🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1005. ذكر عبد الله بن زمعة بن الأسود رضي الله تعالى عنه
سیدنا عبد اللہ بن زمعة بن الاسود رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6846
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حَدَّثَنَا علي بن محمد بن عمرو بن تميم بن زيد بن هالة [بن أبي هالة، قال: حدثني أبي محمد، عن أبيه عمرو بن تَميم، عن أبيه تميم، عن أبيه زيد بن هالة] (1) عن أبيه هالة: أنه دخلَ على رسول الله ﷺ وهو راقدٌ، فاستيقظ النَّبِيُّ ﷺ وضمَّ هالةَ إلى صدرِه، وقال:"هالةُ هالةُ هالةُ" كأنه ﷺ سُرَّ به لقرابته من خديجةَ ﵂ (2) . ذكرُ عبد الله بن زَمْعة بن الأسود ﵁ -
زید بن ہالہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے، (ان کے آنے پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور اٹھ کر سیدنا ہالہ رضی اللہ عنہ کو اپنے سینے سے لگا لیا، اور کہنے لگے: ہالہ، ہالہ، ہالہ۔ آپ ان سے مل کر بہت خوش ہوئے کیونکہ وہ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے قریبی (رشتہ دار) تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6846]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6846 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين المعقوفين سقط من النسخ الخطية، وأثبتناه من "معجمي الطبراني".
📝 نوٹ / توضیح: (1) بریکٹ کے درمیان والی عبارت قلمی نسخوں سے ساقط تھی، جسے ہم نے طبرانی کی "المعجمین" سے ثابت کیا ہے۔
(2) إسناده ضعيف مسلسل بالمجاهيل من علي بن محمد إلى زيد بن هالة. وقال الهيثمي في "مجمع الزوائد" 9/ 377: في إسناده جماعة لم أعرفهم.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند ضعیف ہے اور علی بن محمد سے لے کر زید بن ہالہ تک مسلسل مجہول راویوں پر مشتمل ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ہیثمی نے "مجمع الزوائد" 9/ 377 میں فرمایا: اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے جنہیں میں نہیں پہچانتا۔
وأخرجه الطبراني في "المعجم الأوسط" (3794)، و"الصغير" (537) - ومن طريقه ابن الأثير في "أسد الغابة" 1/ 379 - عن علي بن محمد بن عمرو بن تميم، بهذا الإسناد. لكن سقط من "الصغير": عن أبيه هالة. وقال: لم نكتب هذا الحديثَ إلَّا عن هذا الشيخ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الاوسط" (3794) اور "الصغیر" (537) میں - اور انہی کے طریق سے ابن اثیر نے "اسد الغابۃ" 1/ 379 میں - علی بن محمد بن عمرو بن تمیم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ لیکن "الصغیر" میں "عن ابیہ ہالۃ" کے الفاظ گر گئے ہیں۔ اور طبرانی نے کہا: ہم نے یہ حدیث سوائے اس شیخ کے اور کسی سے نہیں لکھی۔