المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. كل عند أخيك ولا تسأله عن الشيء
اپنے بھائی کے ہاں کھانا کھاؤ اور (زیادہ) سوال نہ کرو
حدیث نمبر: 7336
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا الحسن بن علي بن شَبيب المَعمَري، حدثنا الهيثم بن خارجة، حدثنا المُعافَى بن عِمران، عن أبي بكر بن عبد الله بن أبي مريم، عن ضَمْرة بن حبيب، عن أم عبد الله (1) أختِ شدَّاد بن أوس: أنها بعثت إلى النبيِّ ﷺ بقَدَحِ لبنٍ عند فِطْرِه، وذلك في طول النهار وشدَّة الحرِّ، فردَّ إليها الرسولَ: ["أنَّى لكِ هذا اللَّبنُ؟" قالت: من شاةٍ لي، قال] (2) :"أنَّى لكِ هذه الشاةُ؟" قالت: اشتريتُها من مالي، فشَرِبَ، فلمّا أن كان من الغد، أتت أمُّ عبد الله رسولَ الله ﷺ، فقالت: يا رسولَ الله، بعثتُ إليك بذلك اللَّبن مَرْثِيَةً لك من شدّةِ الحرِّ وطولِ النهار، فرَدَدتَ إليَّ فيه الرسولَ، فقال النبيُّ ﷺ:"بذلكِ أُمِرَتِ الرسلُ ألَّا تأكلَ إلَّا طيّبًا، ولا تعملَ إلَّا صالحًا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7159 - ابن أبي مريم واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7159 - ابن أبي مريم واه
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی بہن ام عبداللہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں دودھ کا پیالہ نذر بھیجا اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، وہ دن بھی بہت لمبا تھا اور گرمی بھی بہت شدید تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس بھیجا اور پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا؟ انہوں نے بتایا کہ میری اپنی بکری کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھوایا کہ وہ بکری تم نے کہاں سے لی؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنے مال سے خریدی تھی۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پی لیا۔ اگلے دن ام عبداللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئیں تو عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کا دن بہت لمبا تھا اور گرمی بھی بہت سخت تھی (آپ روزے سے بھی تھے) اس لئے میں نے آپ کی ہمدردی کے طور پر آپ کی خدمت میں دودھ کا نذرانہ پیش کیا تھا، لیکن آپ نے وہ واپس بھیج دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رسولوں کو یہی حکم دیا جاتا ہے کہ وہ صرف حلال چیز کھائیں اور صرف نیک عمل کریں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7336]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7336 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وقع في نسخنا الخطية: أم عبد الله بن أخت شداد، وهو خطأ.
📌 اہم نکتہ: ہمارے قلمی نسخوں میں "ام عبد اللہ بن اخت شداد" لکھا ہے جو کہ غلطی ہے۔
(2) ما بين المعقوفين لم يرد في نسخنا الخطية، وأثبتناه من المطبوع ومصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ کے درمیان والی عبارت قلمی نسخوں میں نہیں تھی، اسے مطبوعہ نسخوں اور مصادرِ تخریج کی مدد سے شامل کیا گیا ہے۔
(3) إسناده ضعيف من أجل أبي بكر بن أبي مريم، وبه أعله الذهبي في "التلخيص"، فقال: ابن أبي مريم واهٍ.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ابو بکر بن ابی مریم کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ذہبی نے اسے "التلخیص" میں ابن ابی مریم کی وجہ سے معلول (عیب دار) قرار دیتے ہوئے انہیں "واہی" (نہایت کمزور) کہا ہے۔
وأخرجه ابن أبي الدنيا في "كتاب الورع" (116)، وعبد الله بن أحمد في زوائد "الزهد" (2357) - ومن طريقه الطبراني في "مسند الشاميين" (1488)، وأبو نعيم في "الحلية" 6/ 105 - عن الهيثم بن خارجة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی الدنیا (116)، عبد اللہ بن احمد (زوائد الزہد: 2357)، طبرانی (مسند الشامیین: 1488) اور ابو نعیم نے (الحلیہ: 6/ 105) میں ہیثم بن خارجہ کے طریق سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔
ووقع في مطبوع الزهد زيادة "حدثني أبي" فصار الحديث من رواية أحمد، وهو خطأ، وقال أبو نعيم عقبه: هذه الأحاديث غرائب من حديث ضمرة، تفرَّد بها أبو بكر بن أبي مريم عنه.
📝 نوٹ / توضیح: کتاب الزہد کے مطبوعہ نسخے میں "حدثنی ابی" کا اضافہ ہو گیا ہے جس سے یہ امام احمد کی روایت لگتی ہے، حالانکہ یہ غلط ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو نعیم نے صراحت کی ہے کہ ضمرہ (بن حبیب) کی یہ احادیث "غریب" ہیں اور ابن ابی مریم ان کے نقل کرنے میں تنہا ہیں۔
وأخرجه ابن أبي خيثمة في السفر الثاني من "التاريخ الكبير" (3264) و (3611) عن محمد ابن جعفر الوركاني، عن المعافى بن عمران، به مختصرًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی خیثمہ نے "التاریخ الکبیر" (3264، 3611) میں محمد بن جعفر الورکانی از معافی بن عمران کے طریق سے مختصراً روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (3348)، والطبراني في "الكبير" 25/ (428)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (7981) من طريق الوليد بن مسلم، والطبراني في "الشاميين" (1488) من طريق عيسى بن يونس، كلاهما عن أبي بكر بن أبي مريم، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم، طبرانی (الکبیر: 25/ 428) اور ابو نعیم نے ولید بن مسلم کے طریق سے، جبکہ طبرانی نے (الشامیین: 1488) میں عیسیٰ بن یونس کے طریق سے روایت کیا ہے، دونوں ابن ابی مریم سے روایت کرتے ہیں۔
ومع قول أبي نعيم المتقدم في "الحلية" بأنه تفرد به ابن أبي مريم، قال في "معرفة الصحابة" عقبه: ورواه عبد الله بن صالح، عن معاوية بن صالح، عن ضمرة نحوه! ولم نقف على هذا الطريق حتى نعرف صحته ولفظ متنه، ومع ذلك فيه عبد الله بن صالح - وهو كاتب الليث - وهو سيئ الحفظ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو نعیم نے الحلیہ میں اسے ابن ابی مریم کا تفرد کہا تھا، مگر "معرفۃ الصحابہ" میں انہوں نے عبد اللہ بن صالح از معاویہ بن صالح کا طریق بھی ذکر کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ہمیں یہ طریق (معاونیہ والا) نہیں ملا تاکہ صحت پر حکم لگا سکیں، مزید یہ کہ عبد اللہ بن صالح (کاتب اللیث) خود بھی "سیئی الحفظ" (کمزور حافظے والے) ہیں۔
ويغني عنه حديث أبي هريرة عند مسلم (1015) وغيره مرفوعًا: "أيها الناس إنَّ الله طيبٌ لا يقبل إلّا طيبًا، وأنَّ الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال: ﴿يَاأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴾ وقال: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾ … " الحديث.
🧩 متابعات و شواہد: اس روایت کی جگہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث کافی ہے جو امام مسلم (1015) اور دیگر محدثین کے ہاں مرفوعاً مروی ہے کہ: "اے لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے اور صرف پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتا ہے، اور اللہ نے مومنوں کو اسی چیز کا حکم دیا ہے جس کا حکم رسولوں کو دیا، چنانچہ فرمایا: {اے رسولوں! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو...} اور فرمایا: {اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ...}" (الحدیث)۔
قولها: "مَرثيَةً لك" أي: توجُّعًا وإشفاقًا، مِن رَثَى له: إذا رقَّ وتوجَّع، وهي من أبنية المصادر، نحو المغفرة والمعذرة. قاله صاحب "النهاية" (رثي).
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: لغوی تشریح: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول "مَرثیۃً لک" درد مندی اور شفقت کے اظہار کے لیے ہے، یہ "رثی لہ" سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے کسی کے لیے دل نرم ہونا اور دکھ محسوس کرنا۔ "النہایہ" (مادہ: رثی) کے مصنف ابن الاثیر کے مطابق یہ مصدر کی ابنیہ میں سے ہے جیسے "المغفرۃ" اور "المعذرۃ" کے اوزان ہیں۔