المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
744. اسْتِجَابَةُ دُعَاءِ سَعْدٍ فِي حَقِّ رَاكِبٍ سَبَّ عَلِيًّا
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی دعا کا قبول ہونا اس شخص کے بارے میں جس نے سواری پر بیٹھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا کہا
حدیث نمبر: 6240
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مَرزُوق، حَدَّثَنَا سعيد بن عامر، حَدَّثَنَا شُعبة، عن أبي بَلْج، عن مصعب بن سعد، عن سعد: أنَّ رجلًا نالَ من عليّ، فدعا عليه سعدُ بنُ مالك، فجاءتْه ناقةٌ أو جملٌ فقتله، فأَعتَقَ سعدٌ نَسَمةً وحَلَفَ أن لا يدعوَ على أَحد (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6120 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6120 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مصعب بن سعد اپنے والد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کی، تو سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس کے خلاف بددعا کی، پس اچانک ایک اونٹنی یا اونٹ آیا جس نے اسے (روند کر) قتل کر دیا، اس واقعے کے بعد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ایک جان (غلام) آزاد کی اور یہ حلف اٹھایا کہ وہ آئندہ کبھی کسی کے خلاف بددعا نہیں کریں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6240]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن. أبو بلج: مشهور بكنيته، واسمه يحيى بن سليم أو ابن أبي سليم الكوفي. ولم نقف عليه عند غير المصنّف.» [ترقيم الرساله 6240] [ترقيم الشركة 6177] [ترقيم العلميه 6120]
الحكم على الحديث: إسناده حسن. أبو بلج: مشهور بكنيته
حدیث نمبر: 6241
فحدَّثنا بشَرْح هذا الحديث الشيخُ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد السُّرّي، حَدَّثَنَا حامد بن يحيى - هو البَلْخي - بمكة، حَدَّثَنَا سفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: كنتُ بالمدينة، فبَيْنا أنا أطوفُ في السوق إذ بَلَغَتُ أحجارَ الزيت، فرأيتُ قومًا مجتمعين على فارسٍ قد رَكِبَ دابّةً وهو يَشتِمُ عليَّ بن أبي طالب والناسُ وقوفٌ حوالَيه، إذْ أقبَلَ سعدُ بن أبي وقّاص فوَقَفَ عليهم، فقال: ما هذا؟ فقالوا: رجل يَشتِمُ عليَّ بن أبي طالب، فتقدَّم سعدٌ فأَفرَجوا له حتَّى وقفَ عليه، فقال: يا هذا، علَامَ علي بن أبي طالب؟ ألم يكنَ أولَ من أسلمَ؟ ألم يكن أولَ من صلَّى مع رسول الله ﷺ؟ ألم يكن أزهدَ الناس؟ ألم يكن أعلمَ الناس؟ وذكر حتَّى قال: ألم يكن خَتَنَ رسولِ الله ﷺ على ابنتِه؟ ألم يكن صاحبَ رايةِ رسول الله ﷺ في غَزَواته؟ ثم استقبَلَ القِبلةَ ورفع يديه، وقال: اللهمَ إنَّ هذا يَشتِمُ وليًّا من أوليائك، فلا تُفرِّقُ هذا الجمعَ حتَّى تُرِيَهم قُدرتَك. قال قيس: فوالله ما تفرَّقْنا حتَّى ساخَتْ به دابَّتُه فرَمَتْه على هامَتِه في تلك الأحجار، فانفلَقَ دماغُه ومات (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6121 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6121 - على شرط البخاري ومسلم
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مدینہ منورہ میں تھا اور بازار کا چکر لگا رہا تھا کہ جب میں ”احجار الزیت“ کے مقام پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ لوگوں کا ایک ہجوم ایک گھڑ سوار کے گرد جمع ہے جو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہا تھا اور لوگ اس کے ارد گرد کھڑے سن رہے تھے، اتنے میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر پوچھا: ”یہ کیا ہو رہا ہے؟“ لوگوں نے بتایا: ”یہ شخص علی بن ابی طالب کو برا کہہ رہا ہے،“ پس سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آگے بڑھے تو لوگوں نے ان کے لیے راستہ چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ اس شخص کے سامنے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”اے شخص! تو علی بن ابی طالب کو کس بنیاد پر برا بھلا کہہ رہا ہے؟ کیا وہ سب سے پہلے اسلام لانے والے نہیں تھے؟ کیا وہ پہلے شخص نہیں تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی؟ کیا وہ لوگوں میں سب سے زیادہ زاہد نہیں تھے؟ کیا وہ لوگوں میں سب سے بڑے عالم نہیں تھے؟“ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل ذکر کیے یہاں تک کہ فرمایا: ”کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد اور آپ کی صاحبزادی کے شوہر نہیں تھے؟ کیا وہ غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علمبردار نہیں تھے؟“ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ قبلہ رخ ہوئے اور اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کی: ”اے اللہ! یہ شخص تیرے ولیوں میں سے ایک ولی کو گالیاں دے رہا ہے، تو اس ہجوم کے منتشر ہونے سے پہلے ان لوگوں کو اپنی قدرت کا نشان دکھا دے،“ قیس کہتے ہیں: پس اللہ کی قسم! ہم ابھی منتشر نہیں ہوئے تھے کہ اس کی سواری نے اسے پٹخ دیا اور وہ ان پتھروں پر اپنے سر کے بل گرا جس سے اس کا دماغ پھٹ گیا اور وہ وہیں مر گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6241]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6241]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه لِين من جهة الحسن بن علي بن زياد، فهو - وإن روى عنه غير واحد - لم يؤثر فيه جرح أو تعديل، فهو مستور الحال وتُقبَل روايته في المتابعات والشواهد، لكنّ خبره هذا الذي ساقه المصنّف لم يتابعه عليه أحد بهذا السياق، ولم نقف عليه عند غير المصنّف، ...» [ترقيم الرساله 6241] [ترقيم الشركة 6178] [ترقيم العلميه 6121]
الحكم على الحديث: إسناده فيه لِين من جهة الحسن بن علي بن زياد
حدیث نمبر: 6242
وحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حَدَّثَنَا العبّاس بن الفضل الأَسْفاطي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن يحيى الشَّجَري [حدثني أبي] (2) حدثني موسى بن عُقْبة، حدثني إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن سعد بن أبي وقّاص قال: قال لي رسول الله ﷺ:"اللهمَّ سدِّدْ رميتَه، وأجِبْ دعوتَه" (1) .
هذا حديثٌ تفرَّدَ به يحيى بنُ هانيء (2) الشَّجَري، وهو شيخٌ ثقةٌ من أهل المدينة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6122 - تفرد به الشجري وهو ثقة
هذا حديثٌ تفرَّدَ به يحيى بنُ هانيء (2) الشَّجَري، وهو شيخٌ ثقةٌ من أهل المدينة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6122 - تفرد به الشجري وهو ثقة
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ سَدِّدْ رَمْيَتَهُ، وَأَجِبْ دَعْوَتَهُ» ”اے اللہ! اس کا نشانہ ٹھیک رکھ اور اس کی دعا قبول فرما۔“
یہ حدیث یحییٰ بن ہانی شجری نے تنہا روایت کی ہے اور وہ اہل مدینہ کے ثقہ شیخ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6242]
یہ حدیث یحییٰ بن ہانی شجری نے تنہا روایت کی ہے اور وہ اہل مدینہ کے ثقہ شیخ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6242]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن يحيى وأبيه.» [ترقيم الرساله 6242] [ترقيم الشركة 6179] [ترقيم العلميه 6122]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6243
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بكَّار بن قُتَيبة القاضي، حَدَّثَنَا صفوان بن عيسى، حَدَّثَنَا هاشم بن هاشم الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب قال: كنت جالسًا مع سعدٍ، فجاء رجل يقال له: الحارثُ ابن بَرْصاءَ، وهو في السُّوق، فقال له: يا أبا إسحاق، إن كنت آنِفًا عند مروانَ فسمعتُه وهو يقول: إنَّ هذا المالَ مالُنا، نُعطيهِ من نشاءُ (3) ، قال فرفع سعدٌ يده وقال: أفَأَدْعُو؟! فَوَثَبَ مروانُ وهو على سريره فاعتنقَه، قال: أَنشُدُكَ يا أبا إسحاق أن تدعوَ، فإنما هو مالُ الله (4) .
سعید بن مسیب سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار میں بیٹھا تھا کہ حارث بن برصاء نامی ایک شخص آیا اور ان سے کہنے لگا: اے ابو اسحاق! ابھی میں مروان کے پاس تھا اور میں نے اسے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ: ”یہ مال ہمارا مال ہے، ہم جسے چاہیں عطا کریں۔“ یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا: ”تو کیا میں (تمہارے خلاف) بددعا کروں؟“ مروان اپنی نشست سے اچھل کر ان کی طرف لپکا اور ان سے بغل گیر ہو کر کہنے لگا: ”اے ابو اسحاق! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ بددعا نہ کریں، یقیناً یہ اللہ ہی کا مال ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6243]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي.» [ترقيم الرساله 6243] [ترقيم الشركة 6180]
الحكم على الحديث: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 6244
حدثناه أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حَدَّثَنَا مكِّيّ بن إبراهيم، حَدَّثَنَا هاشم بن هاشم، عن سعيد بن المسيّب، عن سعد؛ قال: جاء الحارثُ بن البَرْصاء وهو في السُّوق، فقال له: يا أبا إسحاق، إني سمعت مروانَ يزعُمُ أنَّ مالَ الله مالُه، مَن شاء أعطاه ومَن شَاء مَنَعَه، فقال له: أنت سمعتَه يقول ذلك؟ قال: نعم، قال سعيد: فأَخذَ بيدي سعدٌ وبيدِ الحارث حتَّى دخل على مروان، فقال: يا مروانُ، أنت تَزعُمُ أَنَّ مالَ الله مالُك، من شئتَ أعطَيتَه، ومن شئتَ منعتَه؟ قال: نعم (1) ، قال: فادْعُ، ورفع سعدٌ يديه، فوَثَبَ إليه مروانُ وقال: أَنشُدُك الله أن تدعوَ، هو مالُ الله مَن شاء أعطاه، ومَن شاء مَنَعَه (2) .
سعید بن مسیب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حارث بن برصاء بازار میں ان کے پاس آئے اور ان سے کہا: اے ابو اسحاق! میں نے مروان کو یہ دعویٰ کرتے سنا ہے کہ اللہ کا مال اس کا اپنا مال ہے، وہ جسے چاہے دے اور جسے چاہے نہ دے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا تم نے اسے خود یہ کہتے سنا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، سعید کہتے ہیں کہ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے میرا اور حارث کا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ وہ مروان کے پاس پہنچ گئے اور دریافت فرمایا: ”اے مروان! کیا تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ اللہ کا مال تمہارا مال ہے، جسے چاہو دو اور جسے چاہو نہ دو؟“ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے فرمایا: ”پھر میں بددعا کرتا ہوں،“ اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے، تو مروان تڑپ کر ان کی طرف بڑھا اور کہنے لگا: ”میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ بددعا نہ کریں، یہ اللہ ہی کا مال ہے، وہ جسے چاہے عطا فرمائے اور جسے چاہے نہ دے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6244]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 6244] [ترقيم الشركة 6181]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح