المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
840. كان ابن الزبير يواصل سبعة أيام
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سات دن تک مسلسل روزہ رکھتے تھے
حدیث نمبر: 6469
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا موسى بن هارون، حدثني سعيد بن يحيى بن سعيد الأَمَوي، حدثني أبي، عن الأعمش، عن شِمْر بن عطيَّة، عن هلال بن يَسَاف: حدثني البَرِيدُ الذي أَتى ابنَ الزُّبير برأس المختار، فلما رآه قال ابنُ الزُّبير: ما حدَّثني كعبٌ بحديث إلَّا وجدتُ مِصداقه، إلَّا أنه حدَّثني: أنَّ رجلًا من ثَقيفٍ سيَقتلُني. قال الأعمش وما يَدرِي أنَّ أبا محمدٍ - خَذَلَه الله - خُبِئَ له (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6333 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6333 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ہلال بن یساف فرماتے ہیں: جو قاصد مختار کا سر لے کر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، اس کا بیان ہے کہ انہوں نے جب سیدنا عبداللہ بن زبیر کو دیکھا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر نے اس سے کہا: سیدنا کعب نے جو حدیث بھی مجھے سنائی، میں نے اس کا مصداق پا لیا۔ صرف ایک بات ابھی تک پوری نہیں ہوئی، وہ یہ کہ قبیلہ ثقیف کا ایک شخص مجھے قتل کرے گا۔ سیدنا اعمش فرماتے ہیں: ان کو کیا معلوم تھا کہ ” ابومحمد “ (اللہ تعالیٰ اس کو رسوا کرے) کو اللہ تعالیٰ نے اسی کام کے لئے رکھا ہوا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6469]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6469 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله ثقات غير البريد الذي حدَّث به، فإنه مجهول لم نتبينه. وكعب المذكور: هو كعب الأحبار.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں سوائے اس "برید" (خط لانے والا) کے جس نے اسے بیان کیا، کیونکہ وہ غیر معروف (مجہول) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں کعب سے مراد "کعب الاحبار" ہیں۔
وأخرجه نعيم بن حماد في "الفتن" (336)، وابن سعد في "الطبقات" 6/ 485، وابن أبي شيبة 11/ 136 و 15/ 83، والطحاوي في "مشكل الآثار" 7/ 406 من طريق أبي أسامة حماد بن أسامة، عن الأعمش، بهذا الإسناد. ولم يذكر قول الأعمش في آخره سوى الطحاوي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نعیم بن حماد نے "الفتن" (336)، ابن سعد "الطبقات" (6/ 485)، ابن ابی شیبہ اور طحاوی (7/ 406) نے ابو اسامہ کے طریق سے اعمش کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اعمش کا آخری قول صرف امام طحاوی نے ذکر کیا ہے۔
وأخرج نحوه معمر في "جامعه" (20755)، ومن طريقه الطبراني في "الكبير" (14812) عن أيوب السختياني، عن محمد بن سيرين قال: قال ابنُ الزُّبير … وذكره، ثم قال ابن سِيرِين: ولا يشعر أنَّ أبا محمد قد خبئ له؛ يعني الحجاجَ.
🧩 متابعات و شواہد: معمر (20755) اور طبرانی (14812) نے ایوب السختیانی کے طریق سے محمد بن سیرین سے روایت کیا ہے کہ ابن زبیر نے (یہ بات) کہی۔ ابن سیرین کے الفاظ ہیں کہ حجاج کو احساس نہیں کہ اس کے لیے کیا (تقدیر میں) چھپا رکھا گیا ہے۔