو گا اور اس کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت پہنچے گی۔ وہ تمام لوگ آبادیوں میں اور فوت ہوئے ہیں، اب صرف میں ہی باقی بچا ہوں، اس لئے وہ شخص میں ہی ہوں، خدا کی قسم! نہ تو میں نے یہ بات جھوٹ کہی ہے اور نہ ہی یہ جھوٹ ہو گا، اس لئے تم راستہ کو تکتی رہو، میں نے کہا: اب قافلہ کہاں سے آئے گا؟ حاجی جا چکے ہیں۔ راستے بند ہو چکے ہیں۔ انہوں نے پھر یہی کہا کہ جاؤ اور دیکھو، میں ایک ٹیلے پر جا کر دور دور تک نظر دوڑاتی، پھر واپس آ کر ان کو دیکھتی، میں اسی کشمکش میں تھی کہ اچانک کچھ لوگ سواریوں پر سوار اپنے زادراہ سمیت وہاں پر آ گئے۔ علی کہتے ہیں: میں نے یحیی بن معین سے پوچھا کہ اس روایت میں لفظ ” تجد “ دال کے ساتھ ہے یا ” تخب “ خ اور ب کے ساتھ ہے؟ انہوں نے کہا:” تجد “ دال کے ساتھ ہے۔ میں نے اپنے کپڑے کے ساتھ اشارہ کیا تو وہ لوگ جلدی سے میرے پاس آ گئے، اور پوچھنے لگے کہ یہ کون ہے؟ میں نے کہا: ابوذر رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے کہا: صحابی رسول؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ وہ یہ کہتے ہوئے کہ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ان کے پاس آنا شروع ہو گئے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ان کو کہا: تمہیں خوشخبری ہو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جماعت (جس میں، میں بھی موجود تھا) کے بارے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے ایک شخص جنگل بیابان میں فوت ہو گا اور ایک مسلمان جماعت اس کے پاس آئے گی، اس جماعت کے تمام لوگ آبادیوں میں فوت ہو چکے ہیں (اب صرف میں ہی باقی بچا ہوں) خدا کی قسم نہ میں جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ ہی میں جھٹلایا جاؤں گا۔ تم سن رہے ہو، اگر میرے پاس کوئی اتنا کپڑا ہوتا جو میرے پاس یا میری بیوی کے پاس کفن کا کپڑا ہوتا تو مجھے اس میں کفن دے دیا جاتا، میں تمہیں بار بار اللہ کی قسم دے کر کہہ رہا ہوں کہ مجھے کوئی چوہدری یا نمبردار، ایلچی یا کوئی صاحب منصب کفن نہ دے، جبکہ اس جماعت میں تمام لوگ اسی طرح کے تھے سوائے ایک انصاری نوجوان کے۔ وہ کہنے لگا: اے چچا! اگر میں آپ کو کفن دوں گا تو اپنی اس چادر میں اور دو کپڑے میرے صندوق میں رکھے ہوئے ہیں جو کہ میری والدہ نے میرے احرام کے لئے خود اپنے ہاتھوں سے کات کر بنائی ہیں ان میں ہی دوں گا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے تم ہی مجھے کفن دو، چنانچہ اس انصاری نے ان کو کفن دیا، یہ انصاری اسی جماعت سے ہی تعلق رکھتا تھا انہی لوگوں نے آپ کی تدفین کی، یہ تمام لوگ یمن سے تعلق رکھنے والے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5559]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5559 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ب): تحذ، بالحاء المهملة وآخره ذال معجمة، والمثبت على الصواب من (ز) و (ص)، لكن حُرِّكت الكلمة فيهما بضم الخاء وتشديد الدَّال، وإنما الصواب: تَخِدُ، كتَعِدُ من الوَخْدة: وهو ضربٌ من سير الإبِل، وهو أن ترمي بقوائمها كمشي النَّعام.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) نسخہ (ب) میں یہ لفظ "تحذ" (حاء مہملہ اور آخر میں ذال معجمہ کے ساتھ) ہے، جبکہ درست وہ ہے جو ہم نے نسخہ (ز) اور (ص) سے ثابت کیا ہے۔ البتہ ان نسخوں میں اس لفظ پر اعراب "تَخُدُّ" (خاء پر پیش اور دال پر تشدید) لگائے گئے ہیں، حالانکہ درست لفظ "تَخِدُ" (بروزن تَعِدُ) ہے۔ یہ "الوَخْدَۃ" سے ماخوذ ہے، جو اونٹ کے چلنے کی ایک قسم ہے جس میں وہ اپنی ٹانگیں شتر مرغ کی طرح (پھیلا کر) مارتا ہے۔
(2) حرف "لا" لم يَرِد في (ز) و (م) و"تلخيص الذهبي" و (ب)، وأثبتناه من (ص)، وهو ثابت لأكثر من خرّج هذا الخبر، وكلا الأمرين جائز، فعلى الحذف تُقدَّر "لا" تقديرًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) لفظ "لا" (نہیں) نسخہ (ز)، (م)، (ب) اور ذہبی کی "تلخیص" میں وارد نہیں ہوا، ہم نے اسے نسخہ (ص) سے ثابت کیا ہے، اور اس خبر کی تخریج کرنے والے اکثر محدثین کے ہاں یہ ثابت ہے۔ دونوں صورتیں جائز ہیں، اگر حذف مانیں تو وہاں "لا" کو مقدر (چھپا ہوا) مانا جائے گا۔
(3) في (ز) و (ب) قارب، بالياء، بدلٌ الفاء، وهما بمعنًى.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (3) نسخہ (ز) اور (ب) میں "قارب" (یاء کے ساتھ) ہے بجائے فاء کے، اور دونوں ہم معنی ہیں۔
(4) إسناده حسنٌ من أجل يحيى بن سُليم الطائفي، فهو صدوق حسن الحديث، وقد تلقَّى عنه هذا الخبر جمعٌ من الأئمة الحفّاظ، ولا يُحفَظ عن غيره موصولًا وقد حسَّن هذه الرواية في وفاة أبي ذرٍّ ابن القيم في "زاد المعاد" 3/ 534، ورجَّحها على رواية ابن مسعود المتقدمة عند المصنّف برقم (4421). وأخرجه ابن حبان (6671) عن أبي خليفة الفَضل بن الحُباب، عن علي بن المديني، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: (4) یہ سند یحییٰ بن سلیم طائفی کی وجہ سے حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یحییٰ "صدوق حسن الحدیث" ہیں، اور ان سے ائمہ حفاظ کی ایک جماعت نے یہ خبر لی ہے۔ ان کے علاوہ کسی اور سے یہ موصولاً (متصل) محفوظ نہیں ہے۔ ابن القیم نے "زاد المعاد" (3/ 534) میں ابو ذر کی وفات کے سلسلے میں اس روایت کو حسن قرار دیا ہے اور اسے ابن مسعود کی روایت (جو مصنف کے ہاں 4421 پر گزری) پر ترجیح دی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (6671) نے ابو خلیفہ فضل بن حباب عن علی بن مدینی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 35/ (21373) عن إسحاق بن عيسى، وابن حبان (6670) من طريق الحسن بن محمد بن الصبَّاح، كلاهما عن يحيى بن سُلَيم، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد [35/ (21373)] نے اسحاق بن عیسیٰ سے، اور ابن حبان (6670) نے حسن بن محمد بن صباح کے طریق سے؛ دونوں نے یحییٰ بن سلیم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأنظر ما تقدم برقم (5542).
📖 حوالہ / مصدر: اور دیکھیں جو نمبر (5542) کے تحت گزر چکا ہے۔
والفَلَاة: المفازة والأرض القَفْر.
📝 نوٹ / توضیح: "الْفَلَاة": بیابان اور چٹیل میدان/صحرا۔
والحاجُّ: هو في الأصل يُطلق على الواحد من الحُجّاج، وربما أُطلق الحاجُّ على الجماعة مجازًا واتساعًا، كما جاء هنا.
📝 نوٹ / توضیح: "الْحَاجُّ": اصل میں یہ حاجیوں کے ایک فرد (واحد) پر بولا جاتا ہے، لیکن کبھی کبھار مجازاً اور وسعت کے طور پر پوری جماعت پر بھی "الحاج" کا اطلاق ہوتا ہے، جیسا کہ یہاں ہوا ہے۔
وتَقطَّعتِ الطريقُ: انقطع الناسُ عن الطريق.
📝 نوٹ / توضیح: "تَقَطَّعَتِ الطَّرِيقُ": یعنی لوگ راستے سے منقطع ہو گئے (آنا جانا بند ہو گیا)۔
واشتدُّ إلى الكَثِيب: أُسرع إلى التلِّ الرملي.
📝 نوٹ / توضیح: "أَشْتَدُّ إِلَى الْكَثِيبِ": میں ریت کے ٹیلے کی طرف تیزی سے دوڑتا۔
والرَّخَم: نوع من الطيور.
📝 نوٹ / توضیح: "الرَّخَم": پرندوں کی ایک قسم (گدھ نما پرندہ)۔
وتَخُبُّ: من الخَبَب، وهو ضربٌ من العَدْوِ، وهو خَطْوٌّ فَسِيحٌ.
📝 نوٹ / توضیح: "تَخُبُّ": "خبَب" سے ہے، جو دوڑنے کی ایک قسم ہے، جس میں لمبے قدم بھرے جاتے ہیں۔
والعَرِيف: القيّم بأمور القبيلة أو الجماعة من الناس، يلي أُمورهم ويتعرف الأمير منه أحوالهم.
📝 نوٹ / توضیح: "الْعَرِيف": قبیلے یا لوگوں کی جماعت کا ذمہ دار (نگران)، جو ان کے معاملات چلاتا ہے اور امیر اسی کے ذریعے ان کے حالات سے واقف ہوتا ہے۔
والبَريد: الرسُول.
📝 نوٹ / توضیح: "الْبَرِيد": قاصد / پیغام رساں۔
والنقيب: هو كالعريف على القوم الذي يتعرف أخبارَهم وينقّب عن أحوالهم؛ أي: يُفتش.
📝 نوٹ / توضیح: "النَّقِيب": یہ قوم پر عریف (نگران) کی طرح ہوتا ہے جو ان کی خبریں رکھتا ہے اور ان کے حالات کی تفتیش/جستجو کرتا ہے۔
والعَيْبة: وعاء من جلد ونحوه يكون فيه المتاعُ.
📝 نوٹ / توضیح: "الْعَيْبَة": چمڑے وغیرہ کا تھیلا جس میں سامان رکھا جاتا ہے۔
ويَمَانٍ: نسبة لليمن، والألف فيها عوض من ياء النسبة.
📝 نوٹ / توضیح: "يَمَانٍ": یمن کی طرف نسبت ہے، اور اس میں الف (یائے نسبت) کا عوض ہے۔