🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
519. ذكر أربع كان طلحة فيها سلف النبى
چار امور کا بیان جن میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیش رو رہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5694
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن سليمان البُرُلُّسِي، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا هشام بن يوسف، عن عبد الله بن مصعب، أخبرني موسى بن عُقبة، قال: سمعتُ علقمة بن وَقّاص قال: لما خرج طلحةُ والزبيرُ وعائشةُ لِطَلب دمِ عُثمان، عَرَضُوا مَن معهم بذاتِ عِرْق، فاستَصْغَروا عُرُوةَ بن الزُّبَير وأبا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، فردُّوهُما. قال: ورأيتُه (2) وأحبُّ المجالس إليه أخْلاها، وهو ضاربٌ بلِحيتِه على زَوْرِه، فقلت له: يا أبا مُحمّد، إني أراكَ وأحبُّ المجالسِ إليك أخلاها، وأنتَ ضارِبٌ بلِحيتِك على زَوْرِك، إن كنت تَكرهُ هذا اليومَ فدَعْه، فليس يُكرِهُك عليه أحدٌ؟ قال: يا علقمةَ بنَ وقّاص، لا تَلُمْني، كنا يدًا واحدةً على مَن سِوانا، فأصبَحُوا اليومَ جَبَلين يَزحَفُ أحدُنا إلى صاحبِه، ولكنه كان مِنّي في أمرٍ عُثمانَ ما لا أَرى كَفَّارتَه إلَّا أن يُسفَكَ دمي في طلبِ دمِه، قلت: فمحمدُ بن طلحة لِمَ تُخرِجُه ولك ولدٌ صِغارٌ؟! دَعْهُ، فإن كان أمرًا خَلَفَك في تَرِكَتِك، قال: هو أعلمُ، أكرَهُ أن أَرَى أحدًا له في هذا الأمر نيّةٌ فأَرُدَّه، فكلّمتُ محمدَ بنَ طلحة في التّخلُّف، فقال: أكرَهُ أن أسألَ الرِّجال عن أَبي (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5595 - سنده جيد
سیدنا علقمہ بن وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ لے کر نکلے، انہوں نے ذات عرق مقام پر پہنچ کر اپنے ساتھیوں کا جائزہ لیا تو ان میں عروہ بن زبیر اور ابوبکر بن عبدالرحمن بن ہشام کو کمسن قرار دے کر واپس بھیج دیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان کو دیکھا ہے وہ خلوت نشینی کو پسند کرتے ہیں۔ ان کی داڑھی سینے تک آتی تھی، میں نے ان سے کہا: اے ابومحمد! میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ (تم خلوت نشینی کو پسند کرتے ہو اور تمہاری داڑھی سینے تک آتی ہے) تم آج کے دن کے ان حالات کو ناپسند کرتے ہو، آپ اس معاملے کو چھوڑ دیں اس پر تمہیں کوئی ملامت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا: اے علقمہ بن وقاص تم مجھے ملامت نہ کرو، ہم اغیار کے لئے ایک ہاتھ کی طرح ہوتے تھے۔ لیکن آج یہ لوگ دو پہاڑوں کی مانند ہو چکے ہیں جو کبھی ایک دوسرے کے ساتھ مل نہیں سکتے۔ لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے بارے میں، میں چاہتا ہوں کہ میرا خون سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کی طلب میں بہہ جائے۔ میں نے محمد بن طلحہ سے کہا: تم اس جنگ میں حصہ مت لو، تمہارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، تم یہ معاملہ چھوڑ دو تاکہ تمہارے ترکہ میں یہ بات باقی نہ رہے۔ انہوں نے کہا: وہ میں جانتا ہوں لیکن میں اس بات کو زیادہ ناپسند کرتا ہوں کہ میں کسی ایک کام کی نیت کروں اور پھر اس کو رد کر دوں۔ پھر میں نے محمد بن طلحہ سے لوٹ جانے کے بارے میں بات چیت کی، انہوں نے کہا: مجھے والد گرامی سے جانے کی اجازت مانگنا اچھا نہیں لگ رہا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5694]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5694 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) الضمير يعود على طلحة بن عبيد الله.
📝 نوٹ / توضیح: (2) ضمیر طلحہ بن عبید اللہ کی طرف لوٹ رہی ہے۔
(1) إسناده حسن، وجوَّده الذهبي في "تلخيصه"، وقد سلف برقم (4657).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "حسن" ہے، اور ذہبی نے "تلخیص" میں اسے جید (عمدہ) قرار دیا ہے، اور یہ نمبر (4657) پر گزر چکی ہے۔