🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1017. عَائِشَةُ هِيَ زَوْجَةُ النَّبِيِّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دنیا اور آخرت میں نبی کریم ﷺ کی زوجہ ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6866
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أبو البَخْتري عبدُ الله بن شاكر، حَدَّثَنَا محمد بن بشر العَبْدي، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: قالت عائشةُ، وكانت تُحدِّث نفسها أن تُدفَن في بيتها مع رسولِ الله ﷺ وأبي بكر، فقالت: إني أحدَثتُ بعدَ رسول الله ﷺ حَدَثًا، ادفِنُوني مع أزواجه، فدُفنت بالبقيع (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6717 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود اپنے بارے میں وصیت فرمایا کرتی تھیں کہ انہیں ان کے حجرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قریب دفن کیا جائے، آپ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج کے ہمراہ جنت البقیع میں دفن ہونا ہے، چنانچہ ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6866]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6867
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن مَهدي، حَدَّثَنَا أبو بكر بن عيّاش، عن أبي حَصين، عن عبد الله بن زياد الأسَدي (2) ، قال: سمعتُ عمار بن ياسر يَحلِفُ بالله إنها زوجتُه ﷺ في الدنيا والآخرة (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6718 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دنیا اور آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں۔ ٭٭ یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6867]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6868
أخبرنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حَدَّثَنَا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حَدَّثَنَا عُبيد الله (1) بن عمر القوَاريري، حَدَّثَنَا حَرَمي بن عُمارة، حدثني الحَرِيشُ بن الخِرِّيت (2) ، حَدَّثَنَا ابن أبي مُليكة، عن عائشة أنها قالت: تُوفِّي رسولُ الله ﷺ في بيتي، وفي يومي وليلتي، وبين سَحْري ونَحْري، ودخل عبدُ الرحمن بن أبي بكر ومعه سِواكٌ من أَراكٍ رَطْبٌ، فنظر إليه رسولُ الله ﷺ فقلتُ: يا عبد الرحمن، اقضَمُه من ذلك المكان، فدفعه إلي فناولتُه إياه، فردّه إليَّ، فَقَضِمتُه وسوَّيْتُه، فدفعتُه إلى النَّبِيِّ ﷺ فتسوَّك به (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6719 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میری باری کے دن، میرے حجرے میں، میری رات میں، میرے سینے پر ہوا۔ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما حاضر بارگاہ ہوئے، ان کے پاس پیلو کی مسواک تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا، میں نے کہا: اے عبدالرحمن! اس کو وہاں سے اٹھا لیجئے، انہوں نے وہ مسواک اٹھا کر مجھے دے دی، میں نے چبا کر نرم کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مسواک استعمال فرمائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6868]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6869
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حَدَّثَنَا إسماعيل ابن عُليَّة، عن أيوب، عن ابن أبي مُليكة قال: قالت عائشةُ: مات رسولُ الله ﷺ في بيتي ويومي، وبين سحْري ونَحْري، ودخل عليه عبدُ الرحمن بن أبي بكر ومعه سِواكٌ رَطْبٌ، فنظر إليه حتَّى ظننتُ أنَّ له فيه حاجةً، فأخذتُه فمضغتُه ونَفَضْتُه وطيَّبتُه ثم دفعتُه إليه، فاستنَّ كأحسنِ ما رأيتُه مستنًّا قَطُّ، ثم ذهب يرفعُه إليَّ فسقطَتْ يدُه، فأخذتُ أدعو له بدعاءٍ كان يدعو له به جبريلُ، وكان هو يدعو به إذا مَرِضَ، فلم يَدْعُ به في مرضه ذاك، فرفع بصرَه إلى السماء وقال:"الرَّفيقَ الأعلى" وفاضَتْ نفسُه ﷺ، فالحمدُ لله الذي جمع بين رِيقي وريقِه في آخرِ يومٍ من الدنيا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6720 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میرے گھر، میرے دن، میری رات، میرے سینے پر ہوا، سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما وہاں آئے، ان کے پاس ایک تازہ مسواک تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جانب دیکھنے لگے، میں سمجھ گئی کہ آپ کا مسواک کرنے کو دل کر رہا ہے، میں نے ان سے مسواک پکڑی، اس کو چبا کر، نرم کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مسواک غیر معمولی طور پر بہت زیادہ استعمال فرمائی، میں نے اس سے پہلے آپ کو کبھی ایسے مسواک کرتے نہیں دیکھا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مسواک میری جانب بڑھائی لیکن آپ کا ہاتھ نیچے گر گیا، میں آپ کے لئے وہ دعائیں پڑھنے لگی جو سیدنا جبریل امین علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پڑھا کرتے تھے اور جو دعائیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کے عالم میں خود اپنے لئے پڑھا کرتے تھے، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیماری میں وہ دعائیں نہیں پڑھیں، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ آسمان کی جانب کیا اور کہا الرفیق الاعلی ۔ اس کے ساتھ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرواز کر گئی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کے آخری دن بھی مجھے آپ کی خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6869]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں