المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
42. النهي الواضح عن تحصين الحيطان والنخيل
دیواروں اور کھجور کے درختوں کو (لوگوں سے) محفوظ کرنے (روکنے) کی واضح ممانعت
حدیث نمبر: 7369
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهران حدثنا أبو همَّام محمد بن مُحبَّب (1) ، حدثنا سفيان، عن يونس، عن زياد بن جُبير، عن سعد بن أبي وقّاص قال: قالت امرأةٌ: يا رسول الله، إنا كلٌّ على آبائنا وإخوانِنا، فما يَحِلّ لنا من أموالِهم؟ قال: رَطْبُ ما تأكلينَ وتُهدِينَ" (2) . حديث عبد السلام بن حرب صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا دارومدار اپنے باپ، بیٹوں اور بھائیوں پر ہوتا ہے، ان کے مال میں سے ہمارے لئے کیا جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رطب کھجوریں جو تم خود بھی کھا سکتی ہو اور کسی کو ہدیہ بھی دے سکتی ہو۔ ٭٭ عبدالسلام بن حرب کی روایت کردہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7369]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7369 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: حبيب.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "حبیب" ہو گیا ہے۔
(2) لا بأس برجاله على اختلاف كما سبق بيانه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے راویوں میں کوئی حرج نہیں (یعنی وہ قابلِ قبول ہیں)، باوجود اس اختلاف کے جس کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے۔
وأخرجه البزار (1241)، وأبو أحمد العسكري في "تصحيفات المحدثين" 1/ 321 - 322 من طريق محمد بن محبب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام بزار (1241) اور ابو احمد العسکری نے "تصحيفات المحدثين" 1/ 321-322 میں محمد بن محبب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔