المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
539. شجاعة عمار فى غزوة اليمامة
غزوۂ یمامہ میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شجاعت کا بیان
حدیث نمبر: 5758
قال ابن عُمر: وحدثني عبد الله بن نافع، عن أبيه، عن ابن عمر، قال: رأيتُ عمّار بن ياسر يومَ اليَمَامة على صَخْرةٍ، وقد أشرفَ يَصيحُ: يا معشر المسلمين، أمِن الجنّة تَفِرُّون؟! أنا عمّار بن ياسر، أمِن الجنَّةِ تَفِرُّون؟! أنا عمّار بن ياسر، هَلُمَّ إليّ، وأنا انظر إلى أُذُنِه قد قُطِعت فهي تَذَبْذَبُ، وهو يقاتلُ أشدَّ القتال (2) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو جنگ یمامہ کے موقع پر دیکھا، وہ ایک چٹان پر چڑھ کر پکار پکار کر کہہ رہے تھے: اے مسلمانو! کیا تم جنت سے بھاگ رہے ہو؟ میں عمار بن یاسر ہوں۔ کیا تم جنت سے بھاگ رہے ہو؟ میں عمار بن یاسر ہوں۔ آؤ میری جانب آؤ۔ اس وقت میں دیکھ رہا تھا کہ ان کا کان کٹ چکا تھا اور وہ ہل رہا تھا، لیکن اس کے باوجود آپ شدید جنگ کر رہے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5758]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5758 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وأخرجه ابن سعد في "طبقاته" 3/ 235، وعنه البلاذُري في "أنساب الأشراف" 1/ 161 عن محمد بن عُمر الواقدي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 235) میں اور ان سے بلاذری نے "أنساب الأشراف" (1/ 161) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قوله: تَذَبَذَبُ، أي: تَتَحرّك.
📝 نوٹ / توضیح: قولہ "تَذَبَذَبُ" کا مطلب ہے: ہلنا یا حرکت کرنا۔