المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
609. ذكر مناقب عثمان بن طلحة بن أبى طلحة
سیدنا عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 5922
أخبرنا الشيخ الإمام أبو بكر بن إسحاق، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: وماتَ أبو أُهَيبٍ صفوانُ بن أُميَّة بن خَلَفَ بن وَهْب بن حُذَافَةَ بن جُمَحَ، وكان إسلامُه عند الفتح، مات سنة ثلاثٍ وأربعينَ (2) . ذكرُ مناقب عُثمان بن طَلْحة بن أبي طَلْحة ﵁ -
محمد بن عبداللہ بن نمیر فرماتے ہیں: ابواہیب صفوان بن امیہ بن خلف بن وہب بن حذافہ بن جمح فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے، اور 43 ہجری کو ان کا وصال ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5922]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5922 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) كذا ذكر ابن نمير كنية صفوان أبا أُهيب، بينما كناه غيره أبا وهب كأبي اليقظان فيما نقله عنه خليفة في "الطبقات" ص 24، وابن سعد في "الطبقات" 8/ 10، وأحمد بن حنبل في "الأسامي والكنى" (353)، والبخاري في "تاريخه الكبير" 4/ 304، ومسلم في "الكنى والأسماء" (3484) وغيرهم.
📝 نوٹ / توضیح: ابن نمیر نے صفوان کی کنیت "ابو اہیب" ذکر کی ہے، جبکہ دوسروں نے "ابو وہب" کنیت بتائی ہے، جیسے ابو الیقظان نے (جسے خلیفہ نے "الطبقات" ص 24 میں نقل کیا)، ابن سعد نے "الطبقات" (8/ 10)، احمد بن حنبل نے "الأسامي والكنى" (353)، بخاری نے "التاریخ الکبیر" (4/ 304) اور مسلم نے "الکنی والأسماء" (3484) وغیرہ میں۔
وقيل: يُكنى أبا أميَّة، كما جاء في بعض الروايات أن النبي ﷺ ناداه بأبي أمية، كما في "مغازي الواقدي" 1/ 125، و"سيرة ابن هشام" 2/ 440.
📝 نوٹ / توضیح: بعض نے کہا کہ ان کی کنیت "ابو امیہ" ہے، جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں "ابو امیہ" کہہ کر پکارا (مغازي الواقدي: 1/ 125، سیرت ابن ہشام: 2/ 440)۔
واختُلف في سَنَة وفاة صفوان بن أميّة، فقيل: إنَّ وفاته كانت سنة إحدى وأربعين، قاله الهيثم ابن عدي كما في "مولد العلماء ووفياتهم" لابن زَبْر الرَّبَعي 1/ 137، وقيل: مات سنة اثنتين وأربعين، وهو الأكثر، قاله خليفة بن خياط في "تاريخه" ص 205، وابن حبان في "الثقات" 3/ 191، وابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 344 وغيرهم.
📝 نوٹ / توضیح: صفوان بن امیہ کی وفات کے سال میں اختلاف ہے۔ ہیثم بن عدی (ابن زبر الربعی کی "مولد العلماء" 1/ 137 میں) کہتے ہیں کہ سن 41 ہجری میں ہوئی۔ اور کہا گیا کہ سن 42 ہجری میں ہوئی، اور یہی زیادہ (اکثر کا) قول ہے۔ یہ بات خلیفہ بن خیاط نے "تاریخ" (ص 205)، ابن حبان نے "الثقات" (3/ 191) اور ابن عبدالبر نے "الاستیعاب" (ص 344) وغیرہ میں کہی ہے۔