🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
773. كان أبو أسيد أمينا على نساء النبى
ابو اسید نبی کریم ﷺ کی ازواج کے معاملات پر امین تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6315
حدثنا الشيخ أبو بكر بن بالَوَيِه، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مُصعَب بن عبد الله قال: وفي السَّنةِ الجماعةِ سنةِ أربعين (3) مات أبو أُسَيد مالكُ بن رَبيعة بن عامر بن عَوْف بن الخَزَرج بن ساعدةَ، وهو آخر من مات من أهل بدرٍ، وكان ممَّن أبصَرَ الملائكة يوم بدر، فكُفَّ بصره، فكان أمينَ رسول الله ﷺ على نسائه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6190 - هذا خطأ
مصعب بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: جماعت کا سال 40 ہجری ہے۔ سیدنا ابواسید مالک بن ربیعہ بن عامر بن عوف بن خزرج بن ساعدہ ہیں۔ بدری صحابہ میں سب سے آخر میں یہی فوت ہوئے۔ یہ وہی صحابی ہیں جنہوں نے جنگ بدر کے دن ملائکہ کو دیکھا تھا۔ ان کی بینائی زائل ہو گئی تھی۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے امین ہوا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6315]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6315 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) هكذا في (ز) و (ب)، وهذه العبارة "وفي السنة الجماعة سنة أربعين" مكانها بياض في (م) و (ص).
🔍 فنی نکتہ / علّت: جملہ "اور جماعت کے سال (عام الجماعہ) 40ھ میں" نسخہ (ز) اور (ب) میں ہے، جبکہ (م) اور (ص) میں یہاں جگہ خالی چھوڑی گئی ہے۔
(1) قال الذهبي في "تلخيصه": هذا خطأ. قلنا: لعله أراد تخطئة كونه آخر البدريين وفاةً، فقد توفي بعده منهم سعد بن أبي وقاص سنة خمس وخمسين، أما سنة وفاة أبي أسيد فقد صحَّح الذهبي نفسه في كتابيه "سير النبلاء" 2/ 538 و "تاريخ الإسلام" 2/ 375 أنها في سنة أربعين.
📌 اہم نکتہ: علامہ ذہبی کا اسے غلط قرار دینا غالباً اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ آخری بدری صحابی نہیں تھے (کیونکہ حضرت سعد بن ابی وقاص 55ھ میں فوت ہوئے)۔ البتہ ان کی وفات کا سال 40ھ ہی درست ہے جیسا کہ ذہبی نے خود صراحت کی ہے۔