🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. جَوَازُ أَكْلِ الْمَيْتَةِ عِنْدَ الْإِضْرَارِ
مجبوری کی حالت میں مردار کھانے کا جواز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7334
حدثنا أبو بكر بن إسحاق إملاءً، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى. وأخبرني أحمد بن محمد بن صالح السَّمَرقندي، حدثنا محمد بن نصر، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا خارجة، عن ثَور بن يزيد، عن راشد بن سعد، عن سَمُرة بن جُندب، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"إذا رَوَّيْتَ أهلَك من اللَّبن غَبُوقًا، فاجتنِبْ ما نهى اللهُ عنه من مَيْتَةٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وله أصلٌ بإسناد صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7157 - صحيح
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے گھر والوں کو شام کے وقت دودھ پلا کر سیر کر سکو، تو پھر اللہ کی حرام کردہ چیزوں یعنی مردار سے اجتناب کرو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی اصل شیخین کی شرط پر صحیح اسناد کے ساتھ موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7334]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، خارجة» [ترقيم الرساله 7334] [ترقيم الشركة 7253] [ترقيم العلميه 7157]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7334 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا، خارجة - وهو ابن مصعب الخراساني - متروك، ولم يتنبَّه لذلك الذهبيُّ في "تلخيصه".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی خارجہ بن مصعب الخراسانی "متروک" ہے، اور امام ذہبی "تلخیص" میں اس پر متنبہ نہیں ہو سکے۔
وأخرجه البيهقي 9/ 357 من طريق داود بن الحسين، عن يحيى بن يحيى، بهذا الإسناد. وفيه يقول ثور: عن راشد بن سعد وأعطاني كتابًا عن سمرة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے 9/ 357 میں داود بن الحسین از یحییٰ بن یحییٰ کے طریق سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس میں ثور (بن یزید) کہتے ہیں کہ انہوں نے راشد بن سعد سے روایت کی جنہوں نے مجھے حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی ایک کتاب (لکھا ہوا نسخہ) عطا کی تھی۔
وأخرج الطبراني في "الكبير" (7028) و (7046) من طريق جعفر بن سعد بن سمرة، عن خبيب بن سليمان بن سمرة، عند أبيه، عن جده سمرة، ضمن حديث طويل، وفيه: "إذا روَّيت أهلك غبوقًا من اللبن فاجتنب ما حُرِّم عليك من الطعام"، وفي سنده غير واحد ضعيف ومجهول.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" (7028) اور (7046) میں جعفر بن سعد بن سمرہ از خبیب بن سلیمان بن سمرہ از سلیمان بن سمرہ از حضرت سمرہ بن جندب کے طریق سے ایک طویل حدیث میں روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند میں ایک سے زائد راوی ضعیف اور مجہول ہیں۔
وأخرج الطبري في "تفسيره" 6/ 87 من طريق ابن إسحاق، حدثني عمر بن عبد الله بن عروة، عن جدِّه عروة بن الزبير، عمَّن حدَّثه: أنَّ رجلًا من الأعراب أتى النبيَّ ﷺ، فذكر حديثًا ثم سأله الأعرابي: ما غنايَ الذي أدعُه إذا وجدته؟ فقال النبي ﷺ: "إذا أروَيتَ أهلك غَبوقًا من الليل، فاجتنِبْ ما حرَّم اللهُ عليك من طعام". وسنده ضعيف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبری نے اپنی تفسیر 6/ 87 میں ابن اسحاق از عمر بن عبد اللہ از عروہ بن زبیر از ایک مبهم شخص کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے (مبہم راوی کی وجہ سے)۔
وانظر ما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: اگلی روایت بھی دیکھ لیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7334 in Urdu