المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
941. أعمال صعصعة قبل الإسلام
اسلام سے پہلے سیدنا صعصعة بن ناجیة رضی اللہ عنہ کے اعمال کا ذکر
حدیث نمبر: 6707
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد، حدثنا محمد بن زكريا الغَلَابي، حدثنا العلاء بن الفضل بن عبد الملك بن أبي سَوِيَّة المِنْقَرِي، حدثنا عَبَّاد ابن كُسَيب (1) ، حدثني الطُّفيل بن عمرو الرَّبَعي، عن صَعْصَعة بن ناجية المُجاشِعي -وهو جَدَّ الفرزدق بن غالب- قال: قَدِمتُ على النبيِّ ﷺ فَعَرَض عليَّ الإسلامِ، فأسلمتُ وعلَّمني آياتٍ من القرآنِ، فقلتُ: يا رسول الله، إني عَمِلتُ أعمالًا في الجاهلية، فهل لي فيها من أجرٍ؟ قال:"وما عَمِلتَ؟" فقلتُ: إني ضَلَّت ناقتانِ لي عَشْراوان، فخرجتُ على جَمَل لي أتبَعُهما (2) ، فرُفِعَ لي [بيتانِ] (3) في فَضَاءٍ من الأرض، فقصدتُ قصدَهما، فوجدتُ شيخًا كبيرًا، فقلتُ: أحَسَستُم بناقتينِ عَشراوَينِ؟ قال: ما ناراهما؟ قلت: مِيسَمُ (4) بنِ دارِم، قال: قد أصَبْنا ناقتَيْكَ وبِغْناهما، وقد نَعَشَ اللهُ بهما أهلَ بيتينِ من قومِك من العرب من مُضَرَ. فبينما هو يخاطبني إذ نادتِ امرأةٌ من البيت الآخر: وَلَدَتْ وَلَدَتْ، قال: وما وَلَدَت؟ إن كان غلامًا فقد شَرِكَنا في قَومِنا (5) ، وإن كانت جاريةً فادفِنَّها، فقالت: جاريةٌ، فقلتُ: وما هذه المولودة؟ قال: ابنةٌ لي، فقلت: إني أشتريها منك، فقال: يا أخا بني تَميم، أتبيعُ ابنتَك؟ وإني رجلٌ من العرب من مُضَرا فقلت: إني لا أشتري منك رقبتَها، بل إنما أشتري منك رُوحَها أن لا تقتُلَها، قال: بِمَ تشتريها؟ فقلت: بناقتيَّ هاتينِ وولدِهما، قال: وتَزيدُني بعيرَك هذا؟ قلت: نعم، على أن تُرسِلَ معي رسولًا، فإذا بلغتُ إلى أهلي رَدَدتُ لك البعير، ففَعَلَ، فلمَّا بلغتُ إلى أهلي رَدَدتُ إليه البعيرَ، فلمَّا كان في بعض الليل فكَّرتُ في نفسي أنَّ هذه مَكرُمةٌ ما سَبَقَني إليها أحدٌ من العرب، وظَهَرَ الإسلامُ وقد أحييتُ ثلاثَ مئة وستينَ من المَوءودة، أَشتري كلَّ واحدة منهنُّ بناقتينِ عَشْراوَين وجملٍ، فهل لي في ذلك مِن أجر؟ فقال النبيُّ ﷺ:"تمَّ لك أجرُه إذ مَنَّ الله عليك بالإسلام" (1) . قال عبَّادٌ: ومِصداقُ قولِ صَعْصَعةَ قولُ الفرزدق: وجدِّي الذي مَنَعَ الوائِداتِ … فأحيا الوَئيدَ (2) فلم تُوءَدِ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6562 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6562 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
صعصعہ بن ناجیہ مجاشعی فرزدق بن غالب کے دادا ہیں، آپ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسلام کی دعوت پیش کی، میں نے اسلام قبول کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قرآن کریم کی چند آیات کی تعلیم دی، میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے زمانہ جاہلیت میں بہت سارے نیکی کے کام کئے ہیں، کیا مجھے ان پر ثواب ملے گا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے کیا عمل کیا ہے؟ میں نے کہا: میری دو اونٹنیاں گم ہو گئی تھیں، میں اپنے اونٹ پر سوار ہو کر ان کو ڈھونڈنے نکلا، میں نے دیکھا کہ میرے سامنے زمین سے اوپر فضا میں دو مکان بنے ہوئے ہیں، میں ان میں گیا، ان میں سے ایک میں ایک بوڑھا آدمی بیٹھا ہوا تھا میں نے اس سے پوچھا: تم نے دو اونٹنیوں کو کہیں دیکھا ہے؟ مقسم بن دارم نے کہا: تمہاری وہ اونٹنیاں ہمیں ملی تھیں، ہم نے وہ بیچ دی ہیں، اور اللہ تعالیٰ ان دونوں اونٹنیوں کے بدلے تیری قوم اور قبیلے عرب میں سے قبیلہ مضر سے انتقام لے گا، ابھی وہ ہم سے باتیں ہی کر رہا تھا کہ دوسرے گھر سے ایک عورت نے اس کو آواز دی ” پیدا ہو گئی پیدا ہو گئی “۔ اس نے پوچھا: کیا پیدا ہو گئی؟ اگر وہ لڑکا ہے تو اس کو ہماری قوم میں شریک کر دو، اور اگر لڑکی ہے تو اس کو زندہ دفن کر دو، اس نے کہا: لڑکی ہے، میں نے کہا: یہ نومولود کس کی بچی ہے؟ اس نے کہا: میری بیٹی ہے، میں نے کہا: میں وہ لڑکی تم سے خریدتا ہوں، اس نے کہا: اے بنی تمیم کے آدمی! کیا تم اپنی بیٹی بیچ سکتے ہو؟ میں عرب کا رہنے والا قبیلہ مضر کا آدمی ہوں۔ میں نے کہا: میں تم سے اس لڑکی کا جسم نہیں خرید رہا بلکہ میں اس کی روح خرید رہا ہوں تاکہ تو اس کو قتل نہ کرے، اس نے پوچھا: تم کتنے میں خرید رہے ہو؟ میں نے کہا: ان دونوں اونٹنیوں اور ان کے بچوں کے عوض۔ اس نے کہا: جس اونٹ پر سوار ہو کر آئے ہو، یہ بھی مجھے دے دو، میں نے کہا: ٹھیک ہے، شرط یہ ہے کہ تم اپنے کسی آدمی کو میرے ہمراہ بھیج دو، وہ مجھے میرے گھر تک چھوڑ آئے، جب میں گھر پہنچ جاؤں گا تو یہ اونٹ اس کے حوالے کر دوں گا۔ ہم وہاں سے چل دیئے، ابھی ہم راستے ہی میں تھے، میں نے سوچا کہ میں جو کام کرنا چاہتا ہوں، کسی عربی شخص نے آج سے پہلے ایسا کام نہیں کیا، اب اسلام ظاہر ہو چکا ہے، میں 360 بچیوں کو خرید کر زندہ درگور ہونے سے بچا چکا ہوں، ان میں سے ہر بچی کی قیمت میں نے دو اونٹنیاں اور ایک اونٹ لگائی، کیا اس نیکی کا مجھے کوئی ثواب ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لئے اس کا ثواب کامل ہو چکا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تجھے اسلام کی توفیق دی ہے۔ عبادنامی راوی کہتے ہیں: صعصہ کے قول کا مصداق فرزدق کا یہ قول ہے۔ * اور میرے والد نے بے شمار ایسی بچیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا ہے جن کو ان کے والدین زندہ دفن کرنا چاہتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6707]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6707 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (ص) و (م) إلى: عباءة بن كليب، وفي (ب) إلى عبادة بن كريب.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) اور (م) میں نام تحریف ہو کر "عباءہ بن کلیب" ہو گیا ہے، جبکہ نسخہ (ب) میں "عبادہ بن قریب" ہو گیا ہے۔
(2) لفظ "أتبعهما" زيادة من (ب).
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "أتبعہما" (ان دونوں کے پیچھے چلا) کا اضافہ نسخہ (ب) سے لیا گیا ہے۔
(3) لم ترد في نسخنا الخطية، وأثبتناها من المطبوع، ومن رواية الطبراني.
📝 نوٹ / توضیح: یہ عبارت ہمارے قلمی نسخوں میں نہیں تھی، اسے ہم نے مطبوعہ نسخے اور امام طبرانی کی روایت سے ثابت کیا ہے۔
(4) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: "فأناديهما، قلت: مقسم" والتصويب من مصادر التخريج.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں تحریف ہو کر "فأنادیہما، قلت: مقسم" ہو گیا تھا، جس کی تصحیح دیگر کتبِ تخریج کی مدد سے کی گئی ہے۔
ومعنى "ما ناراهما" أي ما علامتهما، لأنَّ العلامة عليها كانت تكوى بالنار.
📝 نوٹ / توضیح: "ما ناراہما" سے مراد ان دونوں کے نشانات (علامات) ہیں، کیونکہ ان مویشیوں پر آگ (نار) سے داغ کر نشان لگایا جاتا تھا۔
(5) في روايتي العقيلي وأبي نعيم: في قوتنا، وهو أوجه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: عقیلی اور ابو نعیم کی روایات میں "فی قوتنا" (ہماری خوراک میں) کے الفاظ ہیں، جو زیادہ بہتر اور قرینِ قیاس معلوم ہوتے ہیں۔
(1) إسناده ضعيف بمرَّة، محمد بن زكريا الغلابي متهم، لكنه متابع، والعلاء بن الفضل ضعيف، وعباد بن كسيب مجهول، وقال البخاري في ترجمته من "التاريخ الكبير" 6/ 40: لا يصح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن زکریا الغلابی "متہم" (جس پر جھوٹ کا الزام ہو) ہے، البتہ اسے متابعت حاصل ہے۔ علاء بن الفضل ضعیف ہے اور عباد بن کسیب "مجہول" ہے۔ امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" (6/ 40) میں اس کے بارے میں فرمایا: "لا یصح" (یہ درست نہیں)۔
وكذا الطفيل بن عمرو، قال العقيلي: لا يتابع على حديثه، ولا يعرف إلَّا به، وقال البخاري في ترجمته أيضًا 4/ 364: لم يصح حديثه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اسی طرح طفیل بن عمرو کے بارے میں امام عقیلی نے کہا کہ ان کی حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی اور وہ صرف اسی سے پہچانے جاتے ہیں۔ امام بخاری نے بھی (4/ 364) میں فرمایا کہ ان کی حدیث صحیح نہیں ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (7412) عن محمد بن زكريا الغلابي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (7412) میں محمد بن زکریا الغلابی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري في "التاريخ الكبير" 4/ 319، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (1199)، والبزار (72 - كشف الأستار)، وأبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" (1302)، والعقيلي في "الضعفاء الكبير" (710)، والطبراني (7412)، وأبو نعيم في معرفة الصحابة" (3877 - 3879) من طرق عن العلاء بن الفضل به. وقال البخاري عقبه: فيه نظر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" (4/ 319)، ابن ابی عاصم، بزار، بغوی، عقیلی، طبرانی اور ابو نعیم نے علاء بن الفضل کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام بخاری نے اس کے بعد فرمایا: "فیہ نظر" (اس راوی یا روایت میں کلام ہے)۔
(2) في النسخ الخطية: الوليد، والمثبت من "تلخيص الذهبي"، وهو الموافق لما في المصادر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "الولید" لکھا ہے، جبکہ درست نام "خالد" ہے جیسا کہ امام ذہبی کی "التلخیص" اور دیگر مصادر میں موجود ہے۔