🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
476. ذكر مناقب حبيب بن مسلمة الفهري رضى الله عنه
سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5560
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثني مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: حبيبُ بن مَسْلَمة بن مالك الأكبر ابن وَهْب بن ثعلبة بن وائلة (1) بن عمرو بن شَيبان بن مُحارِب بن فِهْر، كان شريفًا قد سَمِعَ من النَّبِيِّ ﷺ، وكان يقال له: حَبيبُ الرُّوم، من كثرةِ دُخُوله عليهم، قال: وفيه يقول شُرَيح بن الحارث: ألَا كلُّ مَن يُدعَى حَبيبًا ولو بَدَتْ … مُروءَتُه يَفْدي حبيبَ بني فِهْرِ هُمَامٌ يَقُودُ الخيلَ حتَّى كأَنَّما … يَطأْنَ برَضْراضِ الحصى جاحِمَ (1) الجَمْرِ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5471 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مصعب بن عبداللہ زبیری نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے حبیب بن مسلمہ بن مالک الاکبر بن وہب بن ثعلبہ بن وائلہ بن عمرو بن شیبان بن محارب بن فہر یہ شریف آدمی تھے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنی ہیں۔ یہ اکثر روم جایا کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کو حبیب الروم کہا جاتا تھا۔ ان کے بارے میں شریح بن حارث نے کہا: خبردار! ہر وہ شخص جس کو حبیب کے نام سے پکارا جاتا ہے اگرچہ اس کی مروت ظاہر ہو چکی ہے پھر بھی وہ حبیب بن فہر پر فدا ہوتا ہے۔ وہ ایسا راہنما ہے کہ جماعت کو چلاتا ہے گویا کہ وہ کنکریوں کو کوئلوں کی طرح لتاڑتی ہیں جس سے وہ پوری طرح ٹوٹتی بھی نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5560]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5560 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) المثبت بالثاء المُثلَّثة من (ز) و (ب)، وأُهملت في (ص) و (م)، وقد ضبطها بالثاء المثلثة محمد بن حبيب البغدادي في "مختلف القبائل ومؤتلفها" ص 98، والحسين بن علي المغربي في "الإيناس في علم الأنساب" ص 263، ومجد الدين بن الأثير في "جامع الأصول" في قسم التراجم 12/ 289، وخالفهم غيرُهم فقالوا: وائلة منهم الدارقطني في "المؤتلف والمختلف" 4/ 288، وابن حزم في "الجمهرة" ص 178، وابن ماكولا في "الإكمال" 7/ 385.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) ہم نے اسے ثائے مثلثہ (ث) کے ساتھ نسخہ (ز) اور (ب) سے ثابت کیا ہے، جبکہ (ص) اور (م) میں یہ بغیر نقطوں کے ہے۔ اسے محمد بن حبیب بغدادی نے "مختلف القبائل" (ص 98)، حسین بن علی مغربی نے "الإیناس" (ص 263)، اور ابن اثیر نے "جامع الأصول" (12/ 289) میں ثائے مثلثہ کے ساتھ ضبط کیا ہے۔ جبکہ دوسروں نے ان کی مخالفت کی ہے اور اسے "وائلہ" کہا ہے، ان میں دارقطنی "المؤتلف والمختلف" (4/ 288)، ابن حزم "الجمہرہ" (ص 178) اور ابن ماکولا "الاکمال" (7/ 385) میں شامل ہیں۔
(1) تحرَّف في (ص) و (م) إلى: حماحم، وتصحف في (ز) و (ب) إلى: حاجم، والمثبت على الصواب من "تلخيص الذهبي"، والجمرُ الجاحمُ: هو ما اشتدَّ اشتعالُه. وفي "نسب قريش" لمصعب الزبيري ص 447: فاحم الجَمْر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) نسخہ (ص) اور (م) میں یہ تحریف ہو کر "حماحم" اور (ز) و (ب) میں تصحیف ہو کر "حاجم" ہو گیا ہے۔ درست متن ذہبی کی "تلخیص" سے ثابت کیا گیا ہے۔ "الْجَمْرُ الْجَاحِمُ" سے مراد وہ انگارہ ہے جس کا بھڑکنا شدید ہو جائے۔ مصعب زبیری کی "نسب قریش" (ص 447) میں "فاحم الجمر" (سیاہ انگارہ) ہے۔