المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
833. ذكر مناقب عوف بن مالك الأشجعي رضي الله عنه
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6455
حدثنا أبو علي الحافظ، أخبرنا عبد الله بن محمد بن ناجيَةَ، حدثنا إسحاق بن وهب الواسطي، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمشُ، عن المسيَّب بن رافع قال: لما كُفَّ بصرُ ابنِ عبّاس أتاه رجل فقال له: إنك إنْ صَبَرتَ لي سبعًا لم تُصلِّ إلَّا مستلقيًا تُومِيُّ إيماءً، داويتُك فبَرَأتَ إن شاء الله، فأرسَلَ إلى عائشةَ وأبي هريرة وغيرهما من أصحاب محمد ﷺ [كلٌّ] يقول: أرأيتَ إن مُتَّ في هذا السَّبْع، كيف تَصنعُ بالصلاة؟ قال: فتركَ عينَه ولم يُداوِها (1) . ذكرُ مناقب عَوْف بن مالك الأشجعي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6319 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6319 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا مسیب بن رافع فرماتے ہیں: جس زمانے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی زائل ہو گئی تھی، ان دنوں کی بات ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: اگر آپ مجھے سات دن کا موقع دیں اور میری بات مانیں تو میں آپ کا علاج کر سکتا ہوں اور آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔ سات دن لیٹ کر اشارے سے نماز پڑھنی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب پیغام بھیجا اور اس بارے میں مسئلہ دریافت کیا۔ سب نے کہا: اگر آپ ان سات ایام میں فوت ہو گئے تو آپ کی نمازوں کا کیا بنے گا؟ چنانچہ انہوں نے اپنی آنکھوں کا علاج چھوڑ دیا اور اس سے دوا نہ لی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6455]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6455 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله لا بأس بهم. أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں ہے (درست ہیں)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں ابو معاویہ سے مراد "محمد بن خازم الضریر" ہیں۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 2/ 236، ومن طريقه ابن المنذر في "الأوسط" (2311) عن أبي معاوية، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (2/ 236) نے اور ان کے طریق سے ابن المنذر نے "الاوسط" (2311) میں ابو معاویہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه ابن المنذر (2312) من طريق أبي عوانة عن الأعمش، به.
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح کی روایت ابن المنذر (2312) نے ابو عوانہ کے طریق سے سلیمان بن مہران الاعمش کے واسطے سے نقل کی ہے۔