🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
762. فضيلة طالب العلم
طالب علم کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6291
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حَدَّثَنَا عمرو بن عَوْن، حَدَّثَنَا هُشَيم، عن يعلى بن عطاء، عن الوليد بن عبد الرحمن الجُرَشي، عن ابن عمر: أنه مرَّ بأبي هريرة وهو يُحدَّث عن النَّبِيّ ﷺ:"مَن تَبِعَ جِنازةً فله قِيراطٌ، فإن شَهِدَ دفنَها فله قيراطانِ، القيراطُ أعظمُ من أُحدٍ". فقال ابن عمر: يا أبا هِرٍّ، انظرْ ما تحدِّثُ عن رسول الله ﷺ، فقام إليه أبو هريرة حتَّى انطَلَقَ إلى عائشة، فقال لها: يا أمَّ المؤمنين، أَنشُدُكِ الله، أسمعتِ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن تَبِعَ جنازةً فصلَّى عليها فله قيراطٌ، وإن شهدَ دفنَها فله قيراطانِ"؟ فقالت: اللهمَّ نعم، فقال أبو هريرة: إنه لم يكن يَشغَلُنا عن رسول الله ﷺ غَرْسٌ، ولا صَفْقٌ بالأسواق، إنما كنت أطلُبُ من رسول الله ﷺ كلمةً يُعلِّمُنِيها أو أُكْلةً يُطعِمُنِيها، فقال ابن عمر: يا أبا هريرة، كنتَ أَلزمَنا لرسول الله ﷺ وأعلمَنا بحديثِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6167 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں مروی ہے کہ وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے۔ اس وقت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کر رہے تھے جو جنازے کے ساتھ چلا، اس کے لئے ایک قیراط (ثواب) ہے، اور اگر وہ اس کی تدفین میں بھی شریک ہوا تو اس کے لئے دو قیراط (ثواب) ہے۔ جو کہ احد پہاڑ سے بھی بڑا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ غور تو کرو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا بیان کر رہے ہو؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے آئے اور عرض کی: اے ام المومنین! میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص جنازہ کے ساتھ چلا اس کے لئے ایک قیراط ہے، اور اگر وہ اس کی تدفین میں بھی شریک ہوا تو اس کے لئے دو قیراط ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی شادی یا بازار کے کام کی وجہ سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے کبھی غیر حاضر نہیں ہوا۔ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایک کلمہ سیکھنے اور ایک ایک لقمہ کھانے کا طلبگار ہوا کرتا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو ہم سے زیادہ جانتے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6291]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6291 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنَّ رواية الوليد بن عبد الرحمن الجرشي له عن ابن عمر وأبي هريرة على وجه الإرسال، فإنه لا يصح له عن أحد من الصحابة سماع كما قال ابن حبان في "مشاهير علماء الأنصار" (1462).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ولید بن عبد الرحمن الجرشی کی حضرت ابن عمر اور ابو ہریرہ سے روایت 'مرسل' ہے، کیونکہ ابن حبان کے بقول ان کا کسی بھی صحابی سے سماع ثابت نہیں ہے۔
وأخرجه أحمد 8/ (4453) عن هشيم بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 'مسند' (8/ 4453) میں ہشیم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد أيضًا 14 / (9016) من طريق حماد بن سلمة، عن يعلى بن عطاء، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس جیسی روایت امام احمد (14/ 9016) نے حماد بن سلمہ عن یعلیٰ بن عطاء کے طریق سے بھی روایت کی ہے۔
وأخرجه مختصرًا البخاري (1323 - 132)، ومسلم (945) (55) من طريق جرير بن حازم، عن نافع قال: قيل لابن عمر: إنَّ أبا هريرة يقول … فذكر نحوه مختصرًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (1323) اور مسلم (945) نے جریر بن حازم عن نافع کے طریق سے مختصراً روایت کیا ہے کہ ابن عمر کو بتایا گیا کہ ابو ہریرہ (جنازے کے ثواب کے بارے میں) یہ کہہ رہے ہیں۔
وأخرجه كذلك مسلم (945) (56)، وأبو داود (3169)، وابن حبان (3079) من طريق عامر بن سعد بن أبي وقاص، عن ابن عمر وأبي هريرة بنحو هذه القصة. وكذلك أخرجه أحمد (16/ 10468)، والترمذي (1040) من طريق أبي سلمة، عن أبي هريرة وابن عمر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم، ابو داود (3169) اور ابن حبان نے عامر بن سعد کے طریق سے، اور امام احمد و ترمذی نے ابو سلمہ کے طریق سے حضرت ابو ہریرہ اور ابن عمر سے اسی قصے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج القطعة الأخيرة منه الترمذي (3836) عن أحمد بن منيع، عن هشيم، به. وفيه تصريح هشيم بسماعه من يعلى بن عطاء. وقال الترمذي: حديث حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اس کا آخری ٹکڑا امام ترمذی (3836) نے ہشیم کے طریق سے روایت کیا ہے جس میں ہشیم نے یعلیٰ بن عطاء سے اپنے سماع کی صراحت کی ہے؛ ترمذی نے اسے 'حسن' قرار دیا ہے۔
وحديث أبي هريرة وحده دون القصة أخرجه أحمد 12 / (7188) و (7353) و 13/ (7690) و 14 / (8265) و 15/ 9208) و (9551) و 16 / (9904) و (10142) و (10758) و (10875)، والبخاري (47) و (1325)، ومسلم (945) (52 - 54)، وأبو داود (3168)، وابن ماجه (1539)، وابن حبان (3078) و (3080) من طرق عن أبي هريرة.
📖 حوالہ / مصدر: حضرت ابو ہریرہ کی (بغیر قصے کے) یہ روایت کتبِ ستہ اور مسند احمد کے متعدد مقامات پر صحیح سندوں کے ساتھ موجود ہے۔
وفي الباب من الشواهد عن غير واحد من الصحابة مذكورة في عملنا على "المسند" 8/ (4453).
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں دیگر کئی صحابہ سے شواہد موجود ہیں جن کا ذکر ہم نے "مسند احمد" (8/ 4453) کی تحقیق میں کیا ہے۔
القيراط: مقدار معلوم من الأجر عند الله ﷿.
📝 نوٹ / توضیح: 'قیراط' سے مراد اللہ کے ہاں اجر و ثواب کی ایک عظیم اور معلوم مقدار ہے۔
والأُكْلة، بالضم: اللُّقمة الواحدة، وبالفتح: المرة الواحدة من الأكل حتَّى تُشبع.
📝 نوٹ / توضیح: 'الاُکلہ' (پیش کے ساتھ) کا معنی ایک لقمہ ہے، اور 'الاَکلہ' (زبر کے ساتھ) کا معنی پیٹ بھر کر ایک بار کھانا ہے۔