المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. كل عند أخيك ولا تسأله عن الشيء
اپنے بھائی کے ہاں کھانا کھاؤ اور (زیادہ) سوال نہ کرو
حدیث نمبر: 7337
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أَسد بن موسى، حدثنا مسلم بن خالد، حدثني زيد بن أسلم، عن سُمَيّ، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا دخلَ أحدُكم على أخيه فأطعَمَه طعامًا، فليأكُلْ منه ولا يَسأَلْه عنه، وإن سَقَاه شرابًا فليشرَبْ منه ولا يَسألْ عنه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط مسلم وحدَه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7160 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط مسلم وحدَه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7160 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم اپنے کسی بھائی کے پاس جاؤ، وہ اس کو کھانا پیش کرے تو اس کو چاہیے کہ اس میں سے کھا لے اور اس سے (تفصیل) نہ پوچھے (کہ یہ کھانا حلال کمائی سے بنایا گیا ہے یا حرام سے) اور جو مشروب پیش کرے وہ پی لے اور اس سے کوئی تحقیق نہ کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7337]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7337 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، مسلم بن خالد - وهو الزنجي - ضعيف. سُمَي: هو القرشي المخزومي مولاهم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کا راوی مسلم بن خالد (جو کہ الزنجی کے لقب سے مشہور ہیں) ضعیف ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: یہاں "سُمَی" سے مراد القرشی المخزومی (مولیٰ آل ابی بکر) ہیں۔
وأخرجه أحمد 15/ (9184) عن حسين بن محمد، عن مسلم بن خالد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 15/ (9184) میں حسین بن محمد از مسلم بن خالد الزنجی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔