🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
748. فضيلة مكة على بيت المقدس
مکہ مکرمہ کی فضیلت بیت المقدس پر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6250
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، حدثني عثمان بن هِنْد بن عبد الله بن عثمان بن الأرقَم بن أبي الأرقَم المخزومي قال: أخبرني أَبي، عن يحيى بن عثمان بن الأرقَم، حدثني جدِّي عثمان بن الأرقَم أنه كان يقول: أنا ابن سُبعِ الإسلام؛ أسلمَ أبي سابعَ سبعةٍ، وكانت دارُه على الصَّفَا، وهي الدار التي كان النَّبِيُّ ﷺ يكون فيها في الإسلام، وفيها دَعَا الناسَ إلى الإسلام، فأسلَمَ فيها قومٌ كثير، وقال رسول الله ﷺ ليلةَ الاثنين فيها:"اللهم أعِزَّ الإسلام بأحبِّ الرجلين إليك: عمرَ بن الخطَّاب، أو عَمْرِو بن هشام"، فجاء عمرُ بن الخطَّاب من الغدِ بُكْرةً، فأسلَمَ في دار الأرقم، وخرجوا منها وكبَّروا، وطافُوا بالبيت ظاهرين. ودُعِيَت دارُ الأرقم دارَ الإسلام، وتَصدَّق بها الأرقمُ على ولدِه، فقرأتُ نسخةَ صدقةِ الأرقم بداره: بسم الله الرحمن الرحيم، هذا ما قَضَى الأرقمُ في رَبْعِه ما حازَ الصَّفَا، أنها صدقةٌ بمكانها من الحَرَم لا تُباعُ ولا تُورَثُ؛ شَهِدَ هشامُ بن العاص وفلانٌ مولى هشام بن العاص، قال: فلم تَزَلْ هذه الدارُ صدقةً قائمةٌ، فيها ولدُه يَسكُنون ويُؤاجِرون ويأخذون غَلَّتَها حتَّى كان زمنُ أبي جعفر (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6129 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عثمان بن ارقم فرمایا کرتے تھے کہ میں سبع الاسلام (ساتویں نمبر پر اسلام لانے والے شخص) کا بیٹا ہوں، میرے والد ساتویں نمبر پر اسلام لائے تھے، ان کا گھر صفا پر تھا، یہ وہی گھر ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ کا آغاز فرمایا، اور اس گھر میں بہت سارے لوگ مسلمان ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گھر میں پیر کی شب کو یہ دعا فرمائی اے اللہ! دو آدمیوں عمر بن خطاب اور عمر بن ہشام میں سے جو تجھے پسند ہے تو اس کے سبب دین اسلام کو عزت بخش اگلے ہی دن صبح سویرے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے اور دارارقم میں اسلام قبول کیا، (آپ رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بعد) تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے دارارقم سے باہر آئے اور کھلے عام بیت اللہ شریف کا طواف کیا۔ دارارقم کو دارالاسلام کا نام دیا گیا۔ سیدنا ارقم نے اپنے بیٹے کے نام پر وہ مکان صدقہ کر دیا، میں نے خود دارارقم میں صدقہ کرنے کی دستاویز پڑھی، اس کی تحریر یوں تھی بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ دستاویز اس بات کا ثبوت ہیں کہ ارقم نے اپنا یہ مکان جو کہ صفاء کے بالمقابل ہے یہ حرم کیلئے صدقہ ہے، اس کو نہ وراثت کے طور پر تقسیم کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کو بیچا جا سکتا ہے، ہشام بن عاص اور ہشام بن عاص کے فلاں آزاد کردہ غلام اس بات کے گواہ ہیں۔ اس کے بعد ابوجعفر کے زمانے تک یہ گھر صدقہ کے طور پر رہا، اس گھر میں سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ کی اولادیں کرایہ دے کر رہتی رہیں۔ محمد بن عمر کہتے ہیں: یحیی بن عمران بن عثمان بن ارقم فرماتے ہیں: مجھے آج بھی وہ بات یاد ہے جس کی بناء پر ابوجعفر کے دل میں اس مکان کے بارے میں خیال پیدا ہوا۔ (واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ) جب ابوجعفر حج کے لئے آیا، وہ صفا مروہ کی سعی کر رہا تھا، ہم اپنے مکان کی چھت پر تھے، وہ ہمارے نیچے سے گزرا، (وہ اتنے قریب سے گزرا) کہ اگر ہم اس کی ٹوپی اتارنا چاہتے تو اتار سکتے تھے، وہ جب وادی سے نیچے اترتا تو ہمیں دیکھتا تھا، پھر وہ صفا پر چڑھ جاتا۔ جب محمد بن عبداللہ بن حسن نے مدینہ میں بغاوت کی تو اس موقع پر عبداللہ بن عثمان بن ارقم نے ان کی بیعت کر لی تھی اور محمد بن عبداللہ بن حسن کے ساتھ بغاوت میں ان کا ساتھ نہیں دیا تھا، ابوجعفر نے اس بات کا سخت نوٹس لیا، اس نے مدینہ میں اپنے عامل کی جانب خط لکھا کہ اس کو گرفتار کر کے زنجیروں میں جکڑ دیا جائے، پھر کوفہ کے رہنے والے ایک شہاب بن عبدرب نامی شخص کو بھیجا اور اس کے ساتھ مدینہ کے عامل کے نام ایک مکتوب بھی بھیجا جس میں یہ ہدایت دی گئی تھی کہ شہاب بن عبدرب جو کہے اس پر عمل کیا جائے، چنانچہ شہاب بن عبدرب نے جا کر عبداللہ بن عثمان کو گرفتار کر لیا، عبداللہ بن عثمان اس وقت اسی سال سے زائد عمر کے بزرگ انسان تھے، قید اور زنجیروں کی وجہ سے بہت گھبرا گئے تھے، شہاب نے کہا: اگر تم یہ مکان مجھے بیچ دو تو میں تمہیں اس تکلیف سے نجات دلا سکتا ہوں۔ امیرالمومنین یہ مکان لینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اگر آپ یہ بیچ دیں تو میں ان سے درخواست کروں گا کہ وہ تمہیں رہا کر دیں۔ سیدنا عبداللہ بن عثمان نے فرمایا: یہ مکان تو صدقہ کا ہے، ہاں البتہ میں اپنا حق ان کو دے سکتا ہوں، لیکن اس مکان میں صرف میں ہی نہیں ہوں بلکہ میرے ہمراہ میرے دیگر بھائی بھی (شریک) ہیں۔ اس نے کہا: آپ اپنے حق کے ذمہ دار ہیں، آپ اپنا حق ہمیں دے دیں تو تم اس سے بری ہو، شہاب نے اس بات پر گواہ قائم کئے، اور ابوجعفر کی طرف خط لکھ دیا کہ میں نے وہ مکان 17 ہزار دینار کے بدلے میں خرید لیا ہے، اس کے بعد ان کے بھائیوں کو ڈھونڈا، ان کو بہت زیادہ مال و دولت کی لالچ دی، انہوں نے اپنا حصہ بیچ دیا۔ اس طرح وہ مکان ابوجعفر اور اس کے حصہ داروں کا ہو گیا۔ اس کے بعد یہ مکان مہدی نے موسیٰ و ہارون کی والدہ خیزران کو دیا، اس نے اس کی تعمیر نو کی، وہی اس کی پہچان بن گئی، پھر یہ مکان جعفر بن موسیٰ ہادی کا ہو گیا، اس کے بعد سطوی اور عدنی لوگ اس کے مالک رہے، پھر اس کے اکثر حصص کو جعفر بن موسیٰ کے بیٹے غسان بن عباد نے خریدا۔ اور دارارقم مدینہ بنی زریق میں ہے۔ محمد بن عمر کہتے ہیں: مجھے محمد بن عمران بن ہند نے اپنے والد کے حوالے سے بتایا ہے کہ ارقم بن ابی ارقم کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے وصیت کی کہ ان کی نماز جنازہ سیدنا سعد پڑھائیں، مروان نے کہا: کیا تم ایک ایسے آدمی کے انتظار میں جو یہاں سے غائب ہے ایک صحابی رسول کو روک رہے ہو؟ وہ جنازہ پڑھانا چاہتا تھا۔ لیکن عبداللہ بن ارقم نے مروان کو اپنے والد کا جنازہ پڑھانے سے منع کر دیا۔ اور بنو مخزوم ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے، ان میں بات بڑھ گئی، اتنی دیر میں سیدنا سعد تشریف لے آئے اور ان کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ یہ 55 ہجری کا واقعہ ہے۔ سیدنا ارقم کی عمر اسی سال سے کچھ اوپر تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6250]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6250 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرّف في النسخ الخطية إلى: أبي حفص، وقد ضرب على كلمة "حفص" في النسخة المحمودية - كما في طبعة الميمان - وكتب فوقها جعفر، وهو الصواب الذي تدل عليه القصة التالية، وأبو جعفر هذا: وهو الخليفة المنصور العبّاسي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں تحریف سے نام 'ابو حفص' ہو گیا ہے، جبکہ نسخہ محمودیہ میں اس پر لکیر پھیر کر اوپر 'جعفر' لکھا گیا ہے، یہی درست ہے کیونکہ اگلا قصہ اسی پر دلالت کرتا ہے۔ ابو جعفر سے مراد خلیفہ منصور عباسی ہے۔
وإسناده هذا الخبر ضعيف، فالواقدي فيه كلام معروف، ومن فوقه مجاهيل، عثمان بن هند وأبوه لم نقف لهما على ترجمة، وأما يحيى بن عثمان بن الأرقم: فهو يحيى بن عمران بن عثمان، روى عنه اثنان آخران غير هند بن عبد الله المذكور هنا كما في "التاريخ الكبير" للبخاري 8/ 297، و"الجرح والتعديل" لابن أبي حاتم 9/ 177 - 178 وذكر عن أبيه أنه قال فيه: شيخ مدني مجهول، وذكره ابن حبان في "ثقاته" 9/ 253. وأما جدُّه عثمان فروى عنه غير واحد وذكره ابن حبان في "الثقات" 5/ 157.
⚖️ درجۂ حدیث: اس خبر کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: واقدی پر کلام معروف ہے، اور ان سے اوپر والے راوی (عثمان بن ہند اور ان کے والد) مجہول ہیں۔ یحییٰ بن عثمان کے بارے میں ابو حاتم رازی نے 'شیخ مدنی مجہول' کہا ہے، اگرچہ ابن حبان نے انہیں 'الثقات' میں ذکر کیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 3/ 224، ومن طريقه ابن الجوزي في "المنتظم" 5/ 279 - 280 عن محمد بن عمران بن هند بن عبد الله بن عثمان، عن أبيه، عن يحيى بن عمران، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے 'الطبقات' (3/ 224) میں اور ان کے واسطے سے ابن الجوزی نے 'المنتظم' میں محمد بن عمران عن ابیہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ثم قال ابن سعد: قال محمد بن عمران: فأخبرني أبي عن يحيى بن عمران بن عثمان بن الأرقم قال: إني لأعلم اليوم … وذكر الخبر التالي عند المصنّف. ومحمد بن عمران هذا وأبوه لم نقف على ترجمتهما أيضًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن سعد کی روایت میں یحییٰ بن عمران کا قول "بیشک میں آج جانتا ہوں..." مذکور ہے۔ محمد بن عمران اور ان کے والد دونوں غیر معروف (مجہول) ہیں۔
وذكر أوله إلى قوله "فأسلم قوم كثير" الطبري في كتاب "ذيل المذيَّل" كما في "منتخبه" 11/ 519 عن ابن عمر - يعني الواقدي -: أنَّ محمد بن عمران بن هند حدثه قال: أخبرني أبي عن يحيى بن عمران بن عثمان … فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: امام طبری نے "ذیل المذیّل" (منتخب: 11/ 519) میں واقدی کے طریق سے اس کا ابتدائی حصہ "پس بہت سے لوگ اسلام لائے" تک روایت کیا ہے۔
وفي قوله مرفوعًا: "اللهم أعزّ الإسلام بأحب الرجلين إليك .... " انظر ما سلف برقم (4534)، وهو حديث حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: دعا "اے اللہ! ان دو شخصوں میں سے جو تجھے زیادہ محبوب ہے اس کے ذریعے اسلام کو عزت دے" ایک 'حسن' حدیث ہے، دیکھیں رقم (4534)۔