🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
664. موت أبى أيوب الأنصاري ووصيته
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات اور ان کی وصیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6043
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا ابن عُلَيّة، حَدَّثَنَا أيوب، عن محمد بن سِيرِين قال: شهد أبو أيوب مع رسول الله ﷺ بدرًا، ثم لم يَتخلَّف عن غَزَاةٍ للمسلمين إِلَّا هو فيها، إلَّا عامًا واحدًا؛ فإنه استُعمِلَ على الجيش رجلٌ شابٌّ، فقَعَدَ ذلك العامَ، فجعل بعد ذلك يتلهَّف ويقول: ما عليَّ من استُعمِل عليَّ، وما عليَّ من استُعمِل عليَّ، فمرضَ، وعلى الجيش يزيدُ بنُ معاوية، فدخل عليه يعودُه فقال: ما حاجتُك؟ فقال: حاجتي إذا أنا مُتُّ فاركَبْ، ثم اسْعَ في أرضِ العدو ما وجدتَ مَسَاغًا، فإذا لم تَجِدْ مَسَاغًا فادفنِّي ثم ارجِعْ. قال: وكان أبو أيوب يقول: قال الله ﷿: ﴿انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: 41] فلا أَجدُني إلَّا خفيفًا أو ثقيلًا (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5930 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن سیرین کہتے ہیں: سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے تھے، اور اس کے بعد بھی مسلمانوں کے کسی غزوے میں پیچھے نہیں رہے، البتہ ایک مرتبہ ایک جنگ میں ایک نوجوان کو امیر مقرر کر دیا گیا تھا، اس جنگ میں آپ شریک نہیں ہوئے تھے، لیکن اس کے بعد آپ اس میں شرکت نہ کرنے پر بہت افسوس کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ جس کو امیر لشکر بنایا گیا تھا مجھے اس کی امارت قبول کرنی چاہیے تھی۔ اس کے بعد آپ بیمار ہو گئے، اور لشکر کی ذمہ داری یزید بن معاویہ پر تھی، وہ ان کی زیارت کرنے کے لئے آیا، اس نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کیا خواہش ہے؟انہوں نے کہا: جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو سواری پر لاد کر دشمن کے علاقے میں جہاں تک لے جا سکو، لے جانا، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو مجھے دفن کر دینا۔ سیدنا ابوایوب فرمایا کرتے تھے: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا} [التوبة: 41] اور میں اپنے آپ کو خفیف یا ثقلیل دونوں میں سے ایک پاتا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6043]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6043 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) خبر صحيح، رجاله ثقات. مسدد: هو ابن مسرهد، وابن علية: هو إسماعيل بن إبراهيم، وأيوب: هو ابن أبي تميمة السختياني.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر "صحیح" ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: مسدد سے مراد مسدد بن مسرہد ہیں، ابن علیہ سے مراد اسماعیل بن ابراہیم ہیں اور ایوب سے مراد ایوب بن ابی تمیمہ السختیانی ہیں۔
وأخرجه أبو عبيد في "الناسخ والمنسوخ" (369)، وابن سعد في "الطبقات الكبرى" 3/ 449، وإبراهيم الحربي في "غريب الحديث" 2/ 317، والطبري في "التفسير" 10/ 139، والجصاص في "أحكام القرآن" 4/ 310، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (2417)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 16/ 59 من طريق إسماعيل ابن علية، بهذا الإسناد. وأخرج أحمد (23560) و (23594) من طريق الأعمش عن أبي ظبيان قال: غزا أبو أيوب الروم، فمرض فلما حُضِر قال: إذا أنا متُّ فاحملوني، فإذا صاففتم العدو فادفنوني تحت أقدامكم، وسأحدثكم حديثًا سمعته من رسول الله ﷺ، ولولا حالي هذا ما حدثكتموه، سمعت رسول الله ﷺ يقول: "من مات لا يشرك بالله شيئًا دخل الجنة".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو عبید نے "الناسخ والمنسوخ" (369)، ابن سعد نے "الطبقات الکبری" (3/ 449)، ابراہیم حربی نے "غریب الحدیث" (2/ 317)، طبری نے "التفسیر" (10/ 139)، جصاص نے "احکام القرآن" (4/ 310)، ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابۃ" (2417) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (16/ 59) میں اسماعیل بن علیہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز امام احمد نے (23560) اور (23594) میں الاعمش (سلیمان بن مہران) عن ابی ظبیان کے طریق سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے رومیوں سے جنگ کی، جب وہ بیمار ہوئے اور وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا: "جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے اٹھا کر لے جانا اور جب دشمن کے سامنے صف آراء ہو جاؤ تو مجھے اپنے قدموں کے نیچے دفن کر دینا، اور میں تمہیں ایک ایسی حدیث سنا رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی، اگر میری یہ حالت نہ ہوتی تو میں تمہیں نہ سناتا؛ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس شخص کی موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گیا"۔
وبنحوه أخرجه أحمد (23523) من طريق همام، عن عاصم، عن رجل من أهل مكة.
📖 حوالہ / مصدر: اسی کے ہم معنی روایت کو امام احمد نے (23523) میں ہمام بن یحییٰ عن عاصم بن بہدلہ عن رجل من اہل مکہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرج ابن أبي شيبة 5/ 305 عن ابن فضيل عن أبيه عن موسى بن أبي عثمان عن أبي العوام عن أبي أيوب: أنه أقام عن الجهاد عامًا واحدًا، فقرأ هذه الآية: ﴿انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ فغزا من عامه، وقال: ما رأيت في هذه الآية من رخصة.
📖 حوالہ / مصدر: امام ابن ابی شیبہ نے (5/ 305) میں محمد بن فضیل عن ابیہ عن موسیٰ بن ابی عثمان عن ابی العوام کے واسطے سے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ: وہ ایک سال جہاد سے پیچھے رہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: "نکلو (اللہ کی راہ میں) چاہے تم ہلکے ہو یا بوجھل"، تو وہ اسی سال غزوے کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں اس آیت میں کسی کے لیے کوئی رخصت نہیں دیکھ رہا۔