المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
609. ذكر مناقب عثمان بن طلحة بن أبى طلحة
سیدنا عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 5923
حدثني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَليفة بن خَيّاط، قال: عثمان بن طلحة بن بن أبي طلحة بن عبد العُزَّى بن عثمان بن عبد الدار، وأمُّه بنت سَعْد (1) بن شُهَيد (2) من بني عَمرو بن عوف من أهل قُباءٍ، وكان إسلامُه وإسلامُ عمرو بن العاص وخالد بن الوليد في وقتٍ واحد، وتُوفي بمكةَ سنة ثِنتين (3) وأربعينَ.
خلیفہ بن خیاط نے آپ کا نسب یوں بیان کیا ہے ” عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ بن عبدالعزیٰ بن عثمان بن عبدالدار “۔ ان کی والدہ سعید بن سمیہ کی بیٹی ہیں، اہل قباء میں سے بنی عمرو بن عوف سے تعلق رکھتی تھیں۔ سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اکٹھے مسلمان ہوئے تھے۔ آپ کا انتقال 43 ہجری کو مکہ مکرمہ میں ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5923]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5923 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: سعيد، والتصويب من كتب الأنساب والتاريخ والتراجم، انظر "سيرة ابن هشام" 2/ 62 و 171، و "طبقات ابن سعد" 2/ 52 و 5/ 15، و "نسب قريش" لمصعب الزبيري ص 252، وغيرهم.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "سعید" بن گیا ہے۔ درست نام کتبِ انساب، تاریخ اور تراجم سے لیا گیا ہے۔ دیکھیں: "سیرت ابن ہشام" (2/ 62 اور 171)، "طبقات ابن سعد" (2/ 52 اور 5/ 15) اور مصعب الزبیری کی "نسب قریش" (ص 252) وغیرہ۔
(2) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى سمية، وفي (ص) و (م) إلى حمنة، والتصويب من كتب المشتبه وكتب الأنساب والتراجم. انظر "المؤتلف والمختلف" للدارقطني 3/ 1427 و "الإكمال" لابن ماكولا 5/ 90، وغيرها.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں تحریف ہو کر "سمیہ" اور (ص) و (م) میں "حمنہ" بن گیا ہے۔ درست نام مشتبہ ناموں کی کتب، انساب اور تراجم سے لیا گیا ہے۔ دیکھیں: دارقطنی کی "المؤتلف والمختلف" (3/ 1427) اور ابن ماکولا کی "الاکمال" (5/ 90) وغیرہ۔
(3) وقع في نُسخنا الخطية: ثلاث، وهو خطأ، والمثبت على الصواب كما كان في (ز) ثم ضرب عليها الناسخُ مع أنها هي الصواب الموافق لما في "طبقات خليفة" ص 14.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں "تین" (ثلاث) لکھا ہے جو غلط ہے۔ صحیح متن وہ ہے جو (ز) میں پہلے تھا پھر کاتب نے اسے کاٹ دیا، حالانکہ وہی درست تھا اور "طبقات خلیفہ" (ص 14) کے موافق تھا۔