🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
476. ذكر مناقب حبيب بن مسلمة الفهري رضى الله عنه
سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5561
أخبرنا الشيخ الإمام أبو بكر، أخبرنا محمد بن أحمد بن النضر، حَدَّثَنَا معاوية بن عمرو، عن أبي إسحاق الفَزَاري، حَدَّثَنَا أبو بكر الغَسّاني، عن عَطيّة بن قيس وراشد بن سعد، قالا: سارتِ الرومُ إلى حَبيب بن مَسْلَمة وهو بإرمينِيَةَ، فكتب إلى معاويةَ يَستمِدُّه، فكتب معاويةُ إلى عثمانَ بذلك، فكتب عثمانُ إلى أميرِ العراق: يأمرُه أن يُمِدَّ حَبيبًا، فأمَدّه بأهلِ العراق، وأمَّر عليهم سَلْمَانَ بن ربيعة الباهِلي، فسارُوا يريدون غِيَاثَ حَبيبٍ، فلم يبلُغُوهم حتَّى لقي هو وأصحابُه العدوَّ ففَتَحَ اللهُ لهم، فلما قدم سَلْمانُ وأصحابُه على حَبيبٍ سألُوهُم أَن يُشْرِكُوهم في الغَنِيمة، وقالوا: قد أمْدَدْناكم، وقال أهلُ الشام: لم تَشهَدوا القتالَ، ليسَ لكم معنا شيءٌ، فأَبى حَبيبٌ أن يُشْرِكَهم، وحَوَى هو وأصحابُه على غَنِيمتهم، فتنازعَ أهلُ الشام وأهلُ العراق في ذلك، حتَّى كاد أن يكون بينهم في ذلك كَونٌ، فقال بعض أهل العراق شعرًا: إن تَقْتُلُوا سلمانَ نَقتُلْ حَبيبَكمْ … وإِن تَرحَلُوا نحوَ ابن عَفَّانَ نَرَحَلِ قال أبو بكر الغَسّاني: وسمعت أنها أولُ عداوةٍ وقعت بين أهل الشام والعراق (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5472 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عطیہ بن قیس اور راشد بن سعد فرماتے ہیں: روم حبیب بن مسلمہ کی جانب روانہ ہوا، وہ اس وقت آرمینیہ میں تھے اس نے سیدنا معاویہ کی جانب خط لکھ کر ان سے امداد طلب کی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ذمہ لگا دیا، انہوں نے عراق کے گورنر کو خط لکھ دیا کہ حبیب کی مدد کی جائے۔ چنانچہ اہل عراق کے ساتھ ان کی مدد کر دی گئی اور سلمان بن ربیعہ کو ان کا سپہ سالار بنا دیا گیا، یہ لشکر حبیب کی مدد کے لیے روانہ ہو گیا۔ یہ لوگ ان تک تو نہیں پہنچ پائے تھے بلکہ راستہ میں ہی دشمن کے ساتھ ان کی مڈبھیڑ ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح سے ہمکنار کیا۔ جب سلمان اور اس کے ساتھی حبیب کے پاس آئے تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کو بھی مال غنیمت سے حصہ دیا جائے۔ ان کا موقف یہ تھا کہ ہم نے تمہاری مدد کی ہے۔ جبکہ اہل شام کا کہنا تھا کہ تم لوگ جنگ میں شریک ہی نہیں ہوئے ہو، اس لئے ہمارے اموال میں تمہارا کوئی حق نہیں ہے۔ حبیب نے ان کو مال غنیمت میں شریک کرنے سے انکار کر دیا۔ اور انہوں نے اپنے ہی ساتھیوں میں مال تقسیم کر لیا۔ اس پر اہل شام اور اہل عراق میں اختلافات پیدا ہو گئے اختلافات اس قدر شدت اختیار کر گئے کہ قریب تھا کہ ان میں باہم جنگ شروع ہو جاتی، ایک عراقی نے کہا: اگر تم نے سلمان کو قتل کیا تو ہم تمہارے حبیب کو قتل کر دیں گے اور اگر تم ابن عفان کی طرف روانہ ہو گے تو ہم بھی ادھر روانہ ہو جائیں گے۔ ابوبکر غسانی کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ اہل عراق اور اہل شام کے مابین یہ سب سے پہلی دشمنی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5561]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5561 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) خبر حسنٌ، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي بكر الغَسّاني: وهو أبو بكر بن عبد الله بن أبي مريم. أبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث. قلنا: قد رويت هذه القصة من وجهين بنحوٍ مما هنا، وهما منقطعان، لكن باجتماع هذه الوجوه الثلاثة يتقوَّى الخبر، والله أعلم، وليس ببعيدٍ إدراك عطية بن قيس للقصة إذ كانت ولادتُه في حدود سنة سبع عشرة، وأما راشد بن سعد ففي إدراكه لها نظر.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ خبر حسن ہے، اگرچہ یہ سند ابو بکر غسانی (ابو بکر بن عبد اللہ بن ابی مریم) کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو اسحاق فزاری: یہ ابراہیم بن محمد بن حارث ہیں۔ ہم کہتے ہیں: یہ قصہ دو اور طریقوں سے بھی اسی طرح مروی ہے، اور وہ دونوں منقطع ہیں، لیکن ان تینوں طرق کے ملنے سے یہ خبر قوی ہو جاتی ہے، واللہ اعلم۔ اور عطیہ بن قیس کا اس قصے کو پانا (ادراک کرنا) بعید نہیں کیونکہ ان کی ولادت 17 ہجری کے لگ بھگ ہوئی تھی، البتہ راشد بن سعد کے ادراک میں نظر (شک) ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 6/ 355، ومن طريقه أخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 12/ 76 - 77 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وقال ابن عساكر بإثره: أسقط منه ابن المبارك ولا بُدَّ منه. قلنا: منه. قلنا: يعني أنه أُسقط ذكره بين أبي إسحاق الفزاري وبين أبي بكر الغَسّاني.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "السنن الکبریٰ" (6/ 355) میں، اور ان کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (12/ 76-77) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ابن عساکر نے اس کے بعد کہا: "اس میں سے ابن المبارک کو گرا دیا گیا ہے حالانکہ وہ ضروری ہیں"۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ہم کہتے ہیں: یعنی ابو اسحاق فزاری اور ابو بکر غسانی کے درمیان ابن مبارک کا ذکر ساقط ہو گیا ہے۔
وأخرجه أبو عَروبة الحَرّاني في "الأوائل" (130)، ومن طريقه ابن عساكر 12/ 76 عن المسيب بن واضح، عن أبي إسحاق الفزاري، عن ابن المبارك، عن أبي بكر الغساني، عن عطية بن قيس، عن راشد بن سعد. قال ابن عساكر: قوله: عن عطية عن راشد وهمٌ، وصوابه: عن عطية وراشد كما في رواية الحاكم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو عروبہ حرانی نے "الأوائل" (130) میں، اور ان کے طریق سے ابن عساکر (12/ 76) نے مسیب بن واضح عن ابی اسحاق فزاری عن ابن مبارک عن ابی بکر غسانی عن عطیہ بن قیس عن راشد بن سعد کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن عساکر نے فرمایا: ان کا یہ کہنا کہ "عن عطیہ عن راشد" وہم ہے، درست یہ ہے کہ "عن عطیہ و راشد" (دونوں سے روایت ہے) جیسا کہ حاکم کی روایت میں ہے۔
وأخرج ابن عساكر 12/ 74 من طريق سعيد بن عبد العزيز، و 12/ 75 من طريق ابن أبي ذئب، فذكرا القصة بنحوٍ ممّا هنا، وروايتهما منقطعة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے (12/ 74) میں سعید بن عبدالعزیز کے طریق سے، اور (12/ 75) میں ابن ابی ذئب کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ان دونوں نے قصہ اسی طرح ذکر کیا ہے، لیکن ان کی روایت منقطع ہے۔
وذكرها الواقدي كذلك كما في "تاريخ الطبري" 4/ 248، لكن مرسلة بدون إسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے واقدی نے بھی "تاریخ طبری" (4/ 248) میں ذکر کیا ہے، لیکن یہ بغیر سند کے مرسل ہے۔