🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
613. ذكر مناقب عبد الرحمن بن أزهر - رضى الله عنه -
سیدنا عبد الرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5935
أخبرنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، قال: عبد الرحمن بن أَزْهَرَ بن عبد عَوف بن عبد الحارث بن زُهْرة بن كِلَاب، ويُكنى أبا زُبَير، وأمُّه بُكَيرة بنت عبد يَزيدَ بن هاشم بن المُطَّلبِ بن عبد مَنَافٍ، شَهِدَ حُنينًا مع رسول الله ﷺ (1) .
محمد بن عمر نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے عبدالرحمن بن ازہر بن عوف بن عبدالحارث بن زہرہ بن کلاب ۔ ان کی کنیت ابوزبیر ہے، ان کی والدہ کا نام بکیرہ بنت عبد یزید بن ہاشم بن مطلب بن عبد مناف ہے۔ آپ جنگ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5935]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5935 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ومثلُه قول ابن سعد في "الطبقات" 6/ 520 غير أنه ذكر أنه يكنى أبا جبير، وليس أبا زُبير، ولم يذكر شهودَ عبد الرحمن بن أزهر حُنينًا.
📌 اہم نکتہ: ابن سعد نے "الطبقات" (6/ 520) میں اسی طرح کا قول نقل کیا ہے، سوائے اس کے کہ انہوں نے کنیت "ابو جبیر" بتائی ہے (نہ کہ ابو زبیر)، اور عبدالرحمن بن ازہر کے غزوہ حنین میں شرکت کا ذکر نہیں کیا۔
وثبت شهودُ عبد الرحمن بن أزهر حُنينًا في حديثه الذي أخرجه أحمد 31/ (19079) وأبو داود (4488)، والنسائي (5264): أنَّ النبي ﷺ أُتي بشاربٍ يوم حُنين، وسيأتي عند المصنف برقم (8329)، وهو حديث صحيح.
📌 اہم نکتہ: عبدالرحمن بن ازہر کی حنین میں شرکت ان کی حدیث سے ثابت ہے جو احمد (31/ 19079)، ابو داود (4488) اور نسائی (5264) میں ہے کہ: "نبی ﷺ کے پاس حنین کے دن ایک شراب پینے والے کو لایا گیا"۔ یہ حدیث مصنف کے ہاں آگے نمبر (8329) پر آئے گی، اور یہ صحیح حدیث ہے۔