🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. إن الله يحب أن يرى أثر نعمته على عبده
بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند فرماتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7370
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا الحسن بن علي بن بحر البَرِّي، حدثنا أَبي، حدثنا سُوَيد بن عبد العزيز، حدثنا محمد بن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد المَقْبُري، عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال:"إنَّ الله تعالى لَيُدخِلُ بلُقْمة الخُبز وقبضةِ التمرِ ومثلِه مما يَنفَعُ المسكينَ ثلاثةً الجنَّةَ: الآمر به، والزوجة المُصلحةَ، والخادمَ الذي يُناوِلُ المسكينَ"، وقال رسول الله ﷺ:"الحمدُ الله الذي لم ينسَ خَدَمَنا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7187 - سويد بن عبد العزيز متروك
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ صرف ایک لقمے کے بدلے میں، صرف ایک مٹھی کھجوروں کے بدلے میں اور اسی طرح کی کوئی چیز جو مسکینوں کے لئے نفع بخش ہو، کے بدلے میں تین آدمیوں کو جنت عطا کر دیتا ہے۔ اس کام کا حکم دینے والے کو، اس بیوی کو جو یہ تیار کرتی ہے، اور اس خادم کو جو یہ طعام وغیرہ مساکین تک پہنچاتا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس اللہ کا شکر ہے جو ہماری خدمات کو بھولتا نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7370]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7370 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف سويد بن عبد العزيز، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه" فقال: سويد متروك! وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (5309)، وابن شاهين في "الترغيب في فضائل الأعمال" (376)، وابن الفاخر السمرقندي في موجبات الجنة" (229)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 54/ 360 من طرق عن سويد بن عبد العزيز، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سوید بن عبد العزیز کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ذہبی نے "تلخیص" میں اسی وجہ سے اس پر علت لگاتے ہوئے کہا ہے کہ: "سوید متروک ہے!" 📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الأوسط" (5309)، ابن شاہین نے "الترغيب في فضائل الأعمال" (376)، ابن الفاخر السمرقندی نے "موجبات الجنة" (229) اور ابن عساکر نے "تاریخِ دمشق" 54/ 360 میں سوید بن عبد العزیز کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔