المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
850. ذكر وفاة عبد الله بن عمر رضى الله عنه
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی وفات کا ذکر
حدیث نمبر: 6495
حدَّثَناه الشيخ أبو محمد المُزَني، حدثنا القاضي أبو خَلِيفة، حدثنا إبراهيم ابن أبي سُوَيد الذارع، حدثنا عُمارة بن زاذانَ، حدثني مكحول قال: بَيْنا أنا مع ابن عمر إذ نَصَبَ الحجَّاجُ المَنجَنيقَ على الكعبة وقَتَلَ ابن الزُّبير، فأنكرَ عبدُ الله بنُ عمر ذلك وتكلَّم بما ساء الحجَّاجَ سماعُه، فأمر الحجاجُ بقتلِه، فضربه رجلٌ من أهل الشام ضربةً، فلما بَلَغَ الحجَّاجَ فَصَدَه عائدًا، فقال له ابنُ عمر: أنت قتلتَني والآن تَجِيئُني عائدًا؟! كَفَى بالله حَكَمًا بيني وبينَك (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6357 - عمارة ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6357 - عمارة ضعيف
مکحول کہتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تھا، جبکہ حجاج نے کعبہ معظمہ کے اوپر منجنیق نصب کر رکھی تھی، سیدنا عبداللہ بن زبیر کو شہید کر دیا تھا۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اعلانیہ طور پر بہت کھل کر حجاج کی مخالفت کی تھی، حجاج نے ان کو بھی قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا، ایک شامی شخص نے آپ پر ایک وار کیا۔ (جس سے آپ زخمی ہو گئے) جب حجاج کو بتایا گیا تو وہ آپ کی عیادت کرنے چلا آیا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: تو نے مجھے قتل کروایا ہے اور اب میری عیادت کرنے بھی آ گیا ہے، تیرے اور میرے درمیان اللہ ہی بہتر فیصلہ کرے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6495]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6495 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن إن شاء الله. مكحول: هو الأزدي البصري.
⚖️ درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں مذکور راوی مکحول سے مراد "مکحول الازدی البصری" ہیں۔
وأخرجه الطبراني (13040) عن أبي خليفة الفضل بن الحباب، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے (13040) میں ابو خلیفہ الفضل بن الحباب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس سے ماقبل والی روایت کو بھی دیکھیں۔