🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1017. عائشة هي زوجة النبى فى الدنيا والآخرة
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دنیا اور آخرت میں نبی کریم ﷺ کی زوجہ ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6869
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حَدَّثَنَا إسماعيل ابن عُليَّة، عن أيوب، عن ابن أبي مُليكة قال: قالت عائشةُ: مات رسولُ الله ﷺ في بيتي ويومي، وبين سحْري ونَحْري، ودخل عليه عبدُ الرحمن بن أبي بكر ومعه سِواكٌ رَطْبٌ، فنظر إليه حتَّى ظننتُ أنَّ له فيه حاجةً، فأخذتُه فمضغتُه ونَفَضْتُه وطيَّبتُه ثم دفعتُه إليه، فاستنَّ كأحسنِ ما رأيتُه مستنًّا قَطُّ، ثم ذهب يرفعُه إليَّ فسقطَتْ يدُه، فأخذتُ أدعو له بدعاءٍ كان يدعو له به جبريلُ، وكان هو يدعو به إذا مَرِضَ، فلم يَدْعُ به في مرضه ذاك، فرفع بصرَه إلى السماء وقال:"الرَّفيقَ الأعلى" وفاضَتْ نفسُه ﷺ، فالحمدُ لله الذي جمع بين رِيقي وريقِه في آخرِ يومٍ من الدنيا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6720 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میرے گھر، میرے دن، میری رات، میرے سینے پر ہوا، سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما وہاں آئے، ان کے پاس ایک تازہ مسواک تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جانب دیکھنے لگے، میں سمجھ گئی کہ آپ کا مسواک کرنے کو دل کر رہا ہے، میں نے ان سے مسواک پکڑی، اس کو چبا کر، نرم کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مسواک غیر معمولی طور پر بہت زیادہ استعمال فرمائی، میں نے اس سے پہلے آپ کو کبھی ایسے مسواک کرتے نہیں دیکھا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مسواک میری جانب بڑھائی لیکن آپ کا ہاتھ نیچے گر گیا، میں آپ کے لئے وہ دعائیں پڑھنے لگی جو سیدنا جبریل امین علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پڑھا کرتے تھے اور جو دعائیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کے عالم میں خود اپنے لئے پڑھا کرتے تھے، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیماری میں وہ دعائیں نہیں پڑھیں، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ آسمان کی جانب کیا اور کہا الرفیق الاعلی ۔ اس کے ساتھ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرواز کر گئی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کے آخری دن بھی مجھے آپ کی خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6869]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6869 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أيوب: هو السختياني. وهو في "مسند أحمد" 40/ (24216).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ایوب: یہ سختیانی ہیں۔ اور یہ "مسند احمد" 40/ (24216) میں موجود ہے۔
وأخرجه ابن حبان (7116) من طريق عثمان بن أبي شيبة، عن إسماعيل ابن علية، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (7116) نے عثمان بن ابی شیبہ کے طریق سے، انہوں نے اسماعیل بن علیہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (4451) من طريق حماد بن زيد، وابن حبان (6617) من طريق إسحاق بن إبراهيم الثقفي، كلاهما عن أيوب السختياني، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (4451) نے حماد بن زید کے طریق سے، اور ابن حبان (6617) نے اسحاق بن ابراہیم الثقفی کے طریق سے روایت کیا، یہ دونوں ایوب سختیانی سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه تامًّا ومقطعًا أحمد 40/ (24354) و 41/ (24482)، والبخاري (4438) و (4446)، والنسائي (1969) و (7069) من طريق القاسم بن محمد، وأخرجه أحمد 41/ (24583) و (24905) و 42/ (25433) و (25640)، والبخاري (890) و (1389) و (4437) و (4450) و (4586) و (6348) و (6509)، ومسلم (2443) (84) و (2444) (86) و (87)، وابن ماجه (1620)، والنسائي (7065) و (7066) و (10867) و (11046)، وابن حبان (6592) من طريق عروة بن الزبير، وأحمد 43/ (25947)، والبخاري (4440) و (5674)، ومسلم (2444) (85)، والترمذي (3496)، والنسائي (7068) و (10868) من طريق عباد بن عبد الله بن الزبير، والبخاري (4463) و (6348) و (6509)، ومسلم (2444) (87) من طريق سعيد بن المسيب، وأحمد 41/ (24946)، ومسلم (2191) (46)، وابن ماجه (1619)، والنسائي (10869) من طريق مسروق، وأخرجه أحمد 41/ (24891) و (24935) من طريق الأسود، والنسائي (7067) و (10870)، وابن حبان (6591) من طريق أبي بردة الأشعري، وأحمد 40/ (24454) من طريق المطلب بن عبد الله، وأحمد 43/ (26346) من طريق عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ثمانيتهم عن عائشة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ اور ابن حبان نے مکمل اور ٹکڑوں کی صورت میں درج ذیل آٹھ راویوں کے طریق سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے: 1. قاسم بن محمد، 2. عروہ بن زبیر، 3. عباد بن عبد اللہ بن زبیر، 4. سعید بن مسیب، 5. مسروق، 6. اسود، 7. ابو بردہ اشعری، اور 8. مطلب بن عبد اللہ، 9. عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ۔ (تفصیل کے لیے عربی متن دیکھیں)۔