🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
540. ذكر شهادة عمار بن ياسر رضى الله عنه
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5759
قال ابن عمرُ: وحدثني عبد الله بن أبي عُبيدة، عن أبيه، عن لُؤلؤة مَولاةِ أمِّ الحَكَم ابنةِ عمار بن ياسر، قالت: لما كان اليومُ الذي قُتل فيه عمّار بنُ ياسِر والرايةُ يَحملُها أبو هاشم بن عُتبة، وقد قُتل أصحابُ عليٍّ ذلكَ اليومَ حتى كان العصرُ، ثم تَقدَّم عمّار بن ياسر ورأى أبا هاشم يَقْدُمُه، وقد جَنَحَتِ الشمسُ الغُروب، ومع عَمّار ضَيْحٌ من لَبَنٍ يَنتظِرُ وُجُوبَ الشمس أن يُفطِر، فقال حين وَجَبَت الشمسُ وشَرِبَ الضَّيْحَ: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"آخِرُ زَادِك من الدنيا ضَيْحٌ مِن لَبَنٍ"، قال: ثم اقتَربَ فقاتَلَ حتى قُتِل، وهو ابن أربعٍ وتِسعين سنةً (1) .
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدنا ام حکم کی آزاد کردہ لوندی لولوءۃ کہتی ہیں: جس دن سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، اس دن علم کو ابوہاشم بن عتبہ اٹھائے ہوئے تھے، اس دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے عصر تک قتال کیا (لیکن فتح نہیں ہو رہی تھی) پھر سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، انہوں نے ابوہاشم کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھا، اس وقت سورج غروب ہونے کے بالکل قریب تھا اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے پاس پانی ملا ہوا دودھ تھا، آپ (نے کیونکہ روزہ رکھا ہوا تھا اس لئے آپ) غروب آفتاب کا انتظار کر رہے تھے، راوی کہتے ہیں: جب سورج غروب ہو گیا اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے وہ دودھ پی لیا تو کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ سنا ہے کہ تیرا دنیا کا آخری کھانا، پانی ملا ہوا دودھ ہو گا۔ پھر آپ جنگ میں شریک ہو گئے اور شہید ہو گئے، شہادت کے وقت آپ کی عمر 94 برس تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5759]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5759 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وأخرجه ابن سعد 3/ 171 - 172 عن محمد بن عُمر الواقدي، به. لكنه قال: والراية يحملها هاشم بن عُتبة، وهو الصحيح كما سيأتي برقم (5792) و (5796).
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (3/ 171-172) نے محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: لیکن وہاں یہ الفاظ ہیں کہ "جھنڈا ہاشم بن عتبہ اٹھائے ہوئے تھے"، اور یہی بات درست ہے جیسا کہ آگے نمبر (5792) اور (5796) میں آئے گا۔
وللمرفوع منه شاهد من رواية إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف سيأتي عند المصنف برقم (5772) وإسناده صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: اس حدیث کے مرفوع حصے کا ایک شاہد ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کی روایت میں موجود ہے جو مصنف کے ہاں نمبر (5772) پر آئے گا اور اس کی سند صحیح ہے۔
وآخر من مرسل أبي البَخْتَري سيأتي عند المصنف كذلك برقم (5773)، ورجاله ثقات. والضَّيْحُ والضَّيَاحُ: اللبنُ الخاثر يُصَبُّ فيه الماءُ ثم يُخلَط.
🧩 متابعات و شواہد: ایک اور شاہد ابو البختری کی مرسل روایت سے بھی ہے جو مصنف کے ہاں نمبر (5773) پر آئے گا، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: "الضَّيْحُ" اور "الضَّيَاحُ" کا مطلب ہے: وہ گاڑھا دودھ جس میں پانی ڈال کر ملا دیا جائے۔