🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
823. تعليم النبى ابن عباس رضي الله عنهما
نبی کریم ﷺ کا سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو تعلیم دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6435
وأخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا إبراهيم ابن الحَجّاج السَّامي، حدثنا عبد الوارث بن سعيد حدثنا أبو قَبِيصة سُكَين بن عبد العزيز (2) المُجاشعي، حدثني عبد الله بن عُبَيد بن عُمير قال: بينما ابنُ عبّاس مع عمر وهو آخذٌ بيده، فقال عمر: أَرى القرآنَ قد ظَهَرَ في الناس، فقلت: ما أُحِبُّ ذاكَ يا أمير المؤمنين، قال: فاجتَذَبَ يدَه من يدي وقال: لِمَ؟ قلتُ: لأنهم متى يَقرؤوا يَنفِروا، ومتى ما يَنفِروا يختلفوا، ومتى ما يختلفوا يضربْ بعضُهم رِقابَ بعض، فقال: فحُبِسَ عني وتَرَكني، فظَلِلتُ بيومٍ لا يعلمُه إلَّا الله، ثم أَتاني رسولُه عند الظُّهر فقال: أَجِبْ أميرَ المؤمنين، قال: فأتيتُه، فقال لي: كيف قلتَ؟ قلتُ: ما أحبُّ ذاك يا أمير المؤمنين، إنهم متى ما يقرؤُوا يَنفروا، ومتى ما يَنفِرُوا اختلفوا، ومتى ما يَختلِفوا يضربْ بعضُهم رقابَ بعض، فقال عمر: إن كنتُ لأكاتمُها الناسَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6302 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عبداللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ قرآن کریم لوگوں میں پھیل چکا ہے، میں نے کہا: اے امیرالمومنین! میں اس کو اچھا نہیں سمجھتا۔ انہوں نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑا لیا اور فرمایا: تم نے ایسی بات کیوں کہی؟ میں نے کہا: اس لئے کہ جب وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، تو بار بار پڑھتے ہیں، اور جب بار بار پڑھتے ہیں تو ان کا اختلاف ہو جاتا ہے، اور جب ان کا اختلاف ہوتا ہے تو وہ ایک دوسرے سے لڑنے لگ جاتے ہیں۔ یہ سن کر وہ بیٹھ گئے اور مجھے چھوڑ دیا، اس دن مجھے جو تکلیف ہوئی اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر ان کا ایک قاصد میرے پاس آیا اور پیغام دیا کہ امیرالمومنین تمہیں بلا رہے ہیں، میں ان کے پاس آیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے کیا کہا تھا؟ میں نے وہ بات دوبارہ دہرائی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس بات کو ہمیشہ چھپاتا رہا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6435]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6435 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) كذا وقع عنده: سكين بن عبد العزيز، وهو خطأ، فسكين هذا الذي يروي عن عبد الله بن عبيد وعنه عبد الوارث هو سكين بن يزيد، وهو الذي يكنى أبا قبيصة. انظر "التاريخ الكبير" للبخاري 4/ 199، و"الكنى والأسماء" لمسلم (2813)، وللدولابي 3/ 923، و "الثقات" لابن حبان 6/ 432.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں "سکین بن عبدالعزیز" کا نام غلطی سے لکھا گیا ہے؛ درست نام "سکین بن یزید" ہے جو عبداللہ بن عبید سے روایت کرتے ہیں اور ان سے عبدالوارث روایت کرتے ہیں۔ ان کی کنیت ابوقبیصہ ہے۔ تفصیل کے لیے بخاری "التاریخ الکبیر" (4/ 199) اور ابن حبان "الثقات" (6/ 432) ملاحظہ کریں۔
(1) أصل الخبر صحيح كما في سابقه، وهذا إسناد منقطع، فإِنَّ عبد الله بن عبيد لم يدرك عمر، ولعله حمله عن ابن عبّاس، فقد أدركه وروى عنه. وسكين ليس بذاك المعروف.
⚖️ درجۂ حدیث: خبر کی اصل صحیح ہے، لیکن یہ سند "منقطع" ہے، کیونکہ عبداللہ بن عبید نے حضرت عمر کا زمانہ نہیں پایا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: غالب گمان یہ ہے کہ انہوں نے یہ ابن عباس سے سنا ہوگا کیونکہ ان سے ان کی ملاقات اور روایت ثابت ہے۔ نیز راوی "سکین" زیادہ معروف نہیں ہیں۔