🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
668. قيام النبى فى بيت أبى أيوب
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر قیام فرمانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6050
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حَدَّثَنَا ابن بُكَير، حدثني عبد الله بن لَهِيعة، عن حُيَيّ، عن أبي عبد الرحمن، عن عبد الله بن عمرو: أنَّ أبا أيوب كان في مجلسٍ وهو يقول: ألا يستطيع أحدُكم أن يقرأَ ثُلُثَ القرآن كلَّ ليلة؟ قالوا: ما نستطيع ذلك، قال: فإِنَّ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ ثلث القرآن، قال: فجاء إليهم النَّبِيُّ ﷺ، فسمع أبا أيوب، فقال رسول الله ﷺ:"صَدَقَ أبو أيوب" (1) .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ ایک مجلس میں موجود تھے، آپ فرما رہے تھے: کیا تم میں کوئی شخص ایک تہائی قرآن نہیں پڑھ سکتا، راوی کہتے ہیں: اسی اثناء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کی باتیں سن کر فرمایا: ابوایوب سچ کہہ رہا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6050]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6050 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن لَهِيعة وحيي: وهو ابن عبد الله المعافري. ابن بكير: هو يحيى بن عبد الله بن بكير، وأبو عبد الرحمن: هو عبد الله بن يزيد الحبلي المعافري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبد اللہ بن لہیعہ اور حیی بن عبد اللہ المعافری کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابن بکیر سے مراد یحییٰ بن عبد اللہ بن بکیر ہیں، اور ابو عبد الرحمن سے مراد عبد اللہ بن یزید الحبلی المعافری ہیں۔
وأخرجه أحمد 11/ (6613) عن الحسن بن موسى الأشيب، عن ابن لَهِيعة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (11/ 6613) میں حسن بن موسیٰ الاشيب عن ابن لہیعہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد روي هذا من قول النَّبِيّ ﷺ ابتداءً من حديث أبي أيوب نفسه، وليس تصديقًا لأبي أيوب، انظر "مسند أحمد" 38/ (23554). وهذا هو الصحيح.
📌 اہم نکتہ: یہ کلام خود نبی کریم ﷺ کے قول کے طور پر بھی حضرت ابو ایوب کی حدیث سے مروی ہے، نہ کہ صرف ان کی تصدیق کے طور پر۔ تفصیل کے لیے "مسند احمد" (38/ 23554) دیکھیں، اور یہی بات زیادہ صحیح ہے۔
ويشهد له حديث عبد الله بن عبّاس المتقدَّم برقم (2103)، وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ہوتی ہے جو پہلے نمبر (2103) پر گزر چکی ہے، تاہم اس کی سند ضعیف ہے۔
وحديثا أبي سعيد الخدري، وقتادة بن النعمان، عند البخاري، وهما على التوالي (5013) و (5014).
📖 حوالہ / مصدر: حضرت ابو سعید خدری اور حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہما کی دو احادیث "صحیح بخاری" میں بالترتیب (5013) اور (5014) پر موجود ہیں۔
وحديثا أبي الدرداء وأبي هريرة عند مسلم، وهما على التوالي (811) و (812).
📖 حوالہ / مصدر: حضرت ابو الدرداء اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی احادیث "صحیح مسلم" میں بالترتیب (811) اور (812) پر موجود ہیں۔
وانظر تتمة شواهده عند حديث عبد الله بن عمرو بن عمرو هذا في "مسند أحمد".
📝 نوٹ / توضیح: اس کے دیگر شواہد کی تفصیل "مسند احمد" میں اسی حدیث کے تحت ملاحظہ کریں۔