🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
744. استجابة دعاء سعد فى حق راكب سب عليا
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی دعا کا قبول ہونا اس شخص کے بارے میں جس نے سواری پر بیٹھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا کہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6243
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بكَّار بن قُتَيبة القاضي، حَدَّثَنَا صفوان بن عيسى، حَدَّثَنَا هاشم بن هاشم الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب قال: كنت جالسًا مع سعدٍ، فجاء رجل يقال له: الحارثُ ابن بَرْصاءَ، وهو في السُّوق، فقال له: يا أبا إسحاق، إن كنت آنِفًا عند مروانَ فسمعتُه وهو يقول: إنَّ هذا المالَ مالُنا، نُعطيهِ من نشاءُ (3) ، قال فرفع سعدٌ يده وقال: أفَأَدْعُو؟! فَوَثَبَ مروانُ وهو على سريره فاعتنقَه، قال: أَنشُدُكَ يا أبا إسحاق أن تدعوَ، فإنما هو مالُ الله (4) .
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، حارث بن برصاء نامی ایک شخص بازار سے آیا اور آ کر کہنے لگا: اے ابواسحاق! میں ابھی ابھی مروان کے پاس تھا، میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ یہ مال ہمارا ہے، ہم جس کو چاہیں دے سکتے ہیں۔ سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ بلند کر کے کہا: کیا میں دعا مانگوں؟ تو مروان اپنے تخت سے اچھل کر اٹھا اور ان کو زور سے پکڑ کر بولا: اے ابواسحاق! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں آپ میرے لئے کوئی بددعا نہ کیجئے، وہ مال اللہ کا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6243]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6243 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) في (ز) و (ب): من شئنا، والمثبت من (م) و (ص).
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ب) میں "من شئنا" ہے، جبکہ ہم نے نسخہ (م) اور (ص) کے مطابق متن درج کیا ہے۔
(4) إسناده قوي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔