🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. الوالد أوسط أبواب الجنة
والد جنت کے دروازوں میں سے بہترین (درمیان والا) دروازہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7440
أخبرني الحسن بن حَليم (4) المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرني ابن أبي ذئب، حدثني خالي الحارث بن عبد الرحمن، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، عن أبيه قال: كانت تحتي امرأةٌ تُعجبني، وكان عمرُ يكرهُها، فقال لي: طلِّقْها، فأَبيتُ، فأتى عمرُ رسولَ الله ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، إنَّ عند عبد الله بن عمر امرأةً قد كرهتُها، فأمرتُه أن يُطلِّقَها فأَبى، فقال لي رسول الله ﷺ:"يا عبدَ الله بنَ عمر، طلِّقِ امرأتَك، وأطِعْ أباك"، قال عبدُ الله: فطلَّقتُها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7253 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میرے نکاح میں ایک ایسی خاتون تھی جو مجھے پسند تھی، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے ناپسند کرتے تھے، انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اسے طلاق دے دو، میں نے انکار کر دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک عورت ہے جسے میں ناپسند کرتا ہوں، میں نے اسے طلاق دینے کا کہا تو اس نے انکار کر دیا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبداللہ بن عمر! اپنی بیوی کو طلاق دے دو اور اپنے باپ کی اطاعت کرو، عبداللہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اسے طلاق دے دی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7440]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد،من أجل الحارث بن عبد الرحمن أبو الموجه هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، وابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة بن الحارث العامري» [ترقيم الرساله 7440] [ترقيم الشركة 7349] [ترقيم العلميه 7253]

الحكم على الحديث: إسناده جيد
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7440 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: حكيم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (4) قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "حکیم" ہو گیا ہے۔
(1) إسناده جيد من أجل الحارث بن عبد الرحمن أبو الموجه هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، وابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة بن الحارث العامري
⚖️ درجۂ حدیث: (1) حارث بن عبدالرحمٰن کی وجہ سے اس کی سند جید ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو الموَجَّہ سے مراد محمد بن عمرو الفزاری ہیں، عبدان سے مراد عبداللہ بن عثمان المروزی ہیں، عبداللہ سے مراد ابن المبارک ہیں، اور ابن ابی ذئب سے مراد محمد بن عبدالرحمٰن بن المغیرہ بن الحارث العامری ہیں۔
وأخرجه الترمذي (1189) عن أحمد بن محمد، عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے ترمذی (1189) نے احمد بن محمد سے، انہوں نے عبداللہ بن المبارک سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 8/ (4711) و 9 / (5011) و (5144) و 10 / (6470)، وأبو داود (5138)، وابن ماجه (2088)، والنسائي (5631)، وابن حبان (426) و (427) من طرق عن ابن أبي ذئب به. وقال الترمذي: حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (8/ 4711، 9/ 5011، 5144 اور 10/ 6470)، ابو داؤد (5138)، ابن ماجہ (2088)، نسائی (5631) اور ابن حبان (426 اور 427) نے مختلف طرق سے ابن ابی ذئب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7440 in Urdu