المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. الوالد أوسط أبواب الجنة
والد جنت کے دروازوں میں سے بہترین (درمیان والا) دروازہ ہے
حدیث نمبر: 7439
أخبَرناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن: أنَّ رجلًا أمَرَه أبَوَاه - أو أحدُهما - أن يُطلِّقَ امرأتَه، فجعل ألفَ محرَّر - أو قال: مئة محرَّر (2) - وماله هَدْيًا إن فَعَلَ، فأتى أبا الدرداء، فذكر أنه صلَّى الضُّحى ثم سأله فقال: أَوْفِ بنَذْرك، وبِرَّ والدَيكَ، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الوالدُ أوسَطُ أبواب الجنَّة"، فإن شئتَ فحافِظْ على الباب أو اترُكْ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7252 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7252 - صحيح
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو اس کے والدین یا ان میں سے کسی ایک نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا، اس نے اس کام پر ایک ہزار یا سو غلام آزاد کرنے کی نذر مانی اور اپنا مال ہدیہ کرنے کا عہد کیا، پھر وہ ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو اور اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”والد جنت کے دروازوں میں سے سب سے بہترین درمیانی دروازہ ہے“، اب تمہاری مرضی ہے کہ اس دروازے کی حفاظت کرو یا اسے چھوڑ دو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7439]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7439]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات كسابقه،» [ترقيم الرساله 7439] [ترقيم الشركة 7348] [ترقيم العلميه 7252]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات كسابقه
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7439 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) المثبت من (م)، وتحرَّف في (ز) و (ص) إلى: ألف محررًا ومال مئة محرر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) نسخہ (م) سے متن ثابت کیا گیا ہے، جبکہ (ز) اور (ص) میں یہ تحریف ہو کر "ایک ہزار آزاد کردہ" اور "ایک سو آزاد کردہ کا مال" ہو گیا ہے۔
(3) رجاله ثقات كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کے رجال بھی پچھلی سند کی طرح ثقہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 36/ (21717)، وابن ماجه (2089) من طريق محمد بن جعفر، عن شعبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (21717/36) اور ابن ماجہ (2089) نے محمد بن جعفر کے طریق سے، شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7439 in Urdu