🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1036. ذكر وصية أم سلمة - رضي الله عنها -
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی وصیت کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6915
قال ابن عمر: حَدَّثَنَا عمر بن عثمان، عن عبد الملك بن عُبيد، عن سعيد بن عبد الرحمن بن يَربُوع، عن عمر بن أبي سَلَمة بن عبد الأَسد، قال: خرج أبي إلى أُحد، فرماه أبو أسامة الجُشَمي في عَضُدِه بسهم، فمكث شهرًا يداوي جرحَه ثم بَرَأ الجرحُ، وبعث رسول الله ﷺ أبي إلى قَطَنٍ (1) في المحرَّم على رأسِ خمسةٍ وثلاثين شهرًا، فغاب تسعًا وعشرين ليلةٌ، ثم رجعَ فدخل المدينةَ لثمانٍ خَلَونَ من صَفَر سنة أربع، والجرحُ منتقِضٌ، فمات منها لثمانٍ خلونَ من جُمادى الآخرة سنةَ أربع من الهجرة، فاعتدَّتْ أمِّي، وحلَّتْ لعشرِ ليالٍ بَقِينَ من شوال سنةَ أربع، وتزوَّجها رسولُ الله ﷺ في ليالٍ بقينَ من شوال سنةَ أربع (2) . ثم إنَّ أهل المدينة قالوا: دخلَتْ أيِّم العرب على سيِّد الإسلام والمسلمين أولَ العشاء عَروسًا، وقامت من آخر الليل تطحنُ، وهي أمُّ المؤمنين أمُّ سلمة ﵂ (3) .
عمر بن ابی سلمہ بن عبدالاسد بیان کرتے ہیں کہ میرے والد محترم جنگ احد میں گئے، ابواسامہ جشمی نے ان کے بازو میں تیر مارا، اس کے بعد ایک مہینہ تک والد صاحب نے اس زخم کا علاج کروایا، زخم بالکل ٹھیک ہو گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 35 مہینے بعد محرم الحرام میں ان کو قطن کی جانب بھیجا، آپ 29 راتیں غائب رہے، پھر واپس آ گئے، 4 ہجری 8 صفر المظفر کو آپ واپس آ گئے، ان کا زخم دوبارہ خراب ہو گیا تھا، اسی زخم کی وجہ سے 4 ہجری 8 جمادی الآخر کو وصال فرما گئے۔ پھر میری والدہ نے عدت گزاری۔ 4 ہجری کے شوال کی 20 تاریخ کو میری والدہ کی عدت پوری ہو گئی۔ سن 4 ہجری کے شوال کے ابھی دس دن رہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کر لیا۔ پھر اہل مدینہ کہا کرتے تھے عرب کی ایک خاتون اسلام اور مسلمانوں کے سردار کے پاس رات کے اول حصہ میں دلہن بن کر داخل ہوئی اور رات کے آخری حصہ میں وہ چکی پر دانے پیس رہی تھی۔ یہ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6915]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6915 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) بالتحريك كما في "مراصد الاطلاع" 3/ 1108 وقال: جبل لبني أسد، وفي "مغازي الواقديّ" 1/ 342: ماء من مياه بني أسد.
📝 نوٹ / توضیح: (لفظ 'قطن') متحرک (قَطَن) پڑھا جائے گا جیسا کہ "مراصد الاطلاع" (3/ 1108) میں ہے، مصنف کہتے ہیں: یہ بنو اسد کا ایک پہاڑ ہے، جبکہ "مغازی الواقدی" (1/ 342) میں ہے کہ یہ بنو اسد کے چشموں میں سے ایک چشمہ (پانی) ہے۔
(2) من قوله: وتزوجها رسول الله ﷺ، إلى هنا سقط من (م) و (ص).
📝 نوٹ / توضیح: عبارت "وتزوجها رسول الله ﷺ" سے لے کر یہاں تک کا حصہ نسخہ (م) اور (ص) سے ساقط ہو گیا ہے۔
والخبر أخرجه ابن سعد في "الطبقات" 3/ 221 و 10/ 85 - ومن طريقه الطبري في "تاريخه" 11/ 603 - 604 - عن الواقديّ، بهذا الإسناد. ورواية ابن سعد الأُولى فيها بعض اختلاف. وفيها: عبد الرحمن بن سعيد، بدل سعيد بن عبد الرحمن. وشيخ الواقديّ فيه - وهو عمر بن عثمان - مجهول، وكذا شيخه عبد الملك بن عبيد - وهو ابن سعيد المخزومي - مجهول الحال.
📖 حوالہ / مصدر: اس خبر کو ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 221 اور 10/ 85) میں—اور ان کے طریق سے طبری نے "تاریخ" (11/ 603-604) میں—واقدی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ابن سعد کی پہلی روایت میں کچھ اختلاف ہے، وہاں "سعید بن عبدالرحمن" کی بجائے "عبدالرحمن بن سعید" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند میں واقدی کا استاد عمر بن عثمان "مجہول" ہے، اور اسی طرح اس (عمر) کا استاد عبدالملک بن عبید (ابن سعید مخزومی) بھی "مجہول الحال" ہے۔
(3) وأخرجه ابن سعد 10/ 90 - ومن طريقه الطبري في "تاريخه" 11/ 604 - عن الواقديّ، عن كثير بن زيد، عن المطلب بن عبد الله بن حنطب قال: دخلت أيم العرب على سيّد المسلمين أول العشاء عروسًا، وقامت من آخر الليل تطحن، يعني أم سلمة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (10/ 90)—اور ان کے طریق سے طبری (11/ 604)—نے واقدی عن کثیر بن زید عن مطلب بن عبداللہ بن حنطب کی سند سے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: "عرب کی بیوہ (ام سلمہ) مسلمانوں کے سردار (رسول اللہ ﷺ) کے پاس عشاء کے اول وقت میں دلہن بن کر داخل ہوئیں اور رات کے آخری پہر اٹھ کر چکی پیسنے لگیں"۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (9955) من طريق سليمان بن بلال، عن كثير بن زيد، عن المطلب بن عبد الله، فذكره. وإسناده حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (9955) میں سلیمان بن بلال عن کثیر بن زید عن المطلب بن عبداللہ کے طریق سے ذکر کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔