المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
823. تعليم النبى ابن عباس رضي الله عنهما
نبی کریم ﷺ کا سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو تعلیم دینا
حدیث نمبر: 6436
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب عَوْدًا على بَدْءٍ، حِفظًا ومن الكِتاب، حدثنا أحمد بن شَيْبان الرَّملي، حدثنا عبد الله بن ميمون القَدَّاح، عن شِهاب بن خِرَاش، عن عبد الملك بن عُمير، عن ابن عبّاس قال: أُهدِيَ إلى النبي ﷺ بغلةٌ، أهداها له كِسْرى فرَكِبَها بحَبْلٍ من شَعر، ثم أردَفَني خلفَه، ثم سار بي مَلِيًّا ثم التَفَت فقال:"يا غلامُ" قلت: لبَّيْكَ يا رسولَ الله، قال:"احفَظ الله يَحفَظْك، احفَظِ الله تَجِده أمامَك، تَعرَّف إلى الله في الرَّخاءِ يَعرِفْك في الشِّدّة، وإذا سألتَ فاسألِ الله، وإذا استعنتَ فاستَعِنْ بالله، قد مضى القلمُ بما هو كائنٌ، فلو جَهَدَ الناسُ أن يَنفَعوك بما لم يَقضِهِ اللهُ لك، لم يَقدِروا عليه، ولو جَهَدَ الناسُ أن يَضرُّوك بما لم يَكتبْه اللهُ عليك، لم يَقدِروا عليه، فإن استطعت أن تعملَ بالصَّبر مع اليقين فافعَلْ، فإن لم تستطعْ فاصبِرْ، فإنَّ في الصبر على ما تَكرهُه خيرًا كثيرًا، واعلمْ أنَّ مع الصبر النَّصْرَ، واعلمْ أنَّ مع الكَرْب الفَرَجَ، واعلم أنَّ مع العُسر اليُسر" (2) .
هذا حديثٌ كبيرٌ عالٍ من حديث عبد الملك بن عُمير عن ابن عبّاس ﵄، إلَّا أنَّ الشيخين لم يُخرجا شِهابَ بنَ خِرَاش ولا القَدّاحَ في"الصحيحين"، وقد رُوِيَ الحديثُ بأسانيد عن ابن عبّاس غيرِ هذا (1) .
هذا حديثٌ كبيرٌ عالٍ من حديث عبد الملك بن عُمير عن ابن عبّاس ﵄، إلَّا أنَّ الشيخين لم يُخرجا شِهابَ بنَ خِرَاش ولا القَدّاحَ في"الصحيحين"، وقد رُوِيَ الحديثُ بأسانيد عن ابن عبّاس غيرِ هذا (1) .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کسریٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک خچر بطور تحفہ بھیجا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالوں کی بٹی ہوئی رسی کی مدد سے اس پر سوار ہوئے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی اپنے پیچھے سوار کر لیا، کچھ دور تک چلنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری جانب متوجہ ہوئے اور آواز دی: اے لڑکے! میں نے کہا: لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو (حدود) اللہ کی حفاظت کر، اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے گا، تو اللہ تعالیٰ (کے دین) کی حفاظت کر تو اس (کی مدد) کو اپنے سامنے پائے گا۔ اللہ تعالیٰ کو آسودگی میں یاد کیا کر، اللہ تعالیٰ تنگی میں تجھے یاد رکھے گا، جب بھی مانگنا ہو، اللہ تعالیٰ سے مانگو، جب بھی مدد چاہو، اللہ تعالیٰ سے چاہو، جو کچھ بھی ہونے والا ہے، (تقدیر کے) قلم نے سب لکھ دیا ہے۔ اگر ساری دنیا مل کر تجھے اس چیز کا فائدہ دینا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیرے نصیب میں نہیں لکھی، تو یہ تجھے کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اور ساری دنیا مل کر تجھے اس چیز کا نقصان دینا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو یہ تجھے کچھ بھی نقصان نہیں دے سکتی۔ اگر ہو سکے تو یقین کے ساتھ عمل کر، اگر نہیں کر سکتا تو صبر اختیار کر کیونکہ ناپسندیدہ چیز پر صبر کرنے میں بہت بھلائی موجود ہے۔ اور جان لو کہ صبر کے ساتھ ہی مدد ہے۔ اور جان لو کہ ہر تکلیف کے بعد کشادگی ہوتی ہے۔ اور جان لو کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہوتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث کبیر ہے، اور اس کی سند عبدالملک بن عمیر کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، عالی ہے۔ تاہم شیخین نے اپنی ” صحیحین “ میں ” شہاب بن خراش “ اور ” قداح “ کی روایات نقل نہیں کیں۔ البتہ یہی حدیث اس مذکورہ اسناد کے علاوہ بھی دیگر کئی اسانید کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6436]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6436 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف جدًّا من أجل عبد الله بن ميمون القداح، فإنه متروك ذاهب الحديث، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه" ثم قال: وعبد الملك لم يسمع من ابن عبّاس فيما أرى.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف جداً" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں عبداللہ بن میمون القداح موجود ہے جو کہ "متروک" اور "ذاہب الحدیث" ہے۔ امام ذہبی نے اسی وجہ سے اس پر جرح کی اور یہ بھی کہا کہ عبدالملک (بن عمیر) کا ابن عباس سے سماع ثابت نہیں ہے۔
وأخرجه الواحدي في "الوسيط" 2/ 257 - 258، والبغوي في "تفسيره" 3/ 132 - 133 من طريق أبي العبّاس محمد بن يعقوب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے واحدی "الوسیط" (2/ 257) اور بغوی "تفسیر" (3/ 132) میں ابوالعباس محمد بن یعقوب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن شاهين في "الأفراد" (85)، وأبو الحسن الخِلعي في "الخلعيات" (221)، وابن منده في "أسامي أرداف النبي ﷺ" ص 24، والشجري في "أماليه" 2/ 189 من طريقين عن أحمد ابن شيبان الرملي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن شاہین "الافراد" (85)، خلعی "الخلعیات" (221)، ابن مندہ (ص 24) اور شجری "امالی" (2/ 189) میں احمد بن شیبان الرملی کے دو طرق سے روایت کیا ہے۔
قال الحافظ ابن حجر في "موافقة الخبر الخُبر" 1/ 329 بعدما خرَّجه من طريق الخلعي: هذا حديث غريب من هذه الطريق، أخرجه الدارقطني في "الأفراد" من هذا الوجه وقال: تفرَّد به شِهاب بن خراش عن عبد الملك بن عمير، ولم يروه عنه إلّا عبد الله بن ميمون.
📝 نوٹ / توضیح: حافظ ابن حجر "موافقة الخبر الخبر" (1/ 329) میں لکھتے ہیں: "اس طریق سے یہ حدیث غریب ہے"۔ دارقطنی کے بقول شہاب بن خراش اس روایت میں عبدالملک بن عمیر سے اکیلے ہیں، اور ان سے صرف عبداللہ بن میمون نے اسے روایت کیا ہے۔
قلنا: والحديث قوي بمجموع طرقه، فقد روي عن ابن عبّاس من وجوه منها: ما أخرجه أحمد 5/ (2803)، والترمذي (2516) من طريق قيس بن الحجاج، عن حنش الصنعاني، عن ابن عبّاس. وعند أحمد في آخره -وليس عند الترمذي-: "واعلم أنَّ في الصبر على ما تكره خيرًا كثيرًا، وأنَّ النصر مع الصبر، وأنَّ الفرج مع الكرب، وأنَّ مع العسر يسرًا". وإسناده حسن من أجل قيس بن الحجاج، وهو أصح شيء في طرق هذا الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: مجموعی طرق کے اعتبار سے یہ حدیث "قوی" ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہ ابن عباس سے مختلف اسانید سے مروی ہے؛ امام احمد (5/ 2803) اور ترمذی (2516) نے قیس بن الحجاج کے طریق سے حنش الصنعانی سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: احمد کی روایت کے آخر میں یہ اضافہ ہے کہ "جان لو کہ ناپسندیدہ چیزوں پر صبر میں بہت بھلائی ہے، اور مدد صبر کے ساتھ ہے، اور کشادگی تکلیف کے ساتھ ہے، اور بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے"۔ قیس بن الحجاج کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے اور اس حدیث کے تمام طرق میں سب سے زیادہ صحیح یہی ہے۔
(1) انظر تخريجها مفصّلًا في كتاب "أنيس الساري" للشيخ نبيل البصارة 1/ 361 - 366.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مفصل تخریج کے لیے شیخ نبیل البصارہ کی کتاب "انیس الساری" (1/ 361-366) ملاحظہ فرمائیں۔