🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. قاضيان فى النار وقاض فى الجنة
دو قاضی جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7188
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا شِهاب بن عبّاد، حدثنا عبد الله بن بُكير، عن حَكيم بن جُبير، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، عن النبيِّ ﷺ قال:"القضاةُ ثلاثةٌ: قاضيانِ في النار، وقاضٍ في الجنة: قاضٍ عَرَفَ الحقَّ فقضَى به فهو في الجنة، وقاضٍ عَرَفَ الحقَّ فجارَ متعمِّدًا فهو في النَّار، وقاض قَضَى بغير علمٍ فهو في النَّار" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسنادٍ صحيح على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7012 - ابن بكير الغنوي منكر الحديث قال وله شاهد صحيح
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں، ان میں سے دو قسم کے قاضی دوزخی ہیں اور ایک جنتی۔ * ایسا قاضی جس نے حقیقت حال کو جانا اور اس کے مطابق انصاف پر مبنی فیصلہ کیا۔ یہ قاضی جنتی ہے۔ * ایسا قاضی جو حقیقت حال کو جانتا ہے اور جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرتا ہے۔ یہ قاضی دوزخی ہے۔ * ایسا قاضی جو بے حقیقت حال جانے بغیر فیصلہ کرتا ہے۔ یہ قاضی بھی دوزخی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے اور وہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7188]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، بطرقه وشواهده كما هو مبيَّن في تعليقنا على "سنن أبي داود" برقم (3573). وإسناد الحاكم هنا ضعيف من أجل عبد الله بن بكير وحكيم بن جبير، لكنهما قد توبعا.»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7188 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح بطرقه وشواهده كما هو مبيَّن في تعليقنا على "سنن أبي داود" برقم (3573). وإسناد الحاكم هنا ضعيف من أجل عبد الله بن بكير وحكيم بن جبير، لكنهما قد توبعا.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث اپنے طرق اور شواہد کی بنیاد پر 'صحیح' ہے، جیسا کہ ہم نے "سنن ابی داود" (3573) کے حاشیے میں واضح کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کی یہاں پیش کردہ سند عبد اللہ بن بکیر اور حکیم بن جبیر کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن ان دونوں کی 'متابعت' (تائید) موجود ہے۔
وأخرجه أبو داود (3573)، وابن ماجه (2315)، والنسائي (5891) من طريق أبي هاشم الرماني، عن عبد الله بن بريدة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داود (3573)، ابن ماجہ (2315) اور نسائی (5891) نے ابو ہاشم الرمانی عن عبد اللہ بن بریدہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: اگلی روایت بھی ملاحظہ فرمائیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7188 in Urdu