🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1017. عَائِشَةُ هِيَ زَوْجَةُ النَّبِيِّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دنیا اور آخرت میں نبی کریم ﷺ کی زوجہ ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6867
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن مَهدي، حَدَّثَنَا أبو بكر بن عيّاش، عن أبي حَصين، عن عبد الله بن زياد الأسَدي (2) ، قال: سمعتُ عمار بن ياسر يَحلِفُ بالله إنها زوجتُه ﷺ في الدنيا والآخرة (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6718 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن زیاد اسدی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو اللہ کی قسم کھا کر یہ کہتے ہوئے سنا کہ بے شک وہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) دنیا اور آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6867]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي بكر بن عياش. وأبو حَصين: هو عثمان بن عاصم بن حُصين الأسدي.» [ترقيم الرساله 6867] [ترقيم الشركة 6787] [ترقيم العلميه 6718]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6868
أخبرنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حَدَّثَنَا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حَدَّثَنَا عُبيد الله (1) بن عمر القوَاريري، حَدَّثَنَا حَرَمي بن عُمارة، حدثني الحَرِيشُ بن الخِرِّيت (2) ، حَدَّثَنَا ابن أبي مُليكة، عن عائشة أنها قالت: تُوفِّي رسولُ الله ﷺ في بيتي، وفي يومي وليلتي، وبين سَحْري ونَحْري، ودخل عبدُ الرحمن بن أبي بكر ومعه سِواكٌ من أَراكٍ رَطْبٌ، فنظر إليه رسولُ الله ﷺ فقلتُ: يا عبد الرحمن، اقضَمُه من ذلك المكان، فدفعه إلي فناولتُه إياه، فردّه إليَّ، فَقَضِمتُه وسوَّيْتُه، فدفعتُه إلى النَّبِيِّ ﷺ فتسوَّك به (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6719 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گھر میں، میری باری کے دن اور رات میں، میرے سینے اور گلے کے درمیان ہوئی، (وفات کے وقت) عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ان کے پاس پیلو کی ایک تازہ مسواک تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو میں نے کہا: اے عبد الرحمن! اسے (نرم کرنے کے لیے) اس جگہ سے کاٹ دو، انہوں نے وہ مجھے دے دی تو میں نے اسے (چبا کر) برابر کیا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مسواک فرمائی۔
اس حدیث کی اسناد صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6868]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل الحريش بن الخريت، وقد توبع. ابن أبي مليكة: هو عبد الله بن عبيد الله بن أبي مليكة.» [ترقيم الرساله 6868] [ترقيم الشركة 6788] [ترقيم العلميه 6719]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6869
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حَدَّثَنَا إسماعيل ابن عُليَّة، عن أيوب، عن ابن أبي مُليكة قال: قالت عائشةُ: مات رسولُ الله ﷺ في بيتي ويومي، وبين سحْري ونَحْري، ودخل عليه عبدُ الرحمن بن أبي بكر ومعه سِواكٌ رَطْبٌ، فنظر إليه حتَّى ظننتُ أنَّ له فيه حاجةً، فأخذتُه فمضغتُه ونَفَضْتُه وطيَّبتُه ثم دفعتُه إليه، فاستنَّ كأحسنِ ما رأيتُه مستنًّا قَطُّ، ثم ذهب يرفعُه إليَّ فسقطَتْ يدُه، فأخذتُ أدعو له بدعاءٍ كان يدعو له به جبريلُ، وكان هو يدعو به إذا مَرِضَ، فلم يَدْعُ به في مرضه ذاك، فرفع بصرَه إلى السماء وقال:"الرَّفيقَ الأعلى" وفاضَتْ نفسُه ﷺ، فالحمدُ لله الذي جمع بين رِيقي وريقِه في آخرِ يومٍ من الدنيا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6720 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گھر میں، میری باری کے دن، میرے سینے اور گلے کے درمیان ہوئی، عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان کے پاس ایک تازہ مسواک تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (رغبت سے) دیکھا تو میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حاجت ہے، میں نے وہ مسواک لی، اسے چبا کر نرم کیا، صاف کیا اور عمدہ بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت خوبصورتی سے مسواک فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھانا چاہا مگر وہ گر گیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وہ دعا کرنے لگی جو جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیماری کی حالت میں وہ دعا پڑھا کرتے تھے، مگر اس بیماری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دعا نہ پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھائیں اور فرمایا: «الرَّفِيقَ الْأَعْلَى» (اے اللہ!) میں سب سے اعلیٰ رفیق (یعنی تیری رفاقت) چاہتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک پرواز کر گئی، پس اللہ کا شکر ہے جس نے دنیا کے آخری دن میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعابِ دہن ایک کر دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6869]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أيوب: هو السختياني. وهو في "مسند أحمد" 40/ (24216).» [ترقيم الرساله 6869] [ترقيم الشركة 6789] [ترقيم العلميه 6720]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6870
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفّان، حَدَّثَنَا أبو أسامة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كنتُ أدخل البيتَ الذي دُفِنَ معهما عمر، والله ما دخلتُ إِلَّا وأنا مشدودٌ عليَّ ثيابي حياءً من عمر (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6721 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اس گھر میں (جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے والد دفن تھے) اس حال میں داخل ہو جایا کرتی تھی کہ گویا وہ میرے اپنے ہی ہیں، مگر جب وہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ دفن کر دیے گئے، تو اللہ کی قسم! میں کبھی وہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حیا کی وجہ سے اپنے کپڑے اچھی طرح جسم پر لپیٹے بغیر داخل نہیں ہوئی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6870]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وقد سلف برقم (4450).» [ترقيم الرساله 6870] [ترقيم الشركة 6790] [ترقيم العلميه 6721]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں