المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
935. ذكر سعد بن الربيع الأنصاري رضى الله عنه
سیدنا سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6695
وحدثنا أبو العبَّاس، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني أسامة بن زيد، أنَّ محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان حدَّثه، عن محمد بن المنكدِر، أنَّ سَفينة مولى رسول الله ﷺ قال: ركبتُ البحرَ، فانكسرَت سفينتي التي كنتُ فيها، فركبتُ لوحًا من ألواحها، فطر حني اللوحُ (1) في أجَمَةٍ فيها الأسدُ، فأقبل إليَّ يُريدني، فقلتُ: يا أبا الحارث، أنا مولى رسول الله، فطأطأَ رأسَه وأقبل إليَّ فدفعني بمَنكِبِه حتى أخرجني من الأجَمَة ووَضَعَني على الطريق، وهمهَمَ، فظننتُ أنه يُودِّعني، فكان ذلك آخرَ عهدي به (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. ذكر زياد بن لَبِيد الأنصاري ﵁- (3
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6550 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. ذكر زياد بن لَبِيد الأنصاري ﵁- (3
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6550 - على شرط مسلم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سمندر کے سفر پر گیا، میں جس کشتی میں تھا وہ کشتی دوران سفر ٹوٹ گئی، اس کے ایک تختے کے ساتھ لپٹ گیا، اس تختے نے مجھے ایسے ساحل پر جا پھینکا جہاں پر گھنا جنگل تھا، اس میں بہت شیر رہتے تھے، ایک شیر میری جانب بڑھنے لگا، میں نے اس شیر کو مخاطب کر کے کہا: اے ابوالحارث! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں، (میری یہ بات سنتے ہی) اس شیر نے اپنا سر جھکا دیا اور میرے قریب آ گیا، وہ میرے آگے آگے چلتا رہا، حتیٰ کہ اس نے مجھے جنگل پار کروا دیا، ایک راستے پہنچا کر وہ اپنی آواز میں بڑبڑانے لگا میں نے سمجھ لیا کہ اب یہ مجھے الوداع کہہ رہا ہے، اس کے بعد وہ شیر واپس چلا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6695]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6695 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في: (م) فطرحني الموج، وفي (ص): وطرح بي الموج. والمثبت من (ب).
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (م) میں "فطرحني الموج" (موج نے مجھے پھینک دیا) اور نسخہ (ص) میں "وطرح بي الموج" کے الفاظ ہیں، جبکہ متن میں نسخہ (ب) کے الفاظ ثابت کیے گئے ہیں۔
(2) صحيح إن صحَّ سماعُ محمد بن المنكدر له من سفينة، وهو الراجح، وهذا إسناد لا بأس برجاله. وسلف الكلام عليه مفصلًا برقم (4281).
⚖️ درجۂ حدیث: اگر محمد بن المنکدر کا حضرت سفینہ سے سماع ثابت ہو جائے تو یہ حدیث صحیح ہے، اور راجح بات یہی ہے کہ سماع ثابت ہے۔ اس سند کے راویوں میں کوئی حرج نہیں ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اس پر تفصیلی کلام رقم (4281) پر گزر چکا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "المعجم الكبير" (6432) -وعنه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (3511) - من طريق أحمد بن صالح، والبيهقي في "دلائل النبوة" 6/ 45 من طريق يوسف بن عدي، كلاهما عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (6432) میں روایت کیا - اور ان سے ابو نعیم نے "معرفت الصحابہ" (3511) میں نقل کیا - یہ احمد بن صالح کے طریق سے ہے۔ نیز بیہقی نے "دلائل النبوہ" (6/ 45) میں یوسف بن عدی کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں عبد اللہ بن وہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 6/ 45، وفي "الاعتقاد" ص 316 من طريق جعفر بن عون، عن أسامة بن زيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "دلائل النبوہ" (6/ 45) اور اپنی کتاب "الاعتقاد" (ص 316) میں جعفر بن عون کے طریق سے، انہوں نے اسامہ بن زید سے اور انہوں نے اسی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: "أجَمة" هي: المكان الكثير الشّجر.
📝 نوٹ / توضیح: حدیث میں مذکور لفظ "أجَمة" سے مراد وہ جگہ ہے جہاں درختوں کی کثرت ہو (جھاڑی دار گھنا جنگل)۔
(3) تقدَّم ذكرُ المصنف لزياد بن لبيد هذا بالأرقام (6642) و (6643).
📌 اہم نکتہ: مصنف نے ان صاحبِ روایت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کا ذکر پہلے رقم (6642) اور (6643) پر کر دیا ہے۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن سالم بن أبي الجعد لم يسمع من زياد. وسلف برقمي (343) و (6643).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں، 🔍 فنی نکتہ / علّت: البتہ سالم بن ابی الجعد کا حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے (سند منقطع ہے)۔ 📌 اہم نکتہ: یہ روایت پہلے رقم (343) اور (6643) پر گزر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 6695M1
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسود، عن عُزوة، في تسمية من شَهِد بدرًا من الأنصار، ثم من بني بَيَاضة بن عامر بن زُريق بن عبد حارثة: زياد بن لَبِيد بن ثعلبة بن سِنان بن عامر بن عَديّ بن أُمية بن بَيَاضة.
6695/ 1 - عروہ (رحمہ اللہ) ان انصاری صحابہ کے ناموں کے ذکر میں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے، پھر بنو بیاضہ بن عامر... بن عبد حارثہ میں سے (نام بتاتے ہوئے) بیان کرتے ہیں: "زیاد بن لبید بن ثعلبہ بن سنان بن عامر بن عدی بن امیہ بن بیاضہ (رضی اللہ عنہ بھی ان میں شامل تھے)"۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6695M1]
حدیث نمبر: 6695M2
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدثنا محمد بن فُليح، عن موسى بن عُقبة، عن ابن شِهاب، في تسمية مَن شَهِدَ العَقبة من الأنصار، ثم من بني بَياضةَ: زياد بن لَبِيد، وقد شهد بدرًا
6695/ 2 - ابن شہاب (زہری) ان انصاری صحابہ کے ناموں کے ذکر میں جو (بیعتِ) عقبہ میں شریک ہوئے، پھر بنو بیاضہ میں سے (نام بتاتے ہوئے) بیان کرتے ہیں: "زیاد بن لبید (رضی اللہ عنہ بھی ان میں شامل تھے)، اور وہ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے تھے"۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6695M2]
حدیث نمبر: 6695M3
حدثنا علي حَمْشاذ العَدْل، حدثنا بِشر بن موسى، يحيى بن إسحاق السَّيلَحيني (ح) وحدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا عيسى بن إبراهيم البِرَكي؛ قالا: حدثنا عبد العزيز بن مُسلم، حدثنا الأعمش، عن سالم بن أبي الجعد، عن زياد بن لَبيد الأنصاري، قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ وهو يحدِّث أصحابَه وهو يقول:"قد ذهب أوانُ العِلم"، قلتُ بأبي وأمِّي، كيف يذهبُ أوانُ العلم ونحن نقرأُ القرآنَ ونعلِّمه أبناءَنا، ويعلِّمُه أبناؤنا أبناءَهم إلى أن تقوم الساعة؟! قال:"ثَكِلَتك أمُّك يا ابن لَبيدٍ، إن كنتُ لَأراك أفقهَ أهل المدينة، أوَليس اليهودُ والنصارى يقرؤون التوراةَ والإنجيلَ ولا يَنتفِعون منهما بشيء؟!" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. ذكرُ سعد بن الرَّبيع الأنصاري ﵁-
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. ذكرُ سعد بن الرَّبيع الأنصاري ﵁-
6695/ 3 - زیاد بن لبید انصاری (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے گفتگو فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے: "علم (کے اٹھ جانے) کا وقت قریب آ گیا ہے"۔ میں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، علم کیسے چلا جائے گا جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں اور ہمارے بچے اپنے بچوں کو قیامت تک سکھاتے رہیں گے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے ابن لبید! تمہاری ماں تمہیں روئے (عربی محاورہ)، میں تو تمہیں مدینہ کے سمجھدار ترین لوگوں میں سے سمجھتا تھا؛ کیا یہودی اور نصاریٰ تورات اور انجیل نہیں پڑھتے؟ مگر وہ ان سے ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں اٹھاتے"۔ یہ حدیث شیخین (امام بخاری و مسلم) کی شرائط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اپنی کتب میں نقل نہیں کیا۔ (یہاں سے) سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر (شروع ہوتا ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6695M3]