المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
850. ذِكْرُ وَفَاةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی وفات کا ذکر
حدیث نمبر: 6494
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا فُضَيل بن مرزوق، عن عطيَّة قال: قلت لمولًى لابن عمر: كيف كان موتُ ابنِ عمر؟ قال: إنه أَنكرَ على الحجَّاج بن يوسف أفاعيلَه في قتل ابن الزُّبير، وقام إليه فأسمَعَه، فقال الحجَّاجَ: اسكُتْ يا شيخُ، قد خَرِفتَ، فلما تفرَّقوا أمرَ الحجَّاجُ رجلًا من أهل الشام فضربه بحَرْبتِه في رِجْله، ثم دخل عليه الحجاجُ يَعُودُه فقال: لو أعلمُ الذي أصابك لضربتُ عنقَه، فقال: أنت الذي أصبْتَني، قال: كيف؟ قال: يومَ أدخلتَ حَرَمَ اللهِ السلاحَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6356 - عطية ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6356 - عطية ضعيف
عطیہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام سے پوچھا: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا وصال کیسے ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ حجاج بن یوسف نے جو سیدنا عبداللہ بن زبیر کو شہید کیا، اس پر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کھل کر حجاج کی مخالفت کی تھی، اور اس کے منہ پر اس کو غلط کہا تھا۔ حجاج نے کہا: او بزرگوار، چپ کر جا، تو پاگل بوڑھا ہو چکا ہے۔ جب لوگ متفرق ہو گئے تو حجاج نے ایک شامی شخص کو حکم دیا، اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر کے پاؤں میں تلوار مار کر زخم کر دیا۔ پھر حجاج ان کی عیادت کرنے کے لئے گیا، اور کہنے گا: اگر مجھے پتا چل جائے کہ کس شخص نے آپ کو زخمی کیا ہے تو میں اس کی گردن مار دوں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو نے ہی تو مجھے زخمی کیا ہے، حجاج نے پوچھا: وہ کیسے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جس دن تو نے اللہ تعالیٰ کے حرم میں ہتھیار داخل کئے تھے (تو نے اسی دن ہمیں زخمی کر دیا تھا) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6494]
حدیث نمبر: 6495
حدَّثَناه الشيخ أبو محمد المُزَني، حدثنا القاضي أبو خَلِيفة، حدثنا إبراهيم ابن أبي سُوَيد الذارع، حدثنا عُمارة بن زاذانَ، حدثني مكحول قال: بَيْنا أنا مع ابن عمر إذ نَصَبَ الحجَّاجُ المَنجَنيقَ على الكعبة وقَتَلَ ابن الزُّبير، فأنكرَ عبدُ الله بنُ عمر ذلك وتكلَّم بما ساء الحجَّاجَ سماعُه، فأمر الحجاجُ بقتلِه، فضربه رجلٌ من أهل الشام ضربةً، فلما بَلَغَ الحجَّاجَ فَصَدَه عائدًا، فقال له ابنُ عمر: أنت قتلتَني والآن تَجِيئُني عائدًا؟! كَفَى بالله حَكَمًا بيني وبينَك (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6357 - عمارة ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6357 - عمارة ضعيف
مکحول کہتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تھا، جبکہ حجاج نے کعبہ معظمہ کے اوپر منجنیق نصب کر رکھی تھی، سیدنا عبداللہ بن زبیر کو شہید کر دیا تھا۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اعلانیہ طور پر بہت کھل کر حجاج کی مخالفت کی تھی، حجاج نے ان کو بھی قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا، ایک شامی شخص نے آپ پر ایک وار کیا۔ (جس سے آپ زخمی ہو گئے) جب حجاج کو بتایا گیا تو وہ آپ کی عیادت کرنے چلا آیا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: تو نے مجھے قتل کروایا ہے اور اب میری عیادت کرنے بھی آ گیا ہے، تیرے اور میرے درمیان اللہ ہی بہتر فیصلہ کرے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6495]