🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
609. ذكر مناقب عثمان بن طلحة بن أبى طلحة
سیدنا عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5924
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبَيري قال: ومن بني عبد الدار بن قُصَيّ؛ فذَكَر هذا النَّسَب، وأمه سُلَافة بنت سعْد (4) من بني عَمرو بن عَوف من أهل قُباءٍ، وكان إسلامُه قبلَ الفتحِ مع إسلام عَمرو بن العاص وخالد بن الوليد، وقَدِمَ المدينةَ في صَفَر سنة ثمانٍ من الهجرة، ومات بمكة سنة اثنتين وأربعين حين قام معاوية.
مصعب بن عبداللہ زبیری نے بنی عبدالدار بن قصی (میں سے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے) اس کے بعد سابقہ حدیث کے مطابق ان کا نسب بیان کیا اور فرمایا: ان کی والدہ سلامہ بنت سعید ہیں۔ اہل قباء میں سے بنی عمرو بن عوف کے ساتھ ان کا تعلق تھا، یہ فتح مکہ سے پہلے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اسلام لائے تھے، ہجرت کے دوسرے سال ماہ صفر المظفر میں مدینہ منورہ آئے، سیدنا معاویہ کے دور میں 42 ہجری کو مکہ مکرمہ میں وفات پائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5924]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5924 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) وقع اسم أم عثمان بن طلحة في نسخنا الخطية: أم سلامة بنت سعيد، هكذا بزيادة أداة الكنية، وبالميم من سلامة، وبزيادة الياء في اسم أبيها، وفي هذا خطأٌ وتحريفٌ صوَّبناه من "نسب قريش" لمصعب الزبيري ص 252، وفاقًا لسائر مصادر النسب والتراجم والتاريخ. انظر "مغازي الواقدي" 1/ 202 و 228 و 356، و "سيرة ابن هشام" 1/ 525 و 2/ 62، و"طبقات ابن سعد" 2/ 52 و 3/ 428.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے نسخوں میں عثمان بن طلحة کی والدہ کا نام "ام سلامہ بنت سعید" لکھا ہے (کنیت کے اضافے، سلامہ میں میم، اور والد کے نام میں یاء کے اضافے کے ساتھ)۔ یہ غلطی اور تحریف ہے جسے ہم نے مصعب الزبیری کی "نسب قریش" (ص 252) اور دیگر انساب، تراجم اور تاریخ کے مصادر سے درست کیا ہے۔ دیکھیں: "مغازي الواقدي" (1/ 202، 228 اور 356)، "سیرت ابن ہشام" (1/ 525 اور 2/ 62) اور "طبقات ابن سعد" (2/ 52 اور 3/ 428)۔