🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
711. لم يقدس الله شارب الخمر
شراب پینے والے کو اللہ تعالیٰ پاکیزگی عطا نہیں فرماتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6149
حَدَّثَنَا محمد بن المُظفَّر الحافظ، حَدَّثَنَا بكر بن أحمد بن حفص الوَصَّابي بحِمْص، حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن محمد بن عيسى صاحبُ"التاريخ" (2) ، قال: وممّا انتهى إلينا من خبر حِمْص ومَن نزلها من أصحاب رسول الله ﷺ، ومِن مَوالي قريش: ثَوْبانُ بن جَحْدَر (3) ، يكنى أبا عبد الله، رجلٌ من الألْهانِ أصابه السَّبيُ، فأعتقه رسولُ الله ﷺ، وقال له:"يا ثوبانُ، إن شئتَ أن تَلحَقَ مَن (4) أنت منه فعلتَ، فأنت منهم، وإن شئتَ أن تَثبُتَ، وأنت منّا (5) أهلَ البيت على ولاءِ رسولِ الله" قال: بل أثبتُ على ولاءِ رسولِ الله ﷺ. فمات بحِمصَ في إمارةِ عبد الله بن قُرْطٍ عليها سنةَ أربعٍ وخمسين (6) .
ابوبکر احمد بن محمد بن عیسیٰ مؤرخ لکھتے ہیں: ہمارے پاس حمص کی جو آخری اطلاعات موصول ہوئی ہیں، کہ وہاں پر اصحاب رسول میں سے اور قریش کے موالی میں سے سب سے آخر میں سیدنا ثوبان بن بجد رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی، ان کا تعلق الہان قبیلے سے تھا، یہ قیدی ہو کر آئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا تھا اور سیدنا ثوبان سے فرمایا تھا کہ اے ثوبان! اگر تم اپنے قبیلے میں واپس جانا چاہو تو جا سکتے ہو اور اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سرپرستی میں یہیں رہنا چاہتے ہو تو یہاں رہ لو، سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرپرستی میں رہنا قبول کیا۔ سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ کی امارت میں 54 ہجری کو حمص میں انتقال کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6149]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6149 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) يعني "تاريخ الحمصيين" كما في "تاريخ دمشق" لابن عساكر 5/ 433.
📝 نوٹ / توضیح: اس سے مراد "تاریخ الحمصيين" ہے جیسا کہ ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (5/ 433) میں اشارہ موجود ہے۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: جحدب، بالباء، والمثبت من مصادر ترجمته، فهو ثوبان بن جَحْدَر - كجَعْفَر - ويقال: يُجْدُد. أما لغةً: فجَحدر وجُحدب هما بمعنًى، وهو الرجل القصير.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہاں "جحدب" تحریف ہو گیا ہے، درست نام "ثوبان بن جحدر" ہے (جیسے جعفر)۔ لغوی طور پر جحدر اور جحدب دونوں کا ایک ہی معنی ہے، یعنی "پستہ قد شخص"۔
(4) في (ص): بمن.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) میں لفظ "بمن" آیا ہے۔
(5) في (ص): معنا.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) میں لفظ "معنا" مذکور ہے۔
(6) أخرجه ابن عساكر 11/ 170 و 172 من طريق محمد بن المظفر، بهذا الإسناد. وابن عيسى صاحب "التاريخ" ذكره عن النَّبِيّ ﷺ مرسلًا بلا إسناد ولا يصح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر (11/ 170، 172) نے محمد بن المظفر کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ابن عیسیٰ نے اپنی "تاریخ" میں اسے نبی ﷺ سے بغیر سند کے مرسلاً ذکر کیا ہے اور یہ روایت صحیح نہیں ہے۔