🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. ذكر ستة لعنهم الله
ان چھ افراد کا ذکر جن پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7186
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه ﵀ ببغداد، حدثنا أبو داود سليمان بن الأشعث وجعفر بن محمد بن شاكر، قالا: حدثنا عفّان، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن عاصم، عن أبي وائل: أنَّ ناسًا سألوا أسامةَ بنَ زيد: أنْ كلِّمْ لنا هذا الرجلَ - يعني عثمان بن عفّان -! قال: قد كلَّمناه ما دون أن نفتحَ بابًا أن لا نكونَ أولَ من فتحه، ما أقول: أمراؤُكم خِياركم، بعد شيءٍ سمعتُه من رسول الله ﷺ؛ سمعت رسول الله ﷺ يقول:"يُؤتَى بالوالي الذي كان يُطاع في معصية الله ﷿، فيُؤْمَرُ به إلى النار، فيُقذَفُ فيها فتندَلِقُ به أقتابُه - يعني أمعاءَه فيستديرُ فيها كما يستديرُ الحِمارُ في الرَّحى، فيأتي عليه أهلُ طاعته من الناس فيقولون له أيْ فُلُ، أين ما كنتَ تأمرنا؟! فيقول: كنتُ آمرُكم بأمرٍ وأخالفُكم إلى غيرِه" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7010 - صحيح
ابووائل فرماتے ہیں: کچھ لوگوں نے سیدنا اسامہ بن زید سے گزارش کی کہ وہ اس آدمی (یعنی سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ) سے مذاکرات کریں، سیدنا اسامہ نے کہا: ہم نے دروازہ کھلوائے بغیر ہی ان سے مذاکرات کر لئے ہیں، تاکہ وہ سب سے پہلے دروازہ کھولنے والے قرار نہ پائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد سننے کے بعد میرا موقف یہ نہیں ہے کہ تمہارے امراء ہی تم سب سے بہتر ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ (قیامت کے دن) ایسے حکمران کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا جو لوگوں کو اچھے عمل کا حکم دیتا تھا اور خود اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا تھا، اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اس کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ جہاں پر اس کی انتڑیاں پھٹ جائیں گی اور وہ ان میں ایسے گھومے گا جیسے گدھا چکی میں گھومتا ہے پھر اس کے پاس وہ لوگ آئیں گے جو اس کی اطاعت کیا کرتے تھے، وہ کہیں گے: اے فلاں شخص! وہ اعمال کہاں ہیں جن کا تو ہمیں حکم دیا کرتا تھا، وہ کہے گا: میں تمہیں ایک کام کا حکم دیتا تھا اور خود اس کے خلاف عمل کیا کرتا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7186]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7186 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم - وهو ابن أبي النجود - فهو صدوق حسن الحديث، وقد توبع - عفّان: هو ابن مسلم الصَّفّار، وأبو وائل: هو شقيق بن سلمة الأسدي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ 'صحیح' حدیث ہے اور اس کی سند 'حسن' ہے کیونکہ عاصم بن ابی النجود 'صدوق' ہیں اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں 'عفان' سے مراد عفان بن مسلم الصفار ہیں اور 'ابو وائل' سے مراد (جلیل القدر تابعی) شقیق بن سلمہ الاسدی ہیں۔
وأخرجه أحمد 36 (21794) عن عبد الصمد بن عبد الوارث، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (36/21794) نے عبدالصمد بن عبدالوارث عن حماد بن سلمہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (21784) و (21800) و (21819)، والبخاري (3267) و (7098)، ومسلم (2989) من طريق الأعمش، عن أبي وائل، به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه. وأخرجه أحمد بإثر الرواية (21819) من طريق منصور بن المعتمر، عن أبي وائل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (21784)، (21800) اور (21819) میں، امام بخاری نے (3267) اور (7098) میں، اور امام مسلم نے (2989) میں الاعمش (سلیمان بن مہران) عن ابی وائل (شقیق بن سلمہ) کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: امام مسلم کی تخریج کے باوجود امام حاکم کا اس حدیث پر استدراک کرنا ان کی 'ذہول' (بھول) ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: امام احمد نے روایت نمبر (21819) کے بعد اسے منصور بن المعتمر عن ابی وائل کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7186 in Urdu