🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
832. ذكر أولاد ابن عباس
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اولاد کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6454
أخبرني قاضي قضاة المسلمين أبو الحَسَن (3) محمد بن صالح بن علي، حدثنا أبو أحمد محمد بن أحمد الجَرِيري، حدثنا أبو جعفر أحمد بن الحارث الخرَّاز، حدثنا علي بن محمد المَدائني، حدثنا سُحَيم بن حفص قال: قال أبو بَكْرة: قَدِمَ علينا عبدُ الله بن عبّاس البصرةَ وما في العرب مثلُه حشمًا وعلمًا وبيانًا وجمالًا وكمالًا. قال علي بن محمد: ووَلَدَ عبدُ الله بن عبّاس عَليًّا، وهو سيد ولدِه، وُلِدَ سنة أربعين، ويقال: وُلد عامَ الجَمَل سنة ست وثلاثين، وكان أجملَ قرشيٍّ على الأرض وأوسمَه، وأكثرَه صلاةً، وكان يُدعَى السَّجّاد، وفي عَقِبِه الخِلافةُ، وعبّاسًا، وهو أكبرُ ولدِه وبه كان يُكنّى، ومحمدًا وعُبيدَ الله والفضلَ ولُبابةَ، أمُّهم زُرْعةُ بنت مِسرَح بن مَعدِي كَرِبَ بن وَلِيعة، ومِسرحٌ أحد الملوك الأربعة، ولا بقيَّة للعبّاس وعبيد الله والفضلِ ومحمد بني عبد الله بن عبّاس، وأما لُبابةُ بنتُ عبد الله فإنها كانت تحت عليِّ بن عبد الله بن جعفر بن أبي طالب، فوَلَدَت له، ولولدِها أعقابٌ، وأسماءُ بنتُ عبد الله كانت عند عَبد الله بن عُبيد الله بن العبّاس، فوَلَدَت له حَسنًا وحُسينًا، وأمها أم ولد.
ابوبکرہ فرماتے ہیں: بصرہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہمارے پاس تشریف لائے، پورے عرب میں ان جیسا جسیم، عالم اور ان جیسا صاحب جمال و کمال اور خوش لباس شخص کوئی نہیں تھا۔ علی بن محمد فرماتے ہیں: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اولاد امجاد میں سے علی بھی ہیں۔ یہ ان کی اولاد کے سردار ہیں۔ 40 ہجری میں یہ پیدا ہوئے تھے۔ بعض مؤرخین کا یہ کہنا ہے کہ یہ جنگ جمل والے سال سن 36 ہجری کو پیدا ہوئے۔ یہ بھی روئے زمین پر سب قریشیوں سے خوبصورت تھے۔ نماز کے پابند تھے، ان کو سجاد کے نام سے پکارا جاتا تھا، ان کے بعد خلافت ان کے خاندان میں رہی، ان کے ایک بیٹے کا نام عباس تھا۔ یہ سیدنا ابن عباس کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ اور انہی کی نام سے ان کی کنیت ابوالعباس تھی۔ ان کے ایک بیٹے کا نام محمد ۔ ایک کا نام فضل اور ایک کا نام لبابہ تھا۔ ان سب کی والدہ زرعہ بنت مسرح بن کرب بن ولیعہ تھیں۔ اور مسرح چار بادشاہوں میں سے ایک تھے۔ اور عباس کی کوئی اولاد نہ تھی اور عبیداللہ، فضل اور محمد یہ سب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اولادیں ہیں۔ اور لبابہ بنت عبداللہ، علی بن عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب کے نکاح میں تھیں۔ ان کے بطن سے بھی اولاد پیدا ہوئی تھی اور ان کی اولادوں کی بھی اولادیں تھیں۔ اور اسماء بنت عبداللہ، سیدنا عبداللہ بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں۔ ان کے ہاں حسن اور حسین پیدا ہوئے، ان (اسماء بنت عبداللہ) کی والدہ ام ولد تھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6454]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6454 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الحسين. وانظر ترجمته في "السير" 16/ 226.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف کا شکار ہو کر "الحسین" ہو گیا ہے (جبکہ درست نام کچھ اور ہے)۔ اس راوی کے حالاتِ زندگی کے لیے "سیر اعلام النبلاء" (16/ 226) ملاحظہ کریں۔